@maii_mai92: Bộ tính bằng gỗ vừa học vừa chơi giúp bé thích thú trong việc học toán nè #dodunghoctap #hoctoan #quetinh #belamquenvoitoan #mevabe

mai review
mai review
Open In TikTok:
Region: VN
Friday 31 October 2025 11:06:47 GMT
1797
88
79
37

Music

Download

Comments

emtaphoane
emtaphoane :
Hay ha tiện nè bé sẽ thích học hơn
2025-10-31 12:17:35
0
anhcosmetics8686
Anh Cosmetics :
Đsx mua
2025-11-01 01:18:10
0
baoboi_mediem
Bảo Bối của Mẹ Diễm :
Đẹp quá luôn
2025-10-31 12:12:14
0
baokimshop.com
bảo kim shop :
hay nha
2025-10-31 14:44:43
0
huong_soi_2006
huong_soi_2006 :
Giá hời quá tiện việc khám phá cho các con
2025-10-31 15:36:22
1
hoang.tinh618
Tình review :
tiện lợi cho các bé đỡ phải đếm bằng tay
2025-10-31 15:09:41
0
hoanguyen8556
Gạo Hoa :
tiện cho bé lắm nè
2025-11-01 01:10:39
0
nanngth
miss anna :
Bé mới học toán nên mua nha
2025-11-01 00:23:06
0
tranthaorevie
tranthaorevie :
Đã săn ạ
2025-10-31 23:24:06
0
mainguyen8794
Nguyễn Mãi ❤️ :
đã chốt nha shop
2025-10-31 21:59:03
0
oanh.oanh0205
Chimcheopeo :
bộ này xịn quá ta
2025-10-31 17:11:33
0
ngoctichcuc
Ngọc tích cực :
Hay quá e vừa chơi vừa học
2025-10-31 16:56:07
0
gia_dinhnho27
gia đình nhỏ 27 :
mới đặt xong được miễn ship luôn
2025-10-31 15:56:54
0
monbeauty12
Mun _ Skincare 1 :
xịn nha
2025-11-01 01:22:54
0
tongkhotrinhnu
Tiệm Nhà Dũng Bon :
Hữu ích nha đã mua
2025-10-31 15:05:04
0
trang.rua.ruby
Trang Rùa Ruby2025 :
Hay quá à
2025-10-31 14:54:03
0
trucdan202
Mẹ Trúc Đan :
tuyệt vời
2025-10-31 14:53:18
0
goclamvolamme1315
Góc làm vợ làm mẹ :
hay nha lúc trước bé mình chuẩn bị vào lớp 1 không có cái này. giờ cái gì cũng có rất tiện bé học dễ hơn
2025-10-31 14:50:38
0
taphoakhoaide
taphoakhoaide :
Rất hữu ích. Bé nhà m rất thích
2025-10-31 14:50:37
0
ngocquyen769
QUYÊN BÁN NHIỀU THỨ 🚩 :
này hay bổ ích nè
2025-10-31 14:50:05
0
nhung.hunh0996
Nhung Huỳnh :
hsy wa chi
2025-10-31 14:41:34
0
shopemtiennekkk
Shop Em Tiên Nek :
đã mua ạ
2025-11-01 06:05:02
0
me_sua02
@Mẹ Em Sữa :
đã mua
2025-11-11 09:27:18
0
tunhi99999
Tú Nhi 99 :
Hay quá luôn c
2025-11-07 22:44:04
0
besusu45
Bé su su :
Tiện lắm nha
2025-11-01 10:48:49
0
methanhcuatieuboi
methanhcuatieuboi :
Thích vậy nhĩ
2025-11-01 09:27:56
0
hoareviewmebim
Mẹ Bún review :
bộ này hữu ích lắm nha, bé nhà mình rất thích
2025-11-01 08:08:32
0
thamnguyen19901
Thắm Nguyễn :
tiện nè
2025-11-01 07:44:32
0
ngaymoivuive_79
Mỹ Phẩm và Làm Đẹp :
Hay nè, đặt cho con t
2025-11-01 06:41:45
0
anh.thu320
Anh.Thư :
Hữu ích cho bé lắm
2025-11-01 06:28:25
0
mochi1920
Mochi :
rất ok
2025-10-31 14:37:53
0
nhatminhshin
Mỹ Ngọc :
Hay qua c
2025-11-01 05:23:55
0
9trunghuynh6
Trung Huỳnh :
UK nè em 🥰🥰🥰🥰🥰🥰
2025-11-01 05:22:09
0
cout0404
cout0404 :
Da săn
2025-11-01 05:03:20
0
chiasecuocsongcungnhu
Tạp Hoá Nhà Như :
Đẹp mà bé mê lun
2025-11-01 04:36:59
0
ngoctuyen_9x
Ngọc Tuyền 💚 :
hay lắm nè rất đáng để mua
2025-11-01 04:25:37
0
minsuga_wonni
Nàng dâu gia lai :
Hay quá bé thích lắm c
2025-11-01 02:59:09
0
nguyenvuong_93
Nguyễn Vương :
Tiện lợi cần thiết cho bé
2025-11-01 02:07:49
0
camtien270320
Cẩm Tiên :
hữu ích cho bé lắm luôn
2025-11-01 01:34:38
0
nailbemo
Bé Mơ 🌻 :
tiện ích cho bé
2025-10-31 11:52:46
0
review_luccidoxinh
Lucci mặc gì ? :
xịn
2025-10-31 12:13:16
0
taphoa_92
𝑩𝒐̛🥑𝑫𝒂̂𝒖🍓 :
Oke lắm. Đã săn típ nè🌸
2025-10-31 12:11:25
0
trm.lng31
Trâm Lương :
Đã mua ạ
2025-10-31 12:06:30
0
changmini_vtl1601
Changmini🐝 :
Tiện lắm chị con e mê lắm
2025-10-31 12:05:18
0
gau_gao1925
🔥Mẹ Gấu Gạo🔥 :
Bé chuẩn bị vào học rất cần thiết nha
2025-10-31 12:02:51
0
auroracosmetics.mypham
𝒜𝓊𝓇𝑜𝓇𝒶 𝒰𝓃𝒷𝑜𝓍 🎀 :
rất thích cách học này luôn
2025-10-31 11:58:28
0
xuxin.99
THỜI TRANG NAM NỮ :
Chốt đơn
2025-10-31 11:53:33
0
thuy.trang9537
Thuy Trang :
Bé nhà chị thich lắm
2025-10-31 12:16:34
0
hanh_chia_se
❤️TIỆM CỦA HẠNH❤️ :
Tiện quá chừng luôn c
2025-10-31 11:42:54
0
To see more videos from user @maii_mai92, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

