نر افغان.؛ د افغانستان حقیقي اتل ریښتینی پکتیاوال صاحب
2025-11-13 12:04:04
3
جنرال زوي♟️ :
هسې جار شم غیرتې انسان ❤🌱
2025-10-08 13:58:49
29
🔥K A Z I M J A N🔥✌ :
🥺🥺
2025-10-09 23:46:58
10
طوطاخیل :
جار پکتیا وال صاحب
2025-10-08 12:12:19
14
☠️🐅♥️🇦🇬♥️🇵🇹🦅 :
2025-10-10 10:09:11
13
Noor Ali :
2026-03-23 12:47:50
1
اتل سنگین :
خه سهي
2026-03-28 03:56:05
1
^_💁اخلاقی ځوان🧑💼..- :
Jarrr👑
2026-04-17 21:13:18
1
❌ :
جانم استی ګینیګ یی چی ده تیک تک دی لری که خا شو امدغسی ویدوګنی وارفسی کو شیر یی 👑👑👑👑❤
2025-10-09 15:02:13
11
🇶🇦 آفتاب جانی👑🦅 :
تینوں پشتون نوجوان نہایت خوبصورت اور باصلاحیت تھے، لیکن افسوس کہ ان کا بھی ایک پیک اِنکاؤنٹر ہوا — یعنی ایک ایکسٹرا جوڈیشل کلنگ (غیر عدالتی قتل)۔ سوال یہ ہے کہ اس ظلم کا جواب کون دے گا؟
سی سی پی او پشاور اس واقعے کا کریڈٹ لے رہے ہیں، اور آر پی او راولپنڈی خمدانی بھی یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ انہوں نے ایک بدنامِ زمانہ دہشت گرد اور اس کے ساتھی کو ہلاک کر دیا ہے۔ مگر حقیقت اس طرح نہیں ہے۔ ان نوجوانوں پر پہلے سے تیرہ مقدمات درج تھے، جو اس واقعے سے پہلے کے تھے۔ ان میں سے ایک نوجوان نے ایک پیغام دیا تھا — کیا اُس پیغام پر کبھی کوئی تحقیقات ہوئیں؟ اُس نے کہا تھا کہ کچھ لوگ ایک فریق سے پیسے لے کر دوسرے فریق کے دشمنوں کو مار رہے ہیں۔ تو کیا پولیس اجرتی قاتل بن گئی ہے؟
اگر امن قائم کرنا مقصد ہے، تو اس کا صحیح طریقہ یہ تھا کہ پولیس ان نوجوانوں کو گرفتار کرتی، عدالت میں پیش کرتی، مقدمہ چلایا جاتا، اور اگر جرم ثابت ہوتا تو عدالت سزا سناتی — چاہے وہ سزاِ موت ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن پولیس مقابلہ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ اب تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پولیس اور انتظامیہ خود دہشت گرد بن چکے ہیں۔
اسی طرح ملک آدم کے ساتھیوں کا بھی پیک اِنکاؤنٹر ہوا۔ ملک آدم نے چند دن پہلے ایک ویڈیو بیان جاری کیا تھا، جس میں اُس نے سی سی پی او پشاور پر الزام لگایا کہ اُس نے اُن کے سروں کی قیمت مقرر کی ہے اور اُنہیں شوٹ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اسی خوف سے وہ علاقہ بدر ہو گئے اور ملک آدم نے دوسری جگہ پناہ لی۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا سی سی پی او پشاور کے خلاف کوئی انکوائری ہوئی؟ کیا یہ دیکھا گیا کہ وہ کسی دوسری فریق کے ساتھ ملا ہوا تھا یا نہیں؟ اس اہم معاملے پر تو ایک تحقیقاتی کمیٹی بننی چاہیے تھی۔
ملک آدم کوئی معمولی شخص نہیں تھا۔ سی سی پی او پشاور اور کئی بڑے افسران اُس کے ساتھ میل جول رکھتے تھے۔ اُسے بلٹ پروف گاڑی دی گئی تھی اور اُسے سیکیورٹی بھی فراہم کی جا رہی تھی۔ لیکن جیسے ہی اُس نے ان افسران کے خلاف انکوائری کا مطالبہ کیا، اُسے شوٹ کر دیا گیا۔ کیونکہ اگر انکوائری ہوتی، تو بہت سے جھوٹے اور بوگس کردار سامنے آ جاتے۔
