@kennethandrew22: #ponytail #hairclip

Mommy lanie
Mommy lanie
Open In TikTok:
Region: PH
Thursday 16 October 2025 05:04:33 GMT
732496
5286
104
310

Music

Download

Comments

its.me.airah2
🎀its not me🎀 :
pahingi pls
2026-07-04 09:12:41
2
shyshop4
Arah :
wow ang dami😳
2026-07-04 09:04:41
2
aynpamlian
ayn. :
auto follow back just reply done.
2026-07-04 15:59:38
4
prinaven25
sseczdan :
New affiliate here, Auto follow back 🥰
2026-07-04 02:12:31
3
paulinepanaligan04
. :
wow grabe ang dami
2026-07-03 12:15:07
2
manilyn.patoc
manilyn patoc :
Ang dami
2026-07-03 11:13:51
2
pearljade30
maryanne :
dami
2026-07-03 12:25:17
1
thelm...affiliate
Mattelma :
sobrang mura lng
2026-07-03 20:04:27
2
user6871567859611
mis.B :
67 PCs woww 677777⁷
2026-01-17 06:42:00
9
who_are6777.you
￴ ￴ ￴ ￴ ￴ ￴ ￴ ￴ :
46
2026-06-20 01:36:15
3
kairi_editors0
kairi_editors :
76.26
2025-11-22 21:46:48
6
catherinetao123
catherine99495 :
as in 67 pcs!!
2025-11-01 05:19:08
5
ricsxx0
RM :
dami
2026-06-19 02:13:34
4
ayaahan28
Ayaa 𐙚 :
Grabe sulit na sulit
2025-11-29 01:35:02
5
kaileidoscopexyz
mekyla :
worth it
2026-07-04 08:55:36
2
advice.finds
AdviceAndFinds :
Hello. Follow to follow & engagement . Comment done
2026-07-04 04:35:54
1
tegirl1995
@jane11😊 :
new affiliate here auto followback 💖💖💖
2026-07-05 06:43:11
0
shaq_0204
shaq🦋 :
auto follow back here
2026-07-03 14:58:15
1
dianamanu03
Diana & Manu🇵🇭🇮🇳 :
subrang mura po dito sa TikTok kapag sa labas subrang mahal🥺🥺
2026-01-18 02:34:39
5
mary.joyce143
moayaaxz :
hahah
2025-11-19 08:32:34
5
worthy_finds_11
zellie :
waaaah parang hanggang sa apo na yan aaaahh!
2026-06-20 12:42:12
3
kristine.joy.bars
kristine joy barsaga :
pa order
2026-07-04 09:34:58
1
rizalyn.arada
NAMI :
auto follow back po
2026-07-04 23:55:21
1
hulaanmosis6
Arcel Grace Vaay Torreblanca :
158 nga sakin ti
2026-05-18 13:51:36
3
pretty_ash672
Beauty🎀 :
wow legit nga andami
2026-07-04 09:06:34
2
To see more videos from user @kennethandrew22, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ڈیلی پاکستان کے یاسر شامی نے  مغوی غیر ملکی ر۔ی۔پ کیس میں ساری گیم پلٹ کر رکھ دی ۔   لاہور   پولیس  جو کہ رہی تھی کہ ہم نے  سی ایم پنجاب کے حکم پر فوری لڑکیاں  بازیاب کروای ہیں ۔ سب جھوٹ نکلا ۔  یاسر شامی نے سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوا کر  موقع پر موجود گواہوں کو سامنے لا کر سارے جھوٹ کو بینقاب کر کے رکھ دیا   اور بھیانک انکشاف کر ڈالے ۔  کیسے  اس کیس کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔   سنیے ساری کہانی یاسر شامی کی زبانی ۔۔  