@syedibad.official: سیف الملوک جیسی آنکھیں 👀 غزل :- اس کی پلکوں کے کیا ہی کہنے ان نگاہوں کے کیا ہی کہنے جھیل سیف الملوک جیسی اس کی آنکھوں کے کیا ہی کہنے کالے بادل کی ہی طرح ہیں اس کی زلفوں کے کیا ہی کہنے پھول میں یوں بھری ہے شبنم اس کے ہونٹوں کے کیا ہی کہنے سرخی مائل ہیں گال اس کے اس کے گالوں کے کیا ہی کہنے چلتیں خوشبو کی لے میں گھل کے اس کی سانسوں کے کیا ہی کہنے نرم لہجے میں ساز جیسے اس کی باتوں کے کیا ہی کہنے تتلی جیسے وہ نرم و نازک اس کے ہاتھوں کے کیا ہی کہنے مور جیسی ہے چال تیری ان اداؤں کے کیا ہی کہنے بس گیا ان میں حسن تیرا میری غزلوں کے کیا ہی کہنے شاعر سید عباد ✍️ . . #syedibad #syedibadpoetry #poetry #poetryvideos #unfrezzmyaccount