@huyenchaucongchua90: Mắm tôm chuẩn vị Bắc - đặc sản Thanh Hoá đây ạ #xuhuong #huyenchaucongchua #mamtombalang

huyenchaucongchua90
huyenchaucongchua90
Open In TikTok:
Region: VN
Saturday 02 August 2025 11:45:46 GMT
4943
20
5
10

Music

Download

Comments

hoadaiduon
Gia dụng nhà Hoa :
Ngon lắm luôn chị
2026-05-19 11:28:13
0
laihuongthao
Lại Hương Thảo :
Nhìn mắm tôm là thấy ngon rùi!!'
2025-08-02 15:42:32
0
trangnhung712
Trang Nhung :
😂😂😂
2026-01-22 15:33:35
0
trangnhung712
Trang Nhung :
😁😁😁
2026-01-22 15:33:36
0
To see more videos from user @huyenchaucongchua90, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

امام حسین بن علی اور حبیب بن مظاہر اسدی کے درمیان خط کا واقعہ محبت، وفاداری اور قربانی کی ایک مشہور روایت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ 🏜️ واقعہ کیا تھا؟ جب امام حسینؑ کربلا میں محاصرہ میں تھے اور حالات انتہائی سخت ہو چکے تھے، تو آپؑ نے اپنے پرانے دوست اور وفادار ساتھی حبیب بن مظاہرؓ کو ایک خط بھیجا۔ اس خط میں انہیں اپنی مدد کے لیے بلایا۔ روایات کے مطابق خط کا مفہوم کچھ اس طرح بیان کیا جاتا ہے: “بسم اللہ الرحمن الرحیم اے حبیب! تم جانتے ہو کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے اہلِ بیت ہیں۔ دشمن نے ہمیں کربلا میں گھیر لیا ہے۔ اگر تم ہماری مدد کر سکتے ہو تو ہمارے پاس آ جاؤ۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا اجر عطا فرمائے گا۔” جب حبیب بن مظاہرؓ کو یہ پیغام ملا تو وہ بہت متاثر ہوئے۔ روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے خط کو بوسہ دیا، آنکھوں سے لگایا اور کہا: “حسینؑ نے مجھے یاد کیا ہے، میں کیسے نہ جاؤں؟” پھر وہ رات کے وقت کوفہ سے نکلے اور چھپتے ہوئے کربلا پہنچ گئے، جہاں امام حسینؑ نے ان کا استقبال فرمایا۔ حبیبؓ نے وفاداری کے ساتھ آخری وقت تک ساتھ دیا اور 10 محرم 61 ہجری کو کربلا میں شہید ہو گئے
امام حسین بن علی اور حبیب بن مظاہر اسدی کے درمیان خط کا واقعہ محبت، وفاداری اور قربانی کی ایک مشہور روایت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ 🏜️ واقعہ کیا تھا؟ جب امام حسینؑ کربلا میں محاصرہ میں تھے اور حالات انتہائی سخت ہو چکے تھے، تو آپؑ نے اپنے پرانے دوست اور وفادار ساتھی حبیب بن مظاہرؓ کو ایک خط بھیجا۔ اس خط میں انہیں اپنی مدد کے لیے بلایا۔ روایات کے مطابق خط کا مفہوم کچھ اس طرح بیان کیا جاتا ہے: “بسم اللہ الرحمن الرحیم اے حبیب! تم جانتے ہو کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے اہلِ بیت ہیں۔ دشمن نے ہمیں کربلا میں گھیر لیا ہے۔ اگر تم ہماری مدد کر سکتے ہو تو ہمارے پاس آ جاؤ۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا اجر عطا فرمائے گا۔” جب حبیب بن مظاہرؓ کو یہ پیغام ملا تو وہ بہت متاثر ہوئے۔ روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے خط کو بوسہ دیا، آنکھوں سے لگایا اور کہا: “حسینؑ نے مجھے یاد کیا ہے، میں کیسے نہ جاؤں؟” پھر وہ رات کے وقت کوفہ سے نکلے اور چھپتے ہوئے کربلا پہنچ گئے، جہاں امام حسینؑ نے ان کا استقبال فرمایا۔ حبیبؓ نے وفاداری کے ساتھ آخری وقت تک ساتھ دیا اور 10 محرم 61 ہجری کو کربلا میں شہید ہو گئے

About