لاہور پولیس نے مغوی غیر ملکی لڑکیوں کو کسی کارروائی کے ذریعے بازیاب نہیں کروایا بلکہ یہ سی سی ٹی وی فوٹیج ڈیلی پاکستان ایڈٹوریل نے اپنی مدد آپ کے تحت حاصل کی ہے۔  فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ غازی روڈ پر ٹویوٹا شوروم اور فلٹر ہاؤس کے سامنے دو گاڑیاں آپس میں ٹکراتی ہیں۔  اس حادثے کے فوراً بعد پیچھے موجود اغوا کاروں کی گاڑی سے دو غیر ملکی لڑکیاں اچانک باہر چھلانگ لگا دیتی ہیں۔  سڑک پر رش بڑھنے اور شور شرابا ہونے کی وجہ سے فیملی کا ڈرائیور جب گاڑی سے اتر کر پوچھنے لگتا ہے تو اغوا کار لڑکیوں کو وہیں چھوڑ کر اپنی گاڑی کو انتہائی تیز رفتاری اور زگ زیگ انداز میں بھگا کر فرار ہو جاتے ہیں۔  اس دوران وہاں سے گزرنے والا ایک موٹر سائیکل سوار بھی بال بال بچتا ہے۔  اس حادثے کا شکار ہونے والی فیملی میاں بیوی اور ان کی دو سالہ بچی یکم جولائی کی شام پونے آٹھ بجے وہاں موجود تھی۔  گاڑی ٹکرانے سے بچی کا ناک ڈیش بورڈ سے لگا اور اسے چوٹ آئی گاڑی کا مالک جو اچھا خاصا ٹیکس پیئر ہے جب باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ اغوا کاروں کی وائٹ کلر کی ہنڈائی سانٹا فے گاڑی کے دونوں دروازے کھلے تھے اور لڑکیاں چیخ و پکار کر رہی تھیں۔  وہ سڑک پر لیٹ گئیں اور انگریزی میں بولنے لگیں کہ انہیں کڈنیپ کیا گیا ہے۔  متاثرہ شہری نے فوری طور پر اپنے فون سے ون فائیو پر کال کی جس کا پورا چار منٹ کا ریکارڈ موجود ہے۔  کال کے بعد دفاعی تھانے کا ایس ایچ او اور ایس پی کینٹ کے آپریٹر سفید ڈالے اور آلٹو گاڑی میں وہاں پہنچے ۔پولیس نے فلٹر ہاؤس میں بیٹھی ان لڑکیوں سے تفتیش کی ان کی تصاویر واٹس ایپ پر کسی کو دکھائیں اور پھر انہیں اپنے ڈالے میں بٹھا کر لے گئے۔  لڑکیوں کے ملتے ہی ڈی آئی جی آپریشنز کے آفس سے ایک پریس ریلیز جاری کی گئی کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز کے حکم پر لاہور پولیس نے تاریخی اقدام کرتے ہوئے دو گھنٹے کے اندر اندر مغوی لڑکیوں کو بازیاب کروا لیا۔  یہی نہیں بلکہ بی بی سی میڈیا کو بھی یہ کہانی سنائی گئی کہ ہالینڈ میں بیٹھے لڑکیوں کے باپ نے ون فائیو پر کال کی تھی جس کے بعد سی سی ٹی وی کی مدد سے ان کی گاڑی کو شاہدرہ سرگودھا اور اسلام آباد تک ٹریس کر کے بازیاب کیا گیا۔  حقیقت یہ ہے کہ پولیس گزشتہ دو دن سے انہیں ڈھونڈنے میں ناکام تھی اور لڑکیاں ایک مقامی فیملی کی گاڑی کے ایکسیڈنٹ اور ان کی ون فائیو کال کی وجہ سے ملیں لیکن پولیس نے سارا کریڈٹ خود لے لیا۔  واقعے کے بعد پولیس نے فلٹر ہاؤس اور اس کے ارد گرد کی دکانوں سے ڈی وی آر اور سی سی ٹی وی کیمرے اپنے قبضے میں لے لیے تاکہ حقائق کو چھپایا جا سکے۔ متاثرہ فیملی کا بمپر  اور ڈگی  ٹوٹ چکی تھی لیکن جب انہوں نے اپنے نقصان اور ایف آئی آر کا پوچھا تو پولیس والوں نے درخواست وصول کرنے کے باوجود پرچہ درج کرنے سے صاف انکار کر دیا پولیس کا کہنا تھا کہ ابھی معاملہ بہت گرم ہے اسے ٹھنڈا ہونے دیں پھر ایف آئی آر کاٹیں گے ہماری ترجیح آپ کا نقصان نہیں بلکہ لڑکیاں ڈھونڈنا تھی۔  