یہ ایک مکمل نفسیاتی جنگ تھی، جس کا مقصد میدانِ جنگ میں فتح نہیں بلکہ ذہنوں کی شکست تھا۔ این جی اوز، انسانی حقوق کے نام پر چلنے والی تنظیمیں، اور بیرونی فنڈنگ سے چلنے والے میڈیا پلیٹ فارمز اس جنگ کا حصہ بنے۔ مقصد واضح تھا: پاکستان کو اندر سے کمزور کرنا تاکہ بیرونی دباؤ مؤثر ہو سکے۔ مگر ایک بار پھر دشمن کو وہ نتائج نہ مل سکے جن کی امید کی جا رہی تھی۔ پاکستان نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور سرحدی آمدورفت کو مکمل طور پر سیل کر کے ایک ایسا قدم اٹھایا جس نے پورے کھیل کا رخ موڑ دیا۔ یہ فیصلہ محض سیکیورٹی نہیں بلکہ اسٹریٹجک معیشت کا بھی تھا۔ افغانستان پر دباؤ بڑھا، دہشت گردوں کی نقل و حرکت محدود ہوئی، اور پیغام واضح ہو گیا کہ پاکستان اب یکطرفہ رعایتیں دینے کو تیار نہیں۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں عالمی اسکرپٹ ایک بار پھر دراڑوں کا شکار ہوا۔ اور یہ دراڑیں آگے چل کر ایک بہت بڑے انکشاف اور بڑی صف بندی کا پیش خیمہ بنیں—جس کا تعلق صرف افغانستان یا بھارت سے نہیں بلکہ پورے خطے، خصوصاً ایران سے جا ملتا ہے۔ جب افغانستان کے محاذ پر طے شدہ نتائج حاصل نہ ہو سکے اور بھارت کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی ناکام ہو گئی، تو عالمی اسٹیبلشمنٹ کی نظریں فطری طور پر ایک اور اہم مہرے پر جا ٹھہریں—ایران۔ ایران محض ایک ہمسایہ ملک نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کا ایک کلیدی ستون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کو کمزور کیے بغیر نہ تو مشرقِ وسطیٰ میں مکمل بالادستی ممکن ہے اور نہ ہی پاکستان کو گھیرنے کا منصوبہ پایۂ تکمیل تک پہنچ سکتا ہے۔ ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ہمیشہ سیدھے سادے نہیں رہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں ایسے شواہد ملتے ہیں کہ ایرانی سرزمین کو پاکستان کے خلاف بالواسطہ یا بلاواسطہ استعمال ہونے دیا گیا۔ بعض علیحدگی پسند عناصر کو پناہ، بعض کو خاموش سہولت، اور بعض کو نظر انداز کیا گیا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی یہ ادراک ہو گیا کہ پاکستان سے محاذ آرائی دراصل اپنے ہی مفادات کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ یہی وہ موڑ تھا جہاں دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک عملی حقیقت پسندی نے جنم لیا۔ پاکستان نے اس مرحلے پر جذباتی ردِعمل کے بجائے اسٹریٹجک صبر کا مظاہرہ کیا۔ سفارتی چینلز کو فعال رکھا گیا، عسکری سطح پر واضح پیغامات دیے گئے، اور سب سے بڑھ کر یہ باور کرایا گیا کہ پاکستان اپنی سرزمین یا اپنے پڑوس کو کسی بھی صورت دشمن کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایران کی موجودہ قیادت نے، کم از کم عملی سطح پر، اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ کسی اخلاقی تبدیلی کا نتیجہ نہیں بلکہ خالص قومی مفاد کا تقاضا تھا۔ مگر یہی حقیقت عالمی طاقتوں کو سب سے زیادہ ناگوار گزری۔ ایران اگر پاکستان کے ساتھ ایک توازن میں آ جاتا ہے تو پورے خطے میں طاقت کا وہ خلا پیدا نہیں ہوتا جس کا فائدہ اسرائیل اور اس کے اتحادی اٹھانا چاہتے ہیں۔ اسی لیے ایران کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئیں۔ معاشی پابندیاں، کرنسی کا بحران، عوامی مشکلات، اور پھر ان مسائل کو سڑکوں پر احتجاج میں تبدیل کرنا—یہ سب ایک آزمودہ ماڈل ہے، جو اس سے پہلے شام، لیبیا اور یوکرین جیسے ممالک میں دیکھا جا چکا ہے۔ ایران میں ہونے والے حالیہ فسادات کو اگر محض عوامی غصے کا اظہار سمجھا جائے تو یہ ایک سطحی تجزیہ ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان مظاہروں کے پیچھے ایک واضح رجیم چینج ایجنڈا کارفرما ہے۔ وہی پرانا اسکرپٹ، وہی پرانے کردار، اور وہی پرانی فنڈنگ لائنز۔ مقصد صرف حکومت پر دباؤ ڈالنا نہیں بلکہ موجودہ ایرانی نظام کو مکمل طور پر بدل دینا ہے۔ اس تبدیلی کے بعد ایک ایسی قیادت لانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو اسرائیل اور مغربی مفادات کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہو—جیسے رضا شاہ پہلوی۔ امریکہ اور اسرائیل اس مقصد کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک ایران کا ایٹمی پروگرام، اس کی علاقائی خودمختاری، اور اس کا مزاحمتی بیانیہ ناقابلِ قبول ہے۔ لیکن اس ساری تصویر میں ایک پہلو ایسا ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے: اگر ایران گرتا ہے تو اگلا دباؤ براہِ راست پاکستان پر آئے گا۔ پاکستان اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد ایران کے معاملے کو محض ایک ہمسایہ ملک کا داخلی مسئلہ نہیں سمجھتا بلکہ اسے ایک بڑے علاقائی شطرنج کا حصہ سمجھتا ہے۔ بھارت مشرق سے، افغانستان مغرب سے، اور اگر ایران کمزور ہوا تو جنوب مغرب سے—یہ ایک مکمل گھیراؤ ہوگا۔ اور اس گھیراؤ کا اصل ہدف پاکستان کی ایٹمی صلاحیت ہے۔ جاری ہے... #foryo #fyppp #fypシ #foru #trending
یہ ایک مکمل نفسیاتی جنگ تھی، جس کا مقصد میدانِ جنگ میں فتح نہیں بلکہ ذہنوں کی شکست تھا۔ این جی اوز، انسانی حقوق کے نام پر چلنے والی تنظیمیں، اور بیرونی فنڈنگ سے چلنے والے میڈیا پلیٹ فارمز اس جنگ کا حصہ بنے۔ مقصد واضح تھا: پاکستان کو اندر سے کمزور کرنا تاکہ بیرونی دباؤ مؤثر ہو سکے۔ مگر ایک بار پھر دشمن کو وہ نتائج نہ مل سکے جن کی امید کی جا رہی تھی۔ پاکستان نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور سرحدی آمدورفت کو مکمل طور پر سیل کر کے ایک ایسا قدم اٹھایا جس نے پورے کھیل کا رخ موڑ دیا۔ یہ فیصلہ محض سیکیورٹی نہیں بلکہ اسٹریٹجک معیشت کا بھی تھا۔ افغانستان پر دباؤ بڑھا، دہشت گردوں کی نقل و حرکت محدود ہوئی، اور پیغام واضح ہو گیا کہ پاکستان اب یکطرفہ رعایتیں دینے کو تیار نہیں۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں عالمی اسکرپٹ ایک بار پھر دراڑوں کا شکار ہوا۔ اور یہ دراڑیں آگے چل کر ایک بہت بڑے انکشاف اور بڑی صف بندی کا پیش خیمہ بنیں—جس کا تعلق صرف افغانستان یا بھارت سے نہیں بلکہ پورے خطے، خصوصاً ایران سے جا ملتا ہے۔ جب افغانستان کے محاذ پر طے شدہ نتائج حاصل نہ ہو سکے اور بھارت کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی ناکام ہو گئی، تو عالمی اسٹیبلشمنٹ کی نظریں فطری طور پر ایک اور اہم مہرے پر جا ٹھہریں—ایران۔ ایران محض ایک ہمسایہ ملک نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کا ایک کلیدی ستون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کو کمزور کیے بغیر نہ تو مشرقِ وسطیٰ میں مکمل بالادستی ممکن ہے اور نہ ہی پاکستان کو گھیرنے کا منصوبہ پایۂ تکمیل تک پہنچ سکتا ہے۔ ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ہمیشہ سیدھے سادے نہیں رہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں ایسے شواہد ملتے ہیں کہ ایرانی سرزمین کو پاکستان کے خلاف بالواسطہ یا بلاواسطہ استعمال ہونے دیا گیا۔ بعض علیحدگی پسند عناصر کو پناہ، بعض کو خاموش سہولت، اور بعض کو نظر انداز کیا گیا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی یہ ادراک ہو گیا کہ پاکستان سے محاذ آرائی دراصل اپنے ہی مفادات کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ یہی وہ موڑ تھا جہاں دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک عملی حقیقت پسندی نے جنم لیا۔ پاکستان نے اس مرحلے پر جذباتی ردِعمل کے بجائے اسٹریٹجک صبر کا مظاہرہ کیا۔ سفارتی چینلز کو فعال رکھا گیا، عسکری سطح پر واضح پیغامات دیے گئے، اور سب سے بڑھ کر یہ باور کرایا گیا کہ پاکستان اپنی سرزمین یا اپنے پڑوس کو کسی بھی صورت دشمن کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایران کی موجودہ قیادت نے، کم از کم عملی سطح پر، اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ کسی اخلاقی تبدیلی کا نتیجہ نہیں بلکہ خالص قومی مفاد کا تقاضا تھا۔ مگر یہی حقیقت عالمی طاقتوں کو سب سے زیادہ ناگوار گزری۔ ایران اگر پاکستان کے ساتھ ایک توازن میں آ جاتا ہے تو پورے خطے میں طاقت کا وہ خلا پیدا نہیں ہوتا جس کا فائدہ اسرائیل اور اس کے اتحادی اٹھانا چاہتے ہیں۔ اسی لیے ایران کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئیں۔ معاشی پابندیاں، کرنسی کا بحران، عوامی مشکلات، اور پھر ان مسائل کو سڑکوں پر احتجاج میں تبدیل کرنا—یہ سب ایک آزمودہ ماڈل ہے، جو اس سے پہلے شام، لیبیا اور یوکرین جیسے ممالک میں دیکھا جا چکا ہے۔ ایران میں ہونے والے حالیہ فسادات کو اگر محض عوامی غصے کا اظہار سمجھا جائے تو یہ ایک سطحی تجزیہ ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان مظاہروں کے پیچھے ایک واضح رجیم چینج ایجنڈا کارفرما ہے۔ وہی پرانا اسکرپٹ، وہی پرانے کردار، اور وہی پرانی فنڈنگ لائنز۔ مقصد صرف حکومت پر دباؤ ڈالنا نہیں بلکہ موجودہ ایرانی نظام کو مکمل طور پر بدل دینا ہے۔ اس تبدیلی کے بعد ایک ایسی قیادت لانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو اسرائیل اور مغربی مفادات کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہو—جیسے رضا شاہ پہلوی۔ امریکہ اور اسرائیل اس مقصد کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک ایران کا ایٹمی پروگرام، اس کی علاقائی خودمختاری، اور اس کا مزاحمتی بیانیہ ناقابلِ قبول ہے۔ لیکن اس ساری تصویر میں ایک پہلو ایسا ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے: اگر ایران گرتا ہے تو اگلا دباؤ براہِ راست پاکستان پر آئے گا۔ پاکستان اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد ایران کے معاملے کو محض ایک ہمسایہ ملک کا داخلی مسئلہ نہیں سمجھتا بلکہ اسے ایک بڑے علاقائی شطرنج کا حصہ سمجھتا ہے۔ بھارت مشرق سے، افغانستان مغرب سے، اور اگر ایران کمزور ہوا تو جنوب مغرب سے—یہ ایک مکمل گھیراؤ ہوگا۔ اور اس گھیراؤ کا اصل ہدف پاکستان کی ایٹمی صلاحیت ہے۔ جاری ہے... #foryo #fyppp #fypシ #foru #trending

About