@iris2309: #CapCut #tniindonesia🇮🇩 #satgaspapua #tnial

iriis
iriis
Open In TikTok:
Region: ID
Wednesday 01 October 2025 04:06:29 GMT
905
47
0
6

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @iris2309, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

فتنوں کے دور میں ایمان کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایمان کی عظیم نعمت عطا فرمائی ہے۔ ایمان ہی انسان کی دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔ لیکن نبی کریم ﷺ نے امت کو خبردار فرمایا کہ ایک ایسا زمانہ آئے گا جب فتنے اس قدر بڑھ جائیں گے کہ لوگوں کے ایمان خطرے میں پڑ جائیں گے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ آدمی صبح مومن ہوگا اور شام کو کافر، یا شام کو مومن ہوگا اور صبح کو کافر ہوجائے گا، اور دنیا کے معمولی فائدے کے بدلے اپنا دین بیچ دے گا۔ اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے آنے والے فتنوں کی شدت کو بیان فرمایا ہے۔ آج کے دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ سوشل میڈیا، باطل نظریات، گناہوں کی کثرت، دین سے غفلت اور دنیا کی محبت نے بہت سے لوگوں کو دین سے دور کر دیا ہے۔ بعض لوگ مال، منصب، شہرت یا خواہشاتِ نفس کی خاطر دین کے احکام کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ اس حدیث کا ایک اہم پیغام یہ ہے کہ مسلمان کو نیک اعمال میں جلدی کرنی چاہیے۔ کیونکہ نیک اعمال ایمان کو مضبوط کرتے ہیں اور فتنوں کے مقابلے میں ڈھال کا کام دیتے ہیں۔ نماز، تلاوتِ قرآن، ذکرِ الٰہی، علماء کی صحبت اور نیک لوگوں کی مجلس انسان کے ایمان کی حفاظت کرتی ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایمان ایک بہت قیمتی دولت ہے جس کی حفاظت ضروری ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہر حال میں اپنے عقیدے، عبادات اور اسلامی تعلیمات پر مضبوطی سے قائم رہے اور دنیاوی مفادات کے لیے اپنے دین کا سودا نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں فتنوں کے شر سے محفوظ فرمائے، ہمارے ایمان کو مضبوط رکھے اور ہمیں زندگی بھر اسلام پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ #mapapali #bandekhpal #palkatalay #bayan @sulamin khan @Philanthropist @🤍! B A R O O !🤍 @khanfaisal @Muhammad talhakhan517287@gmail  #song
فتنوں کے دور میں ایمان کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایمان کی عظیم نعمت عطا فرمائی ہے۔ ایمان ہی انسان کی دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔ لیکن نبی کریم ﷺ نے امت کو خبردار فرمایا کہ ایک ایسا زمانہ آئے گا جب فتنے اس قدر بڑھ جائیں گے کہ لوگوں کے ایمان خطرے میں پڑ جائیں گے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ آدمی صبح مومن ہوگا اور شام کو کافر، یا شام کو مومن ہوگا اور صبح کو کافر ہوجائے گا، اور دنیا کے معمولی فائدے کے بدلے اپنا دین بیچ دے گا۔ اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے آنے والے فتنوں کی شدت کو بیان فرمایا ہے۔ آج کے دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ سوشل میڈیا، باطل نظریات، گناہوں کی کثرت، دین سے غفلت اور دنیا کی محبت نے بہت سے لوگوں کو دین سے دور کر دیا ہے۔ بعض لوگ مال، منصب، شہرت یا خواہشاتِ نفس کی خاطر دین کے احکام کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ اس حدیث کا ایک اہم پیغام یہ ہے کہ مسلمان کو نیک اعمال میں جلدی کرنی چاہیے۔ کیونکہ نیک اعمال ایمان کو مضبوط کرتے ہیں اور فتنوں کے مقابلے میں ڈھال کا کام دیتے ہیں۔ نماز، تلاوتِ قرآن، ذکرِ الٰہی، علماء کی صحبت اور نیک لوگوں کی مجلس انسان کے ایمان کی حفاظت کرتی ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایمان ایک بہت قیمتی دولت ہے جس کی حفاظت ضروری ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہر حال میں اپنے عقیدے، عبادات اور اسلامی تعلیمات پر مضبوطی سے قائم رہے اور دنیاوی مفادات کے لیے اپنے دین کا سودا نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں فتنوں کے شر سے محفوظ فرمائے، ہمارے ایمان کو مضبوط رکھے اور ہمیں زندگی بھر اسلام پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ #mapapali #bandekhpal #palkatalay #bayan @sulamin khan @Philanthropist @🤍! B A R O O !🤍 @khanfaisal @Muhammad talhakhan517287@gmail #song

About