@filssawadogo215: #debloquemesvue @issouf le brésilien

le fils🇨🇮a papa🇨🇮
le fils🇨🇮a papa🇨🇮
Open In TikTok:
Region: CI
Sunday 24 August 2025 15:18:42 GMT
5202
209
4
1

Music

Download

Comments

barakissasawado53
Barakissa Sawadogo :
😁😆😁😁
2026-02-06 22:34:50
0
madais.ko.112
madais ko 112 :
♥️♥️♥️
2025-08-24 20:21:23
1
zalle592
fils zallé :
🥰🥰🥰
2025-08-25 17:48:27
0
soulemann.zbr
Soulemann Zébré :
🥰🥰🥰
2025-09-07 23:51:39
0
To see more videos from user @filssawadogo215, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کچھ ریاستیں اپنے شہریوں کو مواقع دیتی ہیں، اور کچھ ریاستیں انہیں خواب دیتی ہیں۔ مگر سب سے المناک وہ ریاست ہوتی ہے جو نہ مواقع دیتی ہے اور نہ خواب، بلکہ مایوسی کو ایک قومی پالیسی میں بدل دیتی ہے۔ جب ایک ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ، یعنی اس کا انسانی سرمایہ، مسلسل ہجرت پر مجبور ہو جائے تو سوال صرف معاشی نہیں رہتا، فلسفیانہ بھی بن جاتا ہے۔ کیا ریاست کا مقصد اپنے لوگوں کے لیے زندگی بہتر بنانا ہے، یا انہیں اس حد تک بے امید کر دینا کہ وہ نجات کی تلاش میں سرحدیں پار کر جائیں؟ تاریخ میں ناکام ریاستوں کی ایک مشترک علامت یہ رہی ہے کہ وہ اپنی معیشت کو پیداوار، جدت اور اداروں پر نہیں بلکہ تارکینِ وطن کی بھیجی ہوئی رقوم پر استوار کر دیتی ہیں۔ یوں شہری ایک قومی اثاثہ نہیں بلکہ برآمدی شے بن جاتے ہیں۔ ملک کے اندر امید ختم ہوتی ہے اور ملک کے باہر محنت کرنے والے لوگوں کی کمائی ریاست کے لیے آکسیجن بن جاتی ہے۔ یہ ایک عجیب سماجی معاہدہ ہے: ریاست آپ کو مستقبل نہیں دیتی، آپ ریاست کو زرمبادلہ دیتے ہیں۔ ریاست آپ کے لیے مواقع پیدا نہیں کرتی، آپ بیرونِ ملک جا کر اس کی ناکامیوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ اصل ترقی وہ نہیں کہ کتنے لوگ ملک چھوڑ کر گئے، بلکہ وہ ہے کہ کتنے لوگ رہنے کا انتخاب کرتے ہیں۔ کیونکہ جب کسی قوم کے نوجوان اپنے وطن کو منزل کے بجائے محض ایک روانگی لاؤنج سمجھنے لگیں، تو مسئلہ معیشت سے کہیں بڑھ کر ریاستی فکر، حکمرانی اور قومی سمت کا بن جاتا ہے
کچھ ریاستیں اپنے شہریوں کو مواقع دیتی ہیں، اور کچھ ریاستیں انہیں خواب دیتی ہیں۔ مگر سب سے المناک وہ ریاست ہوتی ہے جو نہ مواقع دیتی ہے اور نہ خواب، بلکہ مایوسی کو ایک قومی پالیسی میں بدل دیتی ہے۔ جب ایک ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ، یعنی اس کا انسانی سرمایہ، مسلسل ہجرت پر مجبور ہو جائے تو سوال صرف معاشی نہیں رہتا، فلسفیانہ بھی بن جاتا ہے۔ کیا ریاست کا مقصد اپنے لوگوں کے لیے زندگی بہتر بنانا ہے، یا انہیں اس حد تک بے امید کر دینا کہ وہ نجات کی تلاش میں سرحدیں پار کر جائیں؟ تاریخ میں ناکام ریاستوں کی ایک مشترک علامت یہ رہی ہے کہ وہ اپنی معیشت کو پیداوار، جدت اور اداروں پر نہیں بلکہ تارکینِ وطن کی بھیجی ہوئی رقوم پر استوار کر دیتی ہیں۔ یوں شہری ایک قومی اثاثہ نہیں بلکہ برآمدی شے بن جاتے ہیں۔ ملک کے اندر امید ختم ہوتی ہے اور ملک کے باہر محنت کرنے والے لوگوں کی کمائی ریاست کے لیے آکسیجن بن جاتی ہے۔ یہ ایک عجیب سماجی معاہدہ ہے: ریاست آپ کو مستقبل نہیں دیتی، آپ ریاست کو زرمبادلہ دیتے ہیں۔ ریاست آپ کے لیے مواقع پیدا نہیں کرتی، آپ بیرونِ ملک جا کر اس کی ناکامیوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ اصل ترقی وہ نہیں کہ کتنے لوگ ملک چھوڑ کر گئے، بلکہ وہ ہے کہ کتنے لوگ رہنے کا انتخاب کرتے ہیں۔ کیونکہ جب کسی قوم کے نوجوان اپنے وطن کو منزل کے بجائے محض ایک روانگی لاؤنج سمجھنے لگیں، تو مسئلہ معیشت سے کہیں بڑھ کر ریاستی فکر، حکمرانی اور قومی سمت کا بن جاتا ہے

About