اس سارے معاملے میں پولیس کی غنڈہ گردی اس وقت مزید سامنے آئی جب ڈیفنس تھانے کا ایس ایچ او آدھی رات کو ایک مجسٹریٹ کے گھر جا کر بدماشی اور دھمکیاں دیتا رہا۔ اگلے دن جج صاحب نے اپنے کلیمز کو اکٹھا کر کے ہڑتال کی جس پر ڈی آئی جی کو خود جا کر معافی مانگنی پڑی اور پھر پولیس افسران کے خلاف دفعہ 452 اور 506 کے تحت پرچہ درج ہوا۔  آخر میں افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ سات سمندر پار سے آنے والی ایک جھوٹی کال پر تو پوری ریاست حرکت میں آ گئی لیکن پاکستان کا پاسپورٹ رکھنے والے ٹیکس پیئر شہری کی سچی کال پر نہ تو اس کی دادرسی ہوئی اور نہ ہی اس کا نقصان پورا کیا گیا وہ آج بھی اپنی گاڑی اپنے پیسوں سے ٹھیک کروانے پر مجبور ہے۔  اب سوال یہ ہے کہ اتنی اہم واقعہ  کی  سی سی ٹی وی فوٹیج  کسی بڑے میڈیا ہاوس کی بجاے کسی بڑے صحافی کی بجاے یاسر شامی کے ہھتے کیسے چڑھی ؟#ptiofficial #waqas_jutt_pti #imrankhanpti #internationalforyou2026 #waqasjuttpti
ڈیلی پاکستان کے یاسر شامی نے مغوی غیر ملکی ر۔ی۔پ کیس میں ساری گیم پلٹ کر رکھ دی ۔ لاہور پولیس جو کہ رہی تھی کہ ہم نے سی ایم پنجاب کے حکم پر فوری لڑکیاں بازیاب کروای ہیں ۔ سب جھوٹ نکلا ۔ یاسر شامی نے سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوا کر موقع پر موجود گواہوں کو سامنے لا کر سارے جھوٹ کو بینقاب کر کے رکھ دیا اور بھیانک انکشاف کر ڈالے ۔ کیسے اس کیس کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ سنیے ساری کہانی یاسر شامی کی زبانی ۔۔ لاہور پولیس نے مغوی غیر ملکی لڑکیوں کو کسی کارروائی کے ذریعے بازیاب نہیں کروایا بلکہ یہ سی سی ٹی وی فوٹیج ڈیلی پاکستان ایڈٹوریل نے اپنی مدد آپ کے تحت حاصل کی ہے۔ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ غازی روڈ پر ٹویوٹا شوروم اور فلٹر ہاؤس کے سامنے دو گاڑیاں آپس میں ٹکراتی ہیں۔ اس حادثے کے فوراً بعد پیچھے موجود اغوا کاروں کی گاڑی سے دو غیر ملکی لڑکیاں اچانک باہر چھلانگ لگا دیتی ہیں۔ سڑک پر رش بڑھنے اور شور شرابا ہونے کی وجہ سے فیملی کا ڈرائیور جب گاڑی سے اتر کر پوچھنے لگتا ہے تو اغوا کار لڑکیوں کو وہیں چھوڑ کر اپنی گاڑی کو انتہائی تیز رفتاری اور زگ زیگ انداز میں بھگا کر فرار ہو جاتے ہیں۔ اس دوران وہاں سے گزرنے والا ایک موٹر سائیکل سوار بھی بال بال بچتا ہے۔ اس حادثے کا شکار ہونے والی فیملی میاں بیوی اور ان کی دو سالہ بچی یکم جولائی کی شام پونے آٹھ بجے وہاں موجود تھی۔ گاڑی ٹکرانے سے بچی کا ناک ڈیش بورڈ سے لگا اور اسے چوٹ آئی گاڑی کا مالک جو اچھا خاصا ٹیکس پیئر ہے جب باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ اغوا کاروں کی وائٹ کلر کی ہنڈائی سانٹا فے گاڑی کے دونوں دروازے کھلے تھے اور لڑکیاں چیخ و پکار کر رہی تھیں۔ وہ سڑک پر لیٹ گئیں اور انگریزی میں بولنے لگیں کہ انہیں کڈنیپ کیا گیا ہے۔ متاثرہ شہری نے فوری طور پر اپنے فون سے ون فائیو پر کال کی جس کا پورا چار منٹ کا ریکارڈ موجود ہے۔ کال کے بعد دفاعی تھانے کا ایس ایچ او اور ایس پی کینٹ کے آپریٹر سفید ڈالے اور آلٹو گاڑی میں وہاں پہنچے ۔پولیس نے فلٹر ہاؤس میں بیٹھی ان لڑکیوں سے تفتیش کی ان کی تصاویر واٹس ایپ پر کسی کو دکھائیں اور پھر انہیں اپنے ڈالے میں بٹھا کر لے گئے۔ لڑکیوں کے ملتے ہی ڈی آئی جی آپریشنز کے آفس سے ایک پریس ریلیز جاری کی گئی کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز کے حکم پر لاہور پولیس نے تاریخی اقدام کرتے ہوئے دو گھنٹے کے اندر اندر مغوی لڑکیوں کو بازیاب کروا لیا۔ یہی نہیں بلکہ بی بی سی میڈیا کو بھی یہ کہانی سنائی گئی کہ ہالینڈ میں بیٹھے لڑکیوں کے باپ نے ون فائیو پر کال کی تھی جس کے بعد سی سی ٹی وی کی مدد سے ان کی گاڑی کو شاہدرہ سرگودھا اور اسلام آباد تک ٹریس کر کے بازیاب کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ پولیس گزشتہ دو دن سے انہیں ڈھونڈنے میں ناکام تھی اور لڑکیاں ایک مقامی فیملی کی گاڑی کے ایکسیڈنٹ اور ان کی ون فائیو کال کی وجہ سے ملیں لیکن پولیس نے سارا کریڈٹ خود لے لیا۔ واقعے کے بعد پولیس نے فلٹر ہاؤس اور اس کے ارد گرد کی دکانوں سے ڈی وی آر اور سی سی ٹی وی کیمرے اپنے قبضے میں لے لیے تاکہ حقائق کو چھپایا جا سکے۔ متاثرہ فیملی کا بمپر اور ڈگی ٹوٹ چکی تھی لیکن جب انہوں نے اپنے نقصان اور ایف آئی آر کا پوچھا تو پولیس والوں نے درخواست وصول کرنے کے باوجود پرچہ درج کرنے سے صاف انکار کر دیا پولیس کا کہنا تھا کہ ابھی معاملہ بہت گرم ہے اسے ٹھنڈا ہونے دیں پھر ایف آئی آر کاٹیں گے ہماری ترجیح آپ کا نقصان نہیں بلکہ لڑکیاں ڈھونڈنا تھی۔ اس سارے معاملے میں پولیس کی غنڈہ گردی اس وقت مزید سامنے آئی جب ڈیفنس تھانے کا ایس ایچ او آدھی رات کو ایک مجسٹریٹ کے گھر جا کر بدماشی اور دھمکیاں دیتا رہا۔ اگلے دن جج صاحب نے اپنے کلیمز کو اکٹھا کر کے ہڑتال کی جس پر ڈی آئی جی کو خود جا کر معافی مانگنی پڑی اور پھر پولیس افسران کے خلاف دفعہ 452 اور 506 کے تحت پرچہ درج ہوا۔ آخر میں افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ سات سمندر پار سے آنے والی ایک جھوٹی کال پر تو پوری ریاست حرکت میں آ گئی لیکن پاکستان کا پاسپورٹ رکھنے والے ٹیکس پیئر شہری کی سچی کال پر نہ تو اس کی دادرسی ہوئی اور نہ ہی اس کا نقصان پورا کیا گیا وہ آج بھی اپنی گاڑی اپنے پیسوں سے ٹھیک کروانے پر مجبور ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اتنی اہم واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج کسی بڑے میڈیا ہاوس کی بجاے کسی بڑے صحافی کی بجاے یاسر شامی کے ہھتے کیسے چڑھی ؟#ptiofficial #waqas_jutt_pti #imrankhanpti #internationalforyou2026 #waqasjuttpti

About