@tioputtp: #anjingpintar #anjingviral #anjingjoget #4u #masukberandafyp

Az-Zahra Putri
Az-Zahra Putri
Open In TikTok:
Region: ID
Wednesday 08 October 2025 09:26:27 GMT
989221
24329
542
23519

Music

Download

Comments

banykgawe12
Brayen07 :
2025-12-16 16:09:55
19
firman0607zv
Firmansyah Gbastian :
anjingnya joget viral ia ia
2025-12-11 12:20:27
11
win_609
ɄĐł₦ ₳J₳ ɄĐ₳Ⱨ✨ :
😁
2025-12-17 10:26:06
2
jensen0116
JENSEN KRISTOVEL RITONGA :
2025-12-20 01:17:48
3
parlentesah
¹Four :
@prabowo
2025-12-24 02:06:03
6
bestter.id
𝙱𝚎𝚜𝚝𝚝𝚎𝚛.𝚒𝚍 🥶❤️‍🔥 :
2025-12-17 18:38:31
2
hans55789
HANZ GOOD :
Hh 🤣
2025-11-10 18:39:07
2
rianwahyu615
rian :
2025-12-23 02:23:10
2
b3gu1
BEGU :
2026-01-04 00:37:32
1
iman1802
Iman&Christy :
ngakak sumpah 😁😂 Min
2025-10-29 00:53:45
1
supian.ian92
LA ice :
2025-12-27 09:10:16
1
bangdika969
YT : Dika969 :
😁
2025-12-18 10:39:22
1
rikarikoyyy21
Rikarikoyyy👾 :
kek mantan gua
2025-12-05 19:19:21
81
hobysayaturu
Ranggaa :
2026-01-03 02:42:17
1
ultramen9734
ultramen :
2025-12-30 06:13:33
1
mantanpacarnotdat
PESAN KHUSUS :
ga nyangka , bisa se-Fyp ini 😂😂
2025-10-31 07:17:10
3
nopalnotnoval
n.noppallll :
asekkkk😭
2025-12-24 13:23:07
1
arrppp4
arrppp :
2025-12-21 07:36:21
1
tirta_diningrat
mil :
2025-12-18 19:31:21
1
venen_jr12
sedang mengetik... :
cek post gue gak nyangka SE rame ini😂
2025-10-24 03:04:26
1
dalulpay033
dalul angler :
kece banget 👍👍
2025-12-20 18:19:53
1
aves2308
Avesเรนดี้ :
2025-12-18 02:02:05
1
usuplah_arjuna
wiran_Sade11 :
2025-12-22 01:40:07
1
alifkece1231
丂イム尺ムムん :
izin🙏
2025-12-24 02:31:48
0
To see more videos from user @tioputtp, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ایران میں جہاز جلا دیے… مگر افغانستان میں اربوں کا اسلحہ چھوڑ دیا — یہ خوف تھا یا کوئی اور کھیل؟ کچھ واقعات وقت کے ساتھ نہیں دبتے… بلکہ جتنا سوچو، اتنے ہی خطرناک لگنے لگتے ہیں۔ ایران میں امریکی طیاروں کو خود تباہ کرنے کی خبر بھی ایسی ہی ایک کہانی ہے، جو سیدھی نہیں، بلکہ کئی سوال اپنے اندر چھپائے بیٹھی ہے۔ امریکہ نے کہا کہ دو طیارے تکنیکی خرابی کا شکار ہو گئے تھے، ایران میں پھنس گئے، اور پھر خود ہی تباہ کر دیے گئے… تاکہ حساس ٹیکنالوجی کسی کے ہاتھ نہ لگے۔ یہ بات سننے میں منطقی لگتی ہے۔ ایک سپر پاور اپنی ٹیکنالوجی بچانے کے لیے ایسا ہی کرتی ہے۔ مگر اصل سوال یہاں سے شروع ہوتا ہے… اگر ایران میں چند جہازوں کے لیے اتنی جلدی اور سختی دکھائی جا سکتی ہے، تو پھر افغانستان سے جاتے وقت وہی امریکہ اربوں ڈالر کا اسلحہ، ہیلی کاپٹرز اور جدید فوجی ساز و سامان کیوں چھوڑ آیا؟ وہ بھی اس حالت میں کہ سب کچھ تقریباً صحیح سلامت تھا۔ یہاں واضح کرتا چلوں صرف چند گاڑیاں یا ہتھیار نہیں چھوڑے… بلکہ اندازوں کے مطابق تقریباً 7 ارب ڈالر کا فوجی ساز و سامان وہیں رہ گیا۔ یہ کوئی افواہ نہیں، بلکہ خود امریکی دفاعی اداروں کی رپورٹس میں تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ یہ اسلحہ کیا تھا؟ یہ کوئی عام چیزیں نہیں تھیں۔ تقریباً 78 طیارے — جن میں ہیلی کاپٹر اور فکسڈ وِنگ جہاز شامل تھے۔ 40 ہزار سے زائد گاڑیاں — جن میں تقریباً 12 ہزار ہَم ویز شامل تھیں۔ 427,300 ہتھیاروں میں سے 3 لاکھ سے زیادہ چھوٹے ہتھیار اور گولہ بارود وہیں رہ گئے۔ 42 ہزار کے قریب نائٹ وژن، سرویلنس، بائیومیٹرک اور دیگر حساس آلات تقریباً مکمل طور پر چھوڑ دیے گئے۔ اور ساتھ ہی تقریباً تمام کمیونیکیشن سسٹمز، ریڈیو نیٹ ورکس اور دیگر جدید آلات بھی۔ یہ کوئی چھوٹی موٹی لاپرواہی نہیں تھی… یہ ایک پورا جنگی نظام تھا، جو بغیر کسی مزاحمت کے پیچھے چھوڑ دیا گیا۔ اور وہی اسلحہ، وہی ٹیکنالوجی، وہی طاقت بالآخر طالبان کے ہاتھ آ گئی۔ یہاں سوال اور بھی گہرا ہو جاتا ہے۔ اگر امریکہ کو ایران میں دو طیاروں کی ٹیکنالوجی کے ہاتھ لگ جانے کا اتنا خوف تھا کہ انہیں فوراً جلا دیا گیا… تو افغانستان میں اتنی بڑی مقدار میں حساس سامان کو کیوں نہیں تباہ کیا گیا؟  وہ بونپو جو یہ کہتے نہیں تکتے کہ پاکستان امریکہ کا پھٹو ہے کیونکہ وہاں سے امداد یا ڈالر مل رہے ہیں تو یہ جو اسلحہ چھوڑ دیا اور ہر ہفتے تیس چالیس ملین ڈالر مل رہے ہیں وہ کس مد میں کس کے خلاف دئیے جارہے ہیں؟ کیا اس وقت یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ اسلحہ کس کے ہاتھ لگنا ہے اور کس کے خلاف استعمال ہوناہے؟ میرے خیال میں ان کو نہ صرف اندازہ تھا بلکہ جان بوجھ کر ایسا کیا گیا۔ امریکی مؤقف یہ ہے کہ اس جدید اسلحے کو چلانا آسان نہیں۔ اس کے لیے تربیت، سپیئر پارٹس اور مسلسل سپورٹ درکار ہوتی ہے، جو امریکی کنٹریکٹرز کے بغیر ممکن نہیں۔ یعنی کاغذوں میں یہ طاقت جتنی بڑی لگتی ہے، عملی طور پر شاید اتنی مؤثر نہ ہو۔ مگر زمینی حقیقت کچھ اور کہتی ہے۔ ایک بندوق، ایک گاڑی، ایک نائٹ وژن ڈیوائس… ان کے استعمال کے لیے کسی جدید سسٹم کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اور یہی چیزیں آج خطے میں خطرہ بن چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کو جن خطرات کا سامنا ہے، ان میں ایسے گروہوں کے نام شامل ہیں جیسے ٹٹی پی اور بی ایل اے — اور یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ جدید اسلحہ ان کے ہاتھوں تک پہنچ چکا ہے۔ یہاں آ کر سوال صرف امریکہ کی پالیسی کا نہیں رہتا… یہ اعتماد، نیت اور ترجیحات کا سوال بن جاتا ہے۔ ایران میں فوری کارروائی… افغانستان میں مکمل چھوڑ دینا… یہ فرق محض حالات کا نتیجہ تھا؟ یا پھر کہیں نہ کہیں مفادات کی لکیر کھینچی گئی تھی؟ اور اگر یہ سب واقعی ایک مجبوری تھی، ایک غلط اندازہ تھا، تو پھر بھی اس کی قیمت کون ادا کر رہا ہے؟ جواب واضح ہے… وہ ممالک جو اس خطے میں ہیں، جن کی سرحدیں کھلی ہیں، اور جن کے اندر یہ جنگ آ کر بس گئی ہے خاص کر پاکستان۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا میں فیصلے ہمیشہ اصولوں پر نہیں ہوتے… اکثر فیصلے مفادات پر ہوتے ہیں۔ اور جو قومیں دوسروں کے فیصلوں پر انحصار کرتی ہیں، وہ آخرکار دوسروں کے فیصلوں کا نتیجہ بھگتتی ہیں۔ آج پاکستان ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے صاف دیکھنا ہوگا کہ کون سا فیصلہ اس کا اپنا ہے اور کون سا کسی اور کا مسلط کیا ہوا کھیل۔ کیونکہ تاریخ بار بار ایک ہی سبق دیتی ہے: دوسروں کی جنگوں میں بچا ہوا اسلحہ… آخرکار آپ کے دروازے پر ہی آ کھڑا ہوتا ہے۔..s..#foryou #foryoupage #foryou
ایران میں جہاز جلا دیے… مگر افغانستان میں اربوں کا اسلحہ چھوڑ دیا — یہ خوف تھا یا کوئی اور کھیل؟ کچھ واقعات وقت کے ساتھ نہیں دبتے… بلکہ جتنا سوچو، اتنے ہی خطرناک لگنے لگتے ہیں۔ ایران میں امریکی طیاروں کو خود تباہ کرنے کی خبر بھی ایسی ہی ایک کہانی ہے، جو سیدھی نہیں، بلکہ کئی سوال اپنے اندر چھپائے بیٹھی ہے۔ امریکہ نے کہا کہ دو طیارے تکنیکی خرابی کا شکار ہو گئے تھے، ایران میں پھنس گئے، اور پھر خود ہی تباہ کر دیے گئے… تاکہ حساس ٹیکنالوجی کسی کے ہاتھ نہ لگے۔ یہ بات سننے میں منطقی لگتی ہے۔ ایک سپر پاور اپنی ٹیکنالوجی بچانے کے لیے ایسا ہی کرتی ہے۔ مگر اصل سوال یہاں سے شروع ہوتا ہے… اگر ایران میں چند جہازوں کے لیے اتنی جلدی اور سختی دکھائی جا سکتی ہے، تو پھر افغانستان سے جاتے وقت وہی امریکہ اربوں ڈالر کا اسلحہ، ہیلی کاپٹرز اور جدید فوجی ساز و سامان کیوں چھوڑ آیا؟ وہ بھی اس حالت میں کہ سب کچھ تقریباً صحیح سلامت تھا۔ یہاں واضح کرتا چلوں صرف چند گاڑیاں یا ہتھیار نہیں چھوڑے… بلکہ اندازوں کے مطابق تقریباً 7 ارب ڈالر کا فوجی ساز و سامان وہیں رہ گیا۔ یہ کوئی افواہ نہیں، بلکہ خود امریکی دفاعی اداروں کی رپورٹس میں تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ یہ اسلحہ کیا تھا؟ یہ کوئی عام چیزیں نہیں تھیں۔ تقریباً 78 طیارے — جن میں ہیلی کاپٹر اور فکسڈ وِنگ جہاز شامل تھے۔ 40 ہزار سے زائد گاڑیاں — جن میں تقریباً 12 ہزار ہَم ویز شامل تھیں۔ 427,300 ہتھیاروں میں سے 3 لاکھ سے زیادہ چھوٹے ہتھیار اور گولہ بارود وہیں رہ گئے۔ 42 ہزار کے قریب نائٹ وژن، سرویلنس، بائیومیٹرک اور دیگر حساس آلات تقریباً مکمل طور پر چھوڑ دیے گئے۔ اور ساتھ ہی تقریباً تمام کمیونیکیشن سسٹمز، ریڈیو نیٹ ورکس اور دیگر جدید آلات بھی۔ یہ کوئی چھوٹی موٹی لاپرواہی نہیں تھی… یہ ایک پورا جنگی نظام تھا، جو بغیر کسی مزاحمت کے پیچھے چھوڑ دیا گیا۔ اور وہی اسلحہ، وہی ٹیکنالوجی، وہی طاقت بالآخر طالبان کے ہاتھ آ گئی۔ یہاں سوال اور بھی گہرا ہو جاتا ہے۔ اگر امریکہ کو ایران میں دو طیاروں کی ٹیکنالوجی کے ہاتھ لگ جانے کا اتنا خوف تھا کہ انہیں فوراً جلا دیا گیا… تو افغانستان میں اتنی بڑی مقدار میں حساس سامان کو کیوں نہیں تباہ کیا گیا؟ وہ بونپو جو یہ کہتے نہیں تکتے کہ پاکستان امریکہ کا پھٹو ہے کیونکہ وہاں سے امداد یا ڈالر مل رہے ہیں تو یہ جو اسلحہ چھوڑ دیا اور ہر ہفتے تیس چالیس ملین ڈالر مل رہے ہیں وہ کس مد میں کس کے خلاف دئیے جارہے ہیں؟ کیا اس وقت یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ اسلحہ کس کے ہاتھ لگنا ہے اور کس کے خلاف استعمال ہوناہے؟ میرے خیال میں ان کو نہ صرف اندازہ تھا بلکہ جان بوجھ کر ایسا کیا گیا۔ امریکی مؤقف یہ ہے کہ اس جدید اسلحے کو چلانا آسان نہیں۔ اس کے لیے تربیت، سپیئر پارٹس اور مسلسل سپورٹ درکار ہوتی ہے، جو امریکی کنٹریکٹرز کے بغیر ممکن نہیں۔ یعنی کاغذوں میں یہ طاقت جتنی بڑی لگتی ہے، عملی طور پر شاید اتنی مؤثر نہ ہو۔ مگر زمینی حقیقت کچھ اور کہتی ہے۔ ایک بندوق، ایک گاڑی، ایک نائٹ وژن ڈیوائس… ان کے استعمال کے لیے کسی جدید سسٹم کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اور یہی چیزیں آج خطے میں خطرہ بن چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کو جن خطرات کا سامنا ہے، ان میں ایسے گروہوں کے نام شامل ہیں جیسے ٹٹی پی اور بی ایل اے — اور یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ جدید اسلحہ ان کے ہاتھوں تک پہنچ چکا ہے۔ یہاں آ کر سوال صرف امریکہ کی پالیسی کا نہیں رہتا… یہ اعتماد، نیت اور ترجیحات کا سوال بن جاتا ہے۔ ایران میں فوری کارروائی… افغانستان میں مکمل چھوڑ دینا… یہ فرق محض حالات کا نتیجہ تھا؟ یا پھر کہیں نہ کہیں مفادات کی لکیر کھینچی گئی تھی؟ اور اگر یہ سب واقعی ایک مجبوری تھی، ایک غلط اندازہ تھا، تو پھر بھی اس کی قیمت کون ادا کر رہا ہے؟ جواب واضح ہے… وہ ممالک جو اس خطے میں ہیں، جن کی سرحدیں کھلی ہیں، اور جن کے اندر یہ جنگ آ کر بس گئی ہے خاص کر پاکستان۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا میں فیصلے ہمیشہ اصولوں پر نہیں ہوتے… اکثر فیصلے مفادات پر ہوتے ہیں۔ اور جو قومیں دوسروں کے فیصلوں پر انحصار کرتی ہیں، وہ آخرکار دوسروں کے فیصلوں کا نتیجہ بھگتتی ہیں۔ آج پاکستان ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے صاف دیکھنا ہوگا کہ کون سا فیصلہ اس کا اپنا ہے اور کون سا کسی اور کا مسلط کیا ہوا کھیل۔ کیونکہ تاریخ بار بار ایک ہی سبق دیتی ہے: دوسروں کی جنگوں میں بچا ہوا اسلحہ… آخرکار آپ کے دروازے پر ہی آ کھڑا ہوتا ہے۔..s..#foryou #foryoupage #foryou

About