@lorigriffiths107: My heart is overflowing. ❤️ My 20-year-old son made the decision to be baptized in his junior year of college at MSU 💚🤍💚, and I could not be more proud.✝️ We have walked this journey together, and every step has shown me the incredible young man he was becoming. From the very beginning, he has been different—his personality, his work ethic, his kindness, his heart. He has always stood out, and I know he has a story the world needs to hear. There are so many Christian men that have poured into his life, growing up without a father. I am eternally, literally, grateful for every single one of you. This day is for you. This is the fruit of your labor and your investment.💝 This is just the beginning of something even greater. I believe with all my heart that he’s going to be a world changer. 🌍✝️💙 ##baptism##salt##spartan##revival##forthischildihaveprayed

🫶🏼 𝓛𝓸𝓻𝓲 🫶🏼
🫶🏼 𝓛𝓸𝓻𝓲 🫶🏼
Open In TikTok:
Region: US
Monday 25 August 2025 23:44:11 GMT
943
41
0
1

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @lorigriffiths107, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ہماری بے سکونی کا ایک بڑا سبب وہ غلط فیصلے ہوتے ہیں جو ہم نے جلد بازی یا جذبات میں آ کر لیے ہوتے ہیں۔ ہم ان لوگوں سے امیدیں وابستہ کر لیتے ہیں جو کبھی ہمارے مخلص نہیں تھے، اور یہی توقعات بعد میں دکھ کا باعث بنتی ہیں۔ ہم اپنی سوچوں کے اسیر ہو کر ماضی کی تلخ یادوں کو بار بار دہراتے رہتے ہیں، جس سے موجودہ لمحے کا سکون بھی برباد ہو جاتا ہے۔ خود پر ضرورت سے زیادہ بوجھ ڈالنا اور اپنی صلاحیتوں سے بڑھ کر کام کی تمنا کرنا بھی ہمیں بے چین رکھتا ہے۔ ہم دوسروں کو خوش کرنے کی کوشش میں اپنی ذات کو نظر انداز کر دیتے ہیں، جو اندرونی خلفشار پیدا کرتا ہے۔ یہ ادراک کہ ہم خود اپنی بے سکونی کی وجہ ہیں، دراصل انسان کو بدلنے اور بہتر ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ جب ہم اپنی غلطیوں کو تسلیم کر لیتے ہیں، تو دوسروں سے گلے شکوے ختم ہو جاتے ہیں اور دل کو ایک عجیب سا اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ اپنی اصلاح کی فکر کرنا ہی وہ پہلا قدم ہے جو ہمیں ذہنی سکون کی منزل کی طرف لے جاتا ہے۔ آخر کار انسان کو یہ سمجھ آ جاتی ہے کہ سکون کسی دوسرے کے ہاتھ میں نہیں بلکہ اس کے اپنے رویے اور سوچ میں پوشیدہ ہے۔
ہماری بے سکونی کا ایک بڑا سبب وہ غلط فیصلے ہوتے ہیں جو ہم نے جلد بازی یا جذبات میں آ کر لیے ہوتے ہیں۔ ہم ان لوگوں سے امیدیں وابستہ کر لیتے ہیں جو کبھی ہمارے مخلص نہیں تھے، اور یہی توقعات بعد میں دکھ کا باعث بنتی ہیں۔ ہم اپنی سوچوں کے اسیر ہو کر ماضی کی تلخ یادوں کو بار بار دہراتے رہتے ہیں، جس سے موجودہ لمحے کا سکون بھی برباد ہو جاتا ہے۔ خود پر ضرورت سے زیادہ بوجھ ڈالنا اور اپنی صلاحیتوں سے بڑھ کر کام کی تمنا کرنا بھی ہمیں بے چین رکھتا ہے۔ ہم دوسروں کو خوش کرنے کی کوشش میں اپنی ذات کو نظر انداز کر دیتے ہیں، جو اندرونی خلفشار پیدا کرتا ہے۔ یہ ادراک کہ ہم خود اپنی بے سکونی کی وجہ ہیں، دراصل انسان کو بدلنے اور بہتر ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ جب ہم اپنی غلطیوں کو تسلیم کر لیتے ہیں، تو دوسروں سے گلے شکوے ختم ہو جاتے ہیں اور دل کو ایک عجیب سا اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ اپنی اصلاح کی فکر کرنا ہی وہ پہلا قدم ہے جو ہمیں ذہنی سکون کی منزل کی طرف لے جاتا ہے۔ آخر کار انسان کو یہ سمجھ آ جاتی ہے کہ سکون کسی دوسرے کے ہاتھ میں نہیں بلکہ اس کے اپنے رویے اور سوچ میں پوشیدہ ہے۔

About