@elrincondelchinoo: Camote del cerro #camote #botanasmexicanas #guadalajara #parati #viral

El Rincón del Chino
El Rincón del Chino
Open In TikTok:
Region: MX
Thursday 23 October 2025 00:39:40 GMT
8720
103
2
2

Music

Download

Comments

danydanymi11
Alexandra🍓 :
😨😨😨😨
2025-10-23 21:04:18
1
valonsomruiz
Alonso Ruiz :
🤣🤣🤣
2025-12-07 21:05:05
0
To see more videos from user @elrincondelchinoo, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

- کاش میں شروع سے ہی صالح ہوتی... کبھی کبھی دل پر ایک عجیب سا بوجھ اترتا ہے۔ ایسا بوجھ جس کا تعلق لوگوں سے نہیں ہوتا، حالات سے نہیں ہوتا، بلکہ اپنے آپ سے ہوتا ہے۔ میں سوچتی ہوں... کاش میں شروع سے ہی صالح ہوتی۔ کاش میری زندگی کے صفحات پر اتنے داغ نہ ہوتے۔ کاش میری روح اتنی آلودہ نہ ہوئی ہوتی۔ کاش میں نے اپنے رب کو اتنی بار ناراض نہ کیا ہوتا۔ کاش میں اُن لوگوں میں شامل ہوتی جن کے دل بچپن سے ہی اللہ کی محبت میں دھڑکتے ہیں۔ کاش میرے نامۂ اعمال میں وہ سیاہ نشان نہ ہوتے جنہیں یاد کر کے آج بھی دل کانپ جاتا ہے۔ میں سوچتی ہوں... کاش مجھے گناہ کا راستہ کبھی معلوم ہی نہ ہوتا۔ کاش میری آنکھیں ہمیشہ حلال پر ٹھہرتیں۔ کاش میری زبان نے کبھی ایسی بات نہ کہی ہوتی جو اللہ کو ناپسند ہو۔ کاش میرا دل ہمیشہ اللہ کے خوف سے بھرا رہتا۔ کاش میں اُن لوگوں میں ہوتی جنہیں نیکی کے لیے اپنے نفس سے جنگ نہ لڑنی پڑتی۔ مگر میں ایسی نہیں تھی۔ میں نے غلطیاں کیں۔ میں بھٹکی۔ میں نے اُن راستوں پر قدم رکھے جن پر آج چلنے کا تصور بھی مجھے رُلا دیتا ہے۔ میں نے ایسے لمحے گزارے جنہیں یاد کرکے دل شرمندگی سے جھک جاتا ہے۔ اور یہی احساس کبھی کبھی روح کو زخمی کر دیتا ہے۔ اور سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی ہوتی ہے کہ میں جانتی ہوں... اللہ مجھ پر بے شمار مہربان تھا۔ مگر میں پھر بھی بار بار اُس کی نافرمانی کرتی رہی۔ کبھی کبھی میرا دل چاہتا ہے کہ کاش میں اپنی زندگی کے کچھ صفحے پھاڑ سکتی۔ کاش کچھ دن، کچھ راتیں، کچھ فیصلے مٹا سکتی۔ کاش میں اپنے رب کے سامنے ایک ایسی روح لے کر حاضر ہوتی جس پر اتنے داغ نہ ہوتے۔ کیونکہ صالح بننے کی خواہش جتنی خوبصورت ہے، اپنی حقیقت کا ادراک اتنا ہی تکلیف دہ ہے۔ جب انسان اللہ کی محبت کو پہچان لیتا ہے، تب اسے اپنے گناہ پہلے سے زیادہ دکھائی دینے لگتے ہیں۔ وہی گناہ جو کبھی معمولی لگتے تھے، اب روح پر زخم محسوس ہوتے ہیں۔ وہی لغزشیں جو کبھی ہنسی میں گزر جاتی تھیں، اب راتوں کی بے چینی بن جاتی ہیں۔ جب میں اللہ کو ناراض کرتی ہوں، تو ایسا لگتا ہے جیسے میری روح پر ایک اور زخم لگ گیا ہو۔ اور یہ زخم کسی اور کو نظر نہیں آتے۔ مگر میں انہیں محسوس کرتی ہوں۔ اپنی دعاؤں میں۔ اپنی تنہائیوں میں۔ اپنی سجدہ گاہ میں۔ میں اکثر سوچتی ہوں: یا اللہ... اگر میں نے ابتدا ہی سے تجھے چُن لیا ہوتا تو؟ اگر میں نے اپنی جوانی تیرے نام کر دی ہوتی تو؟ اگر میں نے ہر خوشی اور ہر غم میں صرف تجھ پر بھروسہ کیا ہوتا تو؟ اگر میں نے تجھے اتنی دیر سے نہ پہچانا ہوتا تو؟
