Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@kimngan.review1: Nem chua thanh hoá thơm ngon nhe😘# #nemchua #food #saleluongve #doanvat #salecuoithang
kimngan.review1
Open In TikTok:
Region: VN
Sunday 02 November 2025 08:26:35 GMT
145
5
0
0
Music
Download
No Watermark .mp4 (
7.97MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
7.97MB
)
Watermark .mp4 (
8.52MB
)
Music .mp3
Comments
There are no more comments for this video.
To see more videos from user @kimngan.review1, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
කටාන ශ්රී වර්ධනාරාම විහාරස්ථානයේ සිදුකළ යුගාසන කවිබණ දේශනය 🌸🙏🌼🌸 #මෙහෙණි #කවිබණ #යුගාසන #සිංහලබණ #ධර්මදේශනා
#police #bodycam
#fyp #draft
#CapCut
ایف سولہ طیاروں کے پائلٹس کو یہ حکم دے دیا گیا تھا کہ اگر یہ دونوں سی ون تھرٹی طیارے اپنے راستے سے ذرا سا بھی ہٹیں یا پاکستان سے باہر جانے کی کوشش کریں تو ان دونوں سی ون تھرٹی طیاروں کو مار کر گرا دیا جائے۔ ان جہازوں کے چاغی پہنچنے کے فوراً بعد ہر بم کو سرنگ کے آخر میں قائم ایک کمرے میں لے جایا گیا۔ اس کمرے کو ’’زیرو روم‘‘ کہا جاتا تھا۔ زیرو روم میں ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی قیادت میں ان بموں کے مختلف حصوں کو آپس میں جوڑا گیا۔ ایک ایٹم بم کو اسمبل کرنے میں کم و بیش ڈھائی سے تین دن لگتے تھے، لیکن جب وہاں اسمبلی کا کام شروع کیا گیا تو صرف تیس گھنٹوں میں چھ کے چھ ایٹم بم بغیر کسی دشواری کے اسمبلی ہو چکے تھے۔ اور اس وقت یہ احساس ہوا کہ یہاں انسان اکیلے کام نہیں کر رہے، بلکہ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طاقت بھی شامل تھی۔ یہ کام مکمل ہونے کے فوراً بعد، 25 مئی کو 70 بلوچ رجمنٹ کی مدد سے ان سرنگوں کو 12 ہزار ریت کی بوریوں اور 6 ہزار سیمنٹ کی بوریوں سے بھر کر بند کر دیا گیا۔ کہتے ہیں کہ اس دن ڈاکٹر ثمر مبارک مند تقریباً پانچ کلومیٹر پیدل چل کر ان تمام تاروں اور آلات کے آخری سرے تک پہنچے۔ 27 مئی 1998 کا دن آیا، جب چاغی کی سرنگوں میں استعمال ہونے والا سیمنٹ خشک ہو چکا تھا۔ اسی دوران نواز شریف نے امریکی صدر بل کلنٹن کو فون کیا۔ اس فون پر نواز شریف نے کلنٹن کی بات نہ ماننے پر معذرت بھی کی۔ ساتھ ہی پاکستان میں جوہری تجربات کرنے کے لیے 28 مئی کو دوپہر تین بجے کا وقت مقرر کیا گیا۔ 27 اور 28 مئی کی درمیانی رات، حسبِ معمول، میں تقریباً بارہ بجے دفتر میں تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ ہمیں انٹیلیجنس رپورٹس ملی ہیں کہ بھارت اور اسرائیل ہماری جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے والے ہیں۔ میں نے کہا کہ رات کے وقت ہم اس بحران کو سنبھال لیں گے۔ اگر کوئی مسئلہ ہوا تو سب سے پہلا کام جو میں نے کیا، وہ یہ تھا کہ میں نے بھارت کے ہائی کمشنر کو دفترِ خارجہ طلب کیا۔ ان کا نام ستیش چندرا تھا۔ میں نے ان سے کہا: ’’ہمیں یہ خبر ملی ہے، اور اگر یہ خبر سچ ہے تو پھر آپ اپنی حکومت کو بتا دیں کہ پاکستان کا جواب پوری دنیا دیکھے گی۔‘‘
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy