@trangtrangshop_98: Mang được 2 kiểu nhé #trangtrangshop #giàyđẹpchonữ #muataitiktok #xuhuong

TrangTrangShop_98
TrangTrangShop_98
Open In TikTok:
Region: VN
Friday 19 September 2025 06:36:05 GMT
5372
24
1
1

Music

Download

Comments

muoi.thi5
Chúc ly đáng yêu :
nhiêu z shop sai 38
2026-03-07 05:39:55
0
To see more videos from user @trangtrangshop_98, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

طالبِ علم ضربِ کلیم خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں معانی: اضطراب: بے قراری، طوفان ۔ بحر: سمندر ۔ مطلب: اس شعر میں علامہ نے دورِ جدید کے مدرسوں میں پڑھنے والے ان طالب علموں کو جو اہل مغرب کے افکار و خیالات اور ان کی تہذیب و ثقافت کا شکار ہو چکے ہیں کہا ہے کہ تم ایک ایسے سمندر کی مانند ہو جس کی لہروں میں کوئی تڑپ اور بے قراری نظر نہیں آتی ۔ میری دعا ہے کہ خدا تمہاری زندگی کے سمندر کو کسی طوفان سے آشنا کر دے یعنی تمہارے اندر صحیح زندگی، انسانیت اور صحیح مسلمانی کا جذبہ اس حد تک پیدا ہو جائے جیسا کہ سمندر میں طوفان ہوتا ہے تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو کتاب خواں ہے، مگر صاحبِ کتاب نہیں معانی: فراغ: فرصت ۔ کتاب خواں : کتاب پڑھنے والا ۔ صاحب کتاب: کتاب کا مالک یعنی کتاب میں جو کچھ لکھا ہے اس پر عمل کرنے والا ۔ مطلب : اس شعر میں علامہ جدید درسگاہوں کے طالب علم کو خطاب کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ تجھے کتابیں پڑھنے سے فرصت نہیں اور تو کتابی کیڑا بنا ہوا ہے ۔ تو کتاب پڑھتا ضرور ہے لیکن اس میں جو کچھ لکھا ہے اس پر عمل کی تجھے توفیق نہیں ہے ۔ یہاں علامہ کی مراد ان کتابوں پر عمل کی نہیں ہے جو نصاب جدید میں موجود ہیں اور ان طالب علموں کو گمراہ کر رہی ہیں بلکہ ایسی کتابوں کی طرف اشارہ ہے جن کو پڑھ کر طالب علم صحیح انسان بن جائیں ۔ ایسی کتابیں جدید نصاب میں تو نایاب ہیں البتہ الہامی کتاب قرآن یا اس کی روشنی لیے ہوئے دوسری کتابوں کی صورت میں موجود ہیں ۔ لیکن ان پر بھی آج کا طالب علم عمل کرنے والا نہیں ہے ۔ اسی کو اقبال نے کہا ہے کہ وہ صاحب کتاب نہیں ہے ۔ . . . Allama Iqbal Urdu Poetry SHayari Status Sad Urdu Shayari Whatsapp .. #allamaiqqbal #allamaiqbal #allamaiqbalpoetry #allamaiqbalshayari #rekhtafoundation #rekhta #urdupoetry
طالبِ علم ضربِ کلیم خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں معانی: اضطراب: بے قراری، طوفان ۔ بحر: سمندر ۔ مطلب: اس شعر میں علامہ نے دورِ جدید کے مدرسوں میں پڑھنے والے ان طالب علموں کو جو اہل مغرب کے افکار و خیالات اور ان کی تہذیب و ثقافت کا شکار ہو چکے ہیں کہا ہے کہ تم ایک ایسے سمندر کی مانند ہو جس کی لہروں میں کوئی تڑپ اور بے قراری نظر نہیں آتی ۔ میری دعا ہے کہ خدا تمہاری زندگی کے سمندر کو کسی طوفان سے آشنا کر دے یعنی تمہارے اندر صحیح زندگی، انسانیت اور صحیح مسلمانی کا جذبہ اس حد تک پیدا ہو جائے جیسا کہ سمندر میں طوفان ہوتا ہے تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو کتاب خواں ہے، مگر صاحبِ کتاب نہیں معانی: فراغ: فرصت ۔ کتاب خواں : کتاب پڑھنے والا ۔ صاحب کتاب: کتاب کا مالک یعنی کتاب میں جو کچھ لکھا ہے اس پر عمل کرنے والا ۔ مطلب : اس شعر میں علامہ جدید درسگاہوں کے طالب علم کو خطاب کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ تجھے کتابیں پڑھنے سے فرصت نہیں اور تو کتابی کیڑا بنا ہوا ہے ۔ تو کتاب پڑھتا ضرور ہے لیکن اس میں جو کچھ لکھا ہے اس پر عمل کی تجھے توفیق نہیں ہے ۔ یہاں علامہ کی مراد ان کتابوں پر عمل کی نہیں ہے جو نصاب جدید میں موجود ہیں اور ان طالب علموں کو گمراہ کر رہی ہیں بلکہ ایسی کتابوں کی طرف اشارہ ہے جن کو پڑھ کر طالب علم صحیح انسان بن جائیں ۔ ایسی کتابیں جدید نصاب میں تو نایاب ہیں البتہ الہامی کتاب قرآن یا اس کی روشنی لیے ہوئے دوسری کتابوں کی صورت میں موجود ہیں ۔ لیکن ان پر بھی آج کا طالب علم عمل کرنے والا نہیں ہے ۔ اسی کو اقبال نے کہا ہے کہ وہ صاحب کتاب نہیں ہے ۔ . . . Allama Iqbal Urdu Poetry SHayari Status Sad Urdu Shayari Whatsapp .. #allamaiqqbal #allamaiqbal #allamaiqbalpoetry #allamaiqbalshayari #rekhtafoundation #rekhta #urdupoetry

About