@thanhtrucmientay: Cả xóm bu lại thanh niên được bên cam trả về người mẹ khóc hết nước mắt

Thanh Truc Miền Tây
Thanh Truc Miền Tây
Open In TikTok:
Region: VN
Wednesday 20 August 2025 12:48:50 GMT
137877
2130
76
85

Music

Download

Comments

dungv589
Dung Võ :
Chúc mừng gia đình, cảm ơn trời Phật 🙏🙏
2025-08-23 14:03:54
19
xuhuong110717
chú tểu :
khổ
2026-06-07 10:55:41
0
cukebode
黎玉善 :
việt kiều zề luôn ..
2025-12-10 05:05:23
3
user99090776027763
user99090776027763 :
nghe tiếng mẹ mà đức ruột
2025-09-26 12:41:50
4
vinhvinhthi
LAN HUỆ :
thương quá cảnh nghèo muốn kiếm tiền mà khổ vậy
2025-12-25 06:55:03
4
cocopro1010
🩷Vô Tình 🩷 :
nghe câu mẹ mà tôi muốn chảy nước mắt theo luôn
2025-09-23 17:43:55
2
camtu29tuoi
🍀 hoa 🌹 cẩm Tú 1997 🍀 :
em đang ăn cơm mà lướt ngang thấy nghẹn lòng muốn khóc theo luôn 😢
2025-12-13 12:35:53
2
user4202963388125
user4202963388125 :
ve lan nay so chua con .con la nguoi may man dc ve thoi co len con thuong con qua
2025-10-20 07:02:35
1
nhungnguyen30920
NhungNT22 :
Em trở về gặp mẹ .nghe em kêu tiếng mẹ mà xúc động chị xem mà không kìm được nước mắt. về là mừng rồi em trai ơi. Chị chúc 2 mẹ con em luôn bình an và mạnh khỏe🥰
2026-01-07 11:04:07
1
namth.8741
Hoài Nam :
ở bên Cam chắc cũng cỡ Thượng úy 😂
2025-12-21 03:03:10
1
cm.n.i628
Cảm ơn đời :
Lúc gặp nguy nan .. dù trai hay gái .. tiếng kêu đầu tiên vẫn là Mẹ ơi
2025-11-18 11:03:12
1
user1875095860355
HIEN VU :
Việt Nam tôi hôm nay với hàng 1000 nỗi đau
2025-10-14 13:07:38
1
thanhtrucmientay
Thanh Truc Miền Tây :
PhùngVajnAn chao a
2025-08-28 15:01:13
0
lananhnguyen9169
Lan Anh Nguyen9169 :
thương quá đi, cứ như từ cõi chết trở về, xem mà rơi nc mắt🥰🥰🥰
2025-10-15 14:50:20
0
linhlinh200734
linhlinh 1982 :
phát mệt nghe lời việc nhẹ lương cao
2026-01-04 08:39:24
0
xa.nh.trn
Xa nhớ Trần :
nam mô a di đà phật
2025-10-19 13:06:23
0
oanhthu9026
oanhthu9026 :
đi đâu cũng kg bằng ờ nhà mình thấy thương quá
2025-11-10 09:08:43
0
gautron_si_le_hoagiay
HOA GIẤY GẤU TRÒN GIÁ VƯỜN :
vừa giận vừa thương, về OK rồi con, con tu 10 kiếp nha 🥰
2025-09-23 09:10:55
0
uyn.venuss
Uyên Venus's :
Thương Qúa Tình mẫu tử Mà
2025-09-22 23:59:47
0
ngothien79_
thn :
ve nha duoc là tốt rồi mai chieu tin loi cua người ta nữa
2025-11-04 05:16:24
0
bxtin2
bxtin2 :
Thích việc nhẹ lương cao cái gì nó cũng có giá cả thôi
2025-09-27 03:02:34
0
id2317898554
Phi Long :
Về mà còn đồ đặt luôn
2026-02-28 11:43:10
0
user3500218042609
PT Mỹ Dung :
xem e khóc muốn chết
2026-03-01 16:51:29
0
luale93
Ngọc Lụa :
🥰
2025-08-23 10:46:59
0
To see more videos from user @thanhtrucmientay, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

تصوف میں تزکیۂ نفس سے مراد انسان کے باطن کو برائیوں، تکبر، حسد، ریا، حرص اور نفسانی خواہشات سے پاک کرنے کی کوشش ہے۔ صوفیانہ تعلیمات میں نفس کے مختلف مراتب بیان کیے جاتے ہیں، جن کے ذریعے سالک کے باطن کی اصلاح، اخلاق کی تبدیلی اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کے سفر کو سمجھایا جاتا ہے۔ یہ یاد رہے کہ یہ مراتب ہر انسان میں لازماً ایک ہی ترتیب سے ظاہر نہیں ہوتے، اور صرف چند کیفیات محسوس کرنے سے کسی شخص کا روحانی مقام طے نہیں کیا جا سکتا۔ سات مراتب کی اصطلاحات اور ترتیب بھی مختلف صوفی سلسلوں میں کچھ مختلف ملتی ہیں۔ اس مرتبے میں انسان کی خواہشات، غصہ، حرص، حسد، تکبر اور انا اس پر غالب رہتے ہیں۔ وہ اپنی غلطی کو بھی درست ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے، دوسروں کو قصوروار ٹھہراتا ہے اور اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے حق و باطل کی تمیز کھو سکتا ہے۔ کیفیت: خواہشات کی غلامی، غفلت اور خود پسندی۔ مجاہدہ: توبہ، خواہشات پر قابو، عبادت اور اپنے اعمال کا محاسبہ۔ قرآنی حوالہ: سورۃ یوسف، آیت 53۔  2۔ نفسِ لوّامہ — ضمیر کی بیداری اس مرحلے میں انسان کے اندر ضمیر بیدار ہونے لگتا ہے۔ غلطی کے بعد دل ملامت کرتا ہے، ندامت پیدا ہوتی ہے اور انسان سوچتا ہے کہ میں نے ایسا کیوں کیا؟ کبھی وہ نفس کے سامنے ہار جاتا ہے، پھر توبہ کرتا ہے اور دوبارہ کوشش کرتا ہے۔ کیفیت: ندامت، کشمکش، خود احتسابی اور اصلاح کی طلب۔ مجاہدہ: مایوس ہوئے بغیر توبہ پر قائم رہنا اور غلطی کے اسباب کو پہچاننا۔ قرآنی حوالہ: سورۃ القیامۃ، آیت 2 اس مرحلے میں انسان اپنے اندر کی برائیوں کو زیادہ واضح طور پر پہچاننے لگتا ہے۔ نیکی، رحم، سخاوت، سچائی اور دوسروں کی مدد کی طرف رغبت بڑھتی ہے۔ تاہم ہر اندرونی خیال یا احساس کو الہام سمجھنا درست نہیں؛ اسے قرآن و سنت اور عقلِ سلیم کی کسوٹی پر پرکھنا ضروری ہے۔ کیفیت: نیکی کی طلب، باطنی بیداری اور اپنے عیبوں کی پہچان۔ خطرہ: اپنی نیکیوں پر فخر کرنا اور خود کو دوسروں سے برتر سمجھنا۔ مجاہدہ: اخلاص، خدمتِ خلق، عاجزی اور نیت کی اصلاح۔ قرآنی حوالہ: سورۃ الشمس، آیات 7–10 4۔ نفسِ مطمئنہ — قلب کا اطمینان اس مقام کی بنیادی علامت یہ ہے کہ انسان کا دل اللہ کی یاد اور اس پر بھروسے سے سکون پانے لگتا ہے۔ آزمائشیں ختم نہیں ہوتیں، غم بھی آتا ہے اور آنکھیں بھی نم ہوتی ہیں، مگر انسان مصیبت میں بھی اپنے ایمان، اخلاق اور ذمہ داریوں سے دست بردار نہیں ہوتا۔ کیفیت: قلبی سکون، توکل، صبر اور ذکرِ الٰہی سے انس۔ مجاہدہ: عبادت میں استقامت، شکر، صبر اور اللہ سے تعلق مضبوط کرنا۔ قرآنی حوالہ: سورۃ الفجر، آیات 27–30 5۔ نفسِ راضیہ. رضا کی کیفیت اس مرتبے میں انسان اللہ کے فیصلوں پر راضی رہنے کی تربیت پاتا ہے۔ اسے اپنی ہر خواہش پوری ہونے کی ضد نہیں رہتی۔ وہ نعمت پر شکر کرتا ہے اور آزمائش میں حکمت تلاش کرتے ہوئے صبر اختیار کرتا ہے۔ کیفیت: قناعت، رضا، شکر اور نتیجے کو اللہ کے سپرد کرنا۔ اہم بات: رضا کا مطلب ظلم کو قبول کرنا یا ناانصافی کے خلاف کوشش چھوڑ دینا نہیں؛ انسان حق کے لیے کوشش کرتے ہوئے بھی اللہ پر بھروسہ رکھ سکتا ہے۔ قرآنی اشارہ: سورۃ الفجر، آیت 28 میں رَاضِيَةً کے الفاظ آتے ہیں۔  6۔ نفسِ مرضیہ.مقبولیت اور اچھے کردار کی علامت صوفیانہ اصطلاح میں یہ وہ مرتبہ ہے جس میں بندہ اللہ کی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے اخلاق میں نرمی، انصاف، امانت، رحم اور مخلوق کے لیے خیر خواہی نمایاں ہونے لگتی ہے۔ کیفیت: حسنِ اخلاق، اخلاص، خدمتِ خلق اور عاجزی۔ خطرہ: یہ خیال پیدا ہونا کہ میں اللہ کا مقبول بندہ بن چکا ہوں۔ حقیقی سالک اپنے مقام کے دعوے کے بجائے اپنی اصلاح میں مشغول رہتا ہے۔ قرآنی اشارہ: سورۃ الفجر، آیت 28 میں مَرْضِيَّةً کے الفاظ آتے ہیں۔  7۔ نفسِ کاملہ. روحانی پختگی اور تزکیے کی تکمیل بعض صوفیانہ سلسلوں میں اسے نفسِ کاملہ اور بعض میں نفسِ صافیہ کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد روحانی پختگی، اخلاقی پاکیزگی اور بندگی میں استقامت کی اعلیٰ کیفیت ہے۔ انسان دنیا کے معاملات میں رہتے ہوئے بھی اپنی نیت، کردار اور اللہ کے حقوق و بندوں کے حقوق کا خیال رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ کیفیت: عاجزی، اخلاص، حکمت، عدل اور مخلوق کے لیے خیر خواہی۔ اصل پہچان: شہرت، کشف، خواب یا غیر معمولی تجربات نہیں، بلکہ اچھا کردار، سچی بندگی اور مسلسل اصلاح۔ یہ بھی یاد رہے کہ نفسِ کاملہ کی اصطلاح سات مراتب کی ہر ترتیب میں یکساں نہیں؛ بعض سلسلے ساتویں مرتبے کو نفسِ صافیہ کہتے ہیں۔  🌙 سسی کے لیے سب سے اہم بات نفس کے مراتب محض ناموں یا روحانی کیفیات کی فہرست نہیں، بلکہ اپنے باطن کو جانچنے کا ایک صوفیانہ طریقہ ہیں۔ انسان ایک معاملے میں صبر والا اور دوسرے میں غصے کا شکار ہو سکتا ہے؛ اسی لیے اپنے بارے میں قطعی روحانی  درجہ مقرر کرنے کے بجائے مسلسل محاسبہ زیادہ مفید ہے۔ سسی بنتِ الست✍️
