@shahbazmalik6627: میرے دادا جی نے اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ اور چاندی کے سکوں سے بھری بوریاں اپنا گھر دکان اور بہت ساری پراپرٹی اور مسجد جو کہ خود بنائی چار کنال پر محیط جو کہ خود اپنے پیسوں سے تعمیر کی 1947 میں ہجرت کی۔ پاکستان کی خاطر اپنا دیش چھوڑا۔ پاکستان میں آ کر آباد ہوئے اور کوئی کلیم نہیں کیا۔ بہت سادہ طبیعت کے مالک تھے۔ بہت بڑا اجناس کا کاروبار تھا۔ کاروبار کے نقصان کا بہت غم تھا برداشت نہ کر سکے اور ذہنی مریض بن گۓ۔ اس وقت میرے ابو کی عمر نو سال تھی پاکستان آ کر شروع میں دادا جی نے اور میرے ابو نے سائیکل کے اوپر فروٹ وغیرہ کا کام کیا۔ میرے دادا جی کے تین بیٹے، ملک حنیف ملک حاجی عبدالرشید اور ملک بشیر احمد اور دو بہنیں تھیں۔ دادا جی کی دعاؤں سے میرے ابو بھی بہت بڑے کاروباری بن گئے یہ گاؤں رام پور بلرو تحصیل شکر گڑھ ضلع ہوشیار پور انڈیا میں ہے۔