- کاش میں شروع سے ہی صالح ہوتی... کبھی کبھی دل پر ایک عجیب سا بوجھ اترتا ہے۔ ایسا بوجھ جس کا تعلق لوگوں سے نہیں ہوتا، حالات سے نہیں ہوتا، بلکہ اپنے آپ سے ہوتا ہے۔ میں سوچتی ہوں... کاش میں شروع سے ہی صالح ہوتی۔ کاش میری زندگی کے صفحات پر اتنے داغ نہ ہوتے۔ کاش میری روح اتنی آلودہ نہ ہوئی ہوتی۔ کاش میں نے اپنے رب کو اتنی بار ناراض نہ کیا ہوتا۔ کاش میں اُن لوگوں میں شامل ہوتی جن کے دل بچپن سے ہی اللہ کی محبت میں دھڑکتے ہیں۔ کاش میرے نامۂ اعمال میں وہ سیاہ نشان نہ ہوتے جنہیں یاد کر کے آج بھی دل کانپ جاتا ہے۔ میں سوچتی ہوں... کاش مجھے گناہ کا راستہ کبھی معلوم ہی نہ ہوتا۔ کاش میری آنکھیں ہمیشہ حلال پر ٹھہرتیں۔ کاش میری زبان نے کبھی ایسی بات نہ کہی ہوتی جو اللہ کو ناپسند ہو۔ کاش میرا دل ہمیشہ اللہ کے خوف سے بھرا رہتا۔ کاش میں اُن لوگوں میں ہوتی جنہیں نیکی کے لیے اپنے نفس سے جنگ نہ لڑنی پڑتی۔ مگر میں ایسی نہیں تھی۔ میں نے غلطیاں کیں۔ میں بھٹکی۔ میں نے اُن راستوں پر قدم رکھے جن پر آج چلنے کا تصور بھی مجھے رُلا دیتا ہے۔ میں نے ایسے لمحے گزارے جنہیں یاد کرکے دل شرمندگی سے جھک جاتا ہے۔ اور یہی احساس کبھی کبھی روح کو زخمی کر دیتا ہے۔ اور سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی ہوتی ہے کہ میں جانتی ہوں... اللہ مجھ پر بے شمار مہربان تھا۔ مگر میں پھر بھی بار بار اُس کی نافرمانی کرتی رہی۔ کبھی کبھی میرا دل چاہتا ہے کہ کاش میں اپنی زندگی کے کچھ صفحے پھاڑ سکتی۔ کاش کچھ دن، کچھ راتیں، کچھ فیصلے مٹا سکتی۔ کاش میں اپنے رب کے سامنے ایک ایسی روح لے کر حاضر ہوتی جس پر اتنے داغ نہ ہوتے۔ کیونکہ صالح بننے کی خواہش جتنی خوبصورت ہے، اپنی حقیقت کا ادراک اتنا ہی تکلیف دہ ہے۔ جب انسان اللہ کی محبت کو پہچان لیتا ہے، تب اسے اپنے گناہ پہلے سے زیادہ دکھائی دینے لگتے ہیں۔ وہی گناہ جو کبھی معمولی لگتے تھے، اب روح پر زخم محسوس ہوتے ہیں۔ وہی لغزشیں جو کبھی ہنسی میں گزر جاتی تھیں، اب راتوں کی بے چینی بن جاتی ہیں۔ جب میں اللہ کو ناراض کرتی ہوں، تو ایسا لگتا ہے جیسے میری روح پر ایک اور زخم لگ گیا ہو۔ اور یہ زخم کسی اور کو نظر نہیں آتے۔ مگر میں انہیں محسوس کرتی ہوں۔ اپنی دعاؤں میں۔ اپنی تنہائیوں میں۔ اپنی سجدہ گاہ میں۔ میں اکثر سوچتی ہوں: یا اللہ... اگر میں نے ابتدا ہی سے تجھے چُن لیا ہوتا تو؟ اگر میں نے اپنی جوانی تیرے نام کر دی ہوتی تو؟ اگر میں نے ہر خوشی اور ہر غم میں صرف تجھ پر بھروسہ کیا ہوتا تو؟ اگر میں نے تجھے اتنی دیر سے نہ پہچانا ہوتا تو؟

About