تصوف میں تزکیۂ نفس سے مراد انسان کے باطن کو برائیوں، تکبر، حسد، ریا، حرص اور نفسانی خواہشات سے پاک کرنے کی کوشش ہے۔ صوفیانہ تعلیمات میں نفس کے مختلف مراتب بیان کیے جاتے ہیں، جن کے ذریعے سالک کے باطن کی اصلاح، اخلاق کی تبدیلی اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کے سفر کو سمجھایا جاتا ہے۔ یہ یاد رہے کہ یہ مراتب ہر انسان میں لازماً ایک ہی ترتیب سے ظاہر نہیں ہوتے، اور صرف چند کیفیات محسوس کرنے سے کسی شخص کا روحانی مقام طے نہیں کیا جا سکتا۔ سات مراتب کی اصطلاحات اور ترتیب بھی مختلف صوفی سلسلوں میں کچھ مختلف ملتی ہیں۔ اس مرتبے میں انسان کی خواہشات، غصہ، حرص، حسد، تکبر اور انا اس پر غالب رہتے ہیں۔ وہ اپنی غلطی کو بھی درست ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے، دوسروں کو قصوروار ٹھہراتا ہے اور اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے حق و باطل کی تمیز کھو سکتا ہے۔ کیفیت: خواہشات کی غلامی، غفلت اور خود پسندی۔ مجاہدہ: توبہ، خواہشات پر قابو، عبادت اور اپنے اعمال کا محاسبہ۔ قرآنی حوالہ: سورۃ یوسف، آیت 53۔ 2۔ نفسِ لوّامہ — ضمیر کی بیداری اس مرحلے میں انسان کے اندر ضمیر بیدار ہونے لگتا ہے۔ غلطی کے بعد دل ملامت کرتا ہے، ندامت پیدا ہوتی ہے اور انسان سوچتا ہے کہ میں نے ایسا کیوں کیا؟ کبھی وہ نفس کے سامنے ہار جاتا ہے، پھر توبہ کرتا ہے اور دوبارہ کوشش کرتا ہے۔ کیفیت: ندامت، کشمکش، خود احتسابی اور اصلاح کی طلب۔ مجاہدہ: مایوس ہوئے بغیر توبہ پر قائم رہنا اور غلطی کے اسباب کو پہچاننا۔ قرآنی حوالہ: سورۃ القیامۃ، آیت 2 اس مرحلے میں انسان اپنے اندر کی برائیوں کو زیادہ واضح طور پر پہچاننے لگتا ہے۔ نیکی، رحم، سخاوت، سچائی اور دوسروں کی مدد کی طرف رغبت بڑھتی ہے۔ تاہم ہر اندرونی خیال یا احساس کو الہام سمجھنا درست نہیں؛ اسے قرآن و سنت اور عقلِ سلیم کی کسوٹی پر پرکھنا ضروری ہے۔ کیفیت: نیکی کی طلب، باطنی بیداری اور اپنے عیبوں کی پہچان۔ خطرہ: اپنی نیکیوں پر فخر کرنا اور خود کو دوسروں سے برتر سمجھنا۔ مجاہدہ: اخلاص، خدمتِ خلق، عاجزی اور نیت کی اصلاح۔ قرآنی حوالہ: سورۃ الشمس، آیات 7–10 4۔ نفسِ مطمئنہ — قلب کا اطمینان اس مقام کی بنیادی علامت یہ ہے کہ انسان کا دل اللہ کی یاد اور اس پر بھروسے سے سکون پانے لگتا ہے۔ آزمائشیں ختم نہیں ہوتیں، غم بھی آتا ہے اور آنکھیں بھی نم ہوتی ہیں، مگر انسان مصیبت میں بھی اپنے ایمان، اخلاق اور ذمہ داریوں سے دست بردار نہیں ہوتا۔ کیفیت: قلبی سکون، توکل، صبر اور ذکرِ الٰہی سے انس۔ مجاہدہ: عبادت میں استقامت، شکر، صبر اور اللہ سے تعلق مضبوط کرنا۔ قرآنی حوالہ: سورۃ الفجر، آیات 27–30 5۔ نفسِ راضیہ. رضا کی کیفیت اس مرتبے میں انسان اللہ کے فیصلوں پر راضی رہنے کی تربیت پاتا ہے۔ اسے اپنی ہر خواہش پوری ہونے کی ضد نہیں رہتی۔ وہ نعمت پر شکر کرتا ہے اور آزمائش میں حکمت تلاش کرتے ہوئے صبر اختیار کرتا ہے۔ کیفیت: قناعت، رضا، شکر اور نتیجے کو اللہ کے سپرد کرنا۔ اہم بات: رضا کا مطلب ظلم کو قبول کرنا یا ناانصافی کے خلاف کوشش چھوڑ دینا نہیں؛ انسان حق کے لیے کوشش کرتے ہوئے بھی اللہ پر بھروسہ رکھ سکتا ہے۔ قرآنی اشارہ: سورۃ الفجر، آیت 28 میں رَاضِيَةً کے الفاظ آتے ہیں۔ 6۔ نفسِ مرضیہ.مقبولیت اور اچھے کردار کی علامت صوفیانہ اصطلاح میں یہ وہ مرتبہ ہے جس میں بندہ اللہ کی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے اخلاق میں نرمی، انصاف، امانت، رحم اور مخلوق کے لیے خیر خواہی نمایاں ہونے لگتی ہے۔ کیفیت: حسنِ اخلاق، اخلاص، خدمتِ خلق اور عاجزی۔ خطرہ: یہ خیال پیدا ہونا کہ میں اللہ کا مقبول بندہ بن چکا ہوں۔ حقیقی سالک اپنے مقام کے دعوے کے بجائے اپنی اصلاح میں مشغول رہتا ہے۔ قرآنی اشارہ: سورۃ الفجر، آیت 28 میں مَرْضِيَّةً کے الفاظ آتے ہیں۔ 7۔ نفسِ کاملہ. روحانی پختگی اور تزکیے کی تکمیل بعض صوفیانہ سلسلوں میں اسے نفسِ کاملہ اور بعض میں نفسِ صافیہ کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد روحانی پختگی، اخلاقی پاکیزگی اور بندگی میں استقامت کی اعلیٰ کیفیت ہے۔ انسان دنیا کے معاملات میں رہتے ہوئے بھی اپنی نیت، کردار اور اللہ کے حقوق و بندوں کے حقوق کا خیال رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ کیفیت: عاجزی، اخلاص، حکمت، عدل اور مخلوق کے لیے خیر خواہی۔ اصل پہچان: شہرت، کشف، خواب یا غیر معمولی تجربات نہیں، بلکہ اچھا کردار، سچی بندگی اور مسلسل اصلاح۔ یہ بھی یاد رہے کہ نفسِ کاملہ کی اصطلاح سات مراتب کی ہر ترتیب میں یکساں نہیں؛ بعض سلسلے ساتویں مرتبے کو نفسِ صافیہ کہتے ہیں۔ 🌙 سسی کے لیے سب سے اہم بات نفس کے مراتب محض ناموں یا روحانی کیفیات کی فہرست نہیں، بلکہ اپنے باطن کو جانچنے کا ایک صوفیانہ طریقہ ہیں۔ انسان ایک معاملے میں صبر والا اور دوسرے میں غصے کا شکار ہو سکتا ہے؛ اسی لیے اپنے بارے میں قطعی روحانی درجہ مقرر کرنے کے بجائے مسلسل محاسبہ زیادہ مفید ہے۔ سسی بنتِ الست✍️

About