بدقسمتی سے ہمارے ملک میں پولیس اور نظامِ عدل کی حالت انتہائی خراب ہے۔ رشوت، سفارش، اور ذاتی مفادات نے انصاف کے ستونوں کو کمزور کر دیا ہے۔ یہاں طاقتور ہمیشہ بچ جاتا ہے، اور کمزور ہمیشہ ظلم کا نشانہ بنتا ہے۔ یہی المیہ ہے کہ جہاں انصاف کا بول بالا ہونا چاہیے تھا، وہاں قتل کو کارنامہ سمجھا جا رہا ہے۔
2025-10-08 16:49:54
21
🦅باغي🦅 :
نر خلقی🦅
2025-10-08 14:13:06
26
🇦🇫🤫𝘾𝙊𝙈𝙍𝘼𝘿𝙀 🦁 :
جار سم ❤
2025-10-08 12:29:53
7
AliiNa🇦🇫💕 :
ta na ho me hasi jarr Qurban ky😉🇦🇫💕💕💕💕💕💕
2025-11-20 13:10:36
1
Z👑a👑b👑i💔 :
پکتېا وال زندا باد
2025-11-11 05:49:17
2
꧁༒•❤️🥀Â•Ķ•🥀❤️•༒꧂ :
Korban da sham 🥰❤🔥
2025-10-28 13:47:36
2
safiullah safiullah :
@انا پرست💔: : خبردار ❌ عجیب بات یہ ہے کہ تین گھنٹے مقابلے میں ایک پولیس بھی نہیں مرا جبکہ آدم خان دو ساتھیوں سمیت مرا خبردار میرا بات یاد رکھیں آدم خان ایک انٹلیجنس فکر نوجوان تھا بہت ہوشیار تھا کئی بار اس کے دوستوں کے ساتھ ایسے واقعات آئے تھے ملک آدم خان نے سب ساتھیوں کو ایسے صورتحال میں خود کو پولیس کو حوالہ کرنے کا حکم دیا وہ کوئی عام سا شخص نہیں تھا بہت ہوشیار تھا آور یہ ناممکن ہے کہ آدم خان نے پولیس پر فائرنگ کی تھی اس سے پہلے بھی ملک آدم خان ایسے صورتحال سے دوچار ہوئے تھے وہ ایسے موقعوں پر خود تھانہ جاتا تھا آور افسروں کے ساتھ باتیں کرتے تھے ابھی میں آپ کو ایک بات بتا رہا ہوں کئ سال پہلے ضلع دیر کے علاقے بلامبٹ میں ایسا واقعہ پیش آیا پولیس نے 75 قیدیوں کو جیل سے نکال کر جعلی مقابلے میں مار کر کہا کہ یہ طالبان ہیں جبکہ پولیس سے ایک غلطی ہو کہ 75 دہشتگردو کو مار کر ایک بھی پولیس نہیں مرا 😁 کیا یہ ماننے کے لائق ہے کیا یہ سراسر جھوٹ نہیں ہے وہ 75 قیدیوں کے بارے میں دیر میں بہت بڑا احتجاج ہوا وہ سب منشیات چوری اور گھریلوی معاملات کی وجہ سے قید ہوئے تھے ایک بھی دہشت گرد نہیں تھا پولیس نے ہمیشہ جعلی مقابلوں میں بے گناہ لوگوں کو مارا آور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے ملک آدم خان نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا اس کے بعد پولیس نے اسے شہید کیاگیا تھا ملک آدم خان کے سارے مخالف بہت امیر لوگ تھے پولیس نے سارے مخالف جمع کرکے سب سے ملک آدم خان کی سر کا سودا کیا صرف ایک شخص سے جی پی کمپنی والے سے 6 کروڑ رقم لی تھی پولیس نے آور معلوم نہیں باقی مخالفین نے کتنا رقم آدا کیا گیا تھا آگر پیسے نہ ہوتی تو پولیس اتنا عوام کا خیر خواہ نہیں ہے کہ وہ ملک آدم خان کو مارے
2025-10-10 20:52:27
4
𝐌𝐚𝐬𝐡𝐚𝐥 ⚜️B :
بلکل❤️✌
2025-10-10 00:38:16
2
Nasir Khan :
سور سلام
2025-10-09 14:09:14
3
انۅࢪۍ✰🅃🇦 🄹🇮 🄺 :
جارررر شم❤
2025-10-10 17:22:13
2
To see more videos from user @saeedabass.and.shmas, please go to the Tikwm
homepage.