@amaadiniggyofficial: #oman🇴🇲 #salalah🇴🇲 #amaadiniggy #tik_tok

amaadi Niggy 🇸🇴🇴🇲🇪🇺
amaadi Niggy 🇸🇴🇴🇲🇪🇺
Open In TikTok:
Region: OM
Monday 11 August 2025 06:20:58 GMT
14506
195
1
23

Music

Download

Comments

gannibootan
Ganni bootan :
👌👌👌👌🤣🤣🤣🤣👌👌👀👀👀👀👀🤔🤔
2025-08-12 12:32:41
0
To see more videos from user @amaadiniggyofficial, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

​خواجہ غلام فریدؒ برصغیر پاک و ہند کے عظیم صوفی شاعر، مفسرِ قرآن اور چشتی صسلسلے کے ممتاز بزرگ ہیں۔ آپ کی شاعری اور تعلیمات نے روایتی تنگ نظر، فرقہ واریت اور مادہ پرستی کے خلاف عشقِ الٰہی، رواداری اور وحدتِ الہی کا پیغام عام کیا۔ ​تعلیمی و فکری پس منظر ​خواجہ غلام فریدؒ کی تعلیم و تربیت خالص صوفیانہ اور روحانی ماحول میں ہوئی۔  ​خواجہ غلام فریدؒ کی زندگی کا بنیادی مقصد انسان کو اس کی اصل روح سے روشناس کرانا اور مادی دنیا کی ظاہری چمک دمک سے ہٹا کر عشقِ حقیقی کی طرف لانا تھا۔ آپ کی زندگی کے مقاصد درج ذیل نکات کے تحت سمجھے جا سکتے ہیں: ​عشقِ حقیقی اور وحدتِ الٰہی کا فروغ: آپ کی زندگی کا اصل ہدف انسان کے دل میں خالقِ کائنات کی محبت کو اجاگر کرنا تھا۔ آپ نے سکھایا کہ عبادت صرف خوف یا جنت کی لالچ میں نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اس کی بنیاد خالص محبت اور عشق پر ہونی چاہیے۔ ​رواداری، امن اور اخوت: آپ کی تعلیمات کسی خاص مذہب، ذات یا طبقے تک محدود نہیں تھیں۔ آپ نے ذات پات، رنگ و نسل اور مذہب کی تفریق کے بغیر تمام انسانوں سے محبت کا درس دیا۔ آپ کے مریدوں اور چاہنے والوں میں ہر مذہب کے لوگ شامل تھے۔ ​ظاہری رسومات سے بالاتر ہو کر روح کی پاکیزگی: آپ کا مقصد معاشرے میں پھیلی ہوئی ریاکاری، مذہبی تعصب اور روایتی تنگ نظری کا خاتمہ کرنا تھا۔ آپ نے اس بات پر زور دیا کہ اصل دین دل کی صفائی اور خلقِ خدا کی خدمت ہے۔ ​سرائیکی زبان و ثقافت کے ذریعے پیغامِ حق: آپ نے اپنے روحانی افکار کو عام فہم بنانے کے لیے سرائیکی (کافی) کو ذریعہ بنایا۔ آپ کی کافیوں نے نہ صرف روح کو تسکین دی بلکہ سرائیکی شاعری کو دنیا بھر میں بلندی عطا کی۔ آپ کے کلام  سے انسان کی روح میں امید اور صحراے چولستان کی مٹی کی خوشبو کی محبت کے ساتھ الٰہی عشق کی گہرائی ملتی ہے۔ ​خواجہ غلام فریدؒ نے 24 جولائی 1901ء (1319ھ) کو وفات پائی۔ آپ کا مزارِ پرانوار کوٹ مٹھن راجن پور  میں ہے، جہاں ہر سال عرس کے موقع پر دنیا بھر سے عقیدت مند حاضری دیتے ہیں۔
​خواجہ غلام فریدؒ برصغیر پاک و ہند کے عظیم صوفی شاعر، مفسرِ قرآن اور چشتی صسلسلے کے ممتاز بزرگ ہیں۔ آپ کی شاعری اور تعلیمات نے روایتی تنگ نظر، فرقہ واریت اور مادہ پرستی کے خلاف عشقِ الٰہی، رواداری اور وحدتِ الہی کا پیغام عام کیا۔ ​تعلیمی و فکری پس منظر ​خواجہ غلام فریدؒ کی تعلیم و تربیت خالص صوفیانہ اور روحانی ماحول میں ہوئی۔ ​خواجہ غلام فریدؒ کی زندگی کا بنیادی مقصد انسان کو اس کی اصل روح سے روشناس کرانا اور مادی دنیا کی ظاہری چمک دمک سے ہٹا کر عشقِ حقیقی کی طرف لانا تھا۔ آپ کی زندگی کے مقاصد درج ذیل نکات کے تحت سمجھے جا سکتے ہیں: ​عشقِ حقیقی اور وحدتِ الٰہی کا فروغ: آپ کی زندگی کا اصل ہدف انسان کے دل میں خالقِ کائنات کی محبت کو اجاگر کرنا تھا۔ آپ نے سکھایا کہ عبادت صرف خوف یا جنت کی لالچ میں نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اس کی بنیاد خالص محبت اور عشق پر ہونی چاہیے۔ ​رواداری، امن اور اخوت: آپ کی تعلیمات کسی خاص مذہب، ذات یا طبقے تک محدود نہیں تھیں۔ آپ نے ذات پات، رنگ و نسل اور مذہب کی تفریق کے بغیر تمام انسانوں سے محبت کا درس دیا۔ آپ کے مریدوں اور چاہنے والوں میں ہر مذہب کے لوگ شامل تھے۔ ​ظاہری رسومات سے بالاتر ہو کر روح کی پاکیزگی: آپ کا مقصد معاشرے میں پھیلی ہوئی ریاکاری، مذہبی تعصب اور روایتی تنگ نظری کا خاتمہ کرنا تھا۔ آپ نے اس بات پر زور دیا کہ اصل دین دل کی صفائی اور خلقِ خدا کی خدمت ہے۔ ​سرائیکی زبان و ثقافت کے ذریعے پیغامِ حق: آپ نے اپنے روحانی افکار کو عام فہم بنانے کے لیے سرائیکی (کافی) کو ذریعہ بنایا۔ آپ کی کافیوں نے نہ صرف روح کو تسکین دی بلکہ سرائیکی شاعری کو دنیا بھر میں بلندی عطا کی۔ آپ کے کلام سے انسان کی روح میں امید اور صحراے چولستان کی مٹی کی خوشبو کی محبت کے ساتھ الٰہی عشق کی گہرائی ملتی ہے۔ ​خواجہ غلام فریدؒ نے 24 جولائی 1901ء (1319ھ) کو وفات پائی۔ آپ کا مزارِ پرانوار کوٹ مٹھن راجن پور میں ہے، جہاں ہر سال عرس کے موقع پر دنیا بھر سے عقیدت مند حاضری دیتے ہیں۔

About