@wv_xyz00: chổi chà đây mn#xh #viral #fyp

7 UP💫.
7 UP💫.
Open In TikTok:
Region: VN
Monday 03 November 2025 05:03:54 GMT
24072
237
10
562

Music

Download

Comments

tue.nhi63
I love you :
chổi chà
2025-11-04 14:01:51
2
minh.khanh.1
M-Khánh :
bản gốc mà ích tim hơn video khác v😳
2025-12-02 04:09:04
1
augiatri4
Âu gia trí✅ :
Chổi chà chổi chà 😂😂😂
2025-12-09 23:22:25
0
noibuonkhoquen012
Pyy oii Pyy🚀 :
và đây là kết quả của những cây chổi chà😭😭😭
2025-11-04 04:07:39
3
tutai2112k1
Tú Tài :
@Huỳnh Minh Toàn ( Tuệ Nhẫn )
2025-11-11 14:44:38
0
nqoc_1212
Bao Ngoc :
💔
2025-11-11 06:08:22
0
gauuu057
obitooooo :
😳😳😳
2025-11-05 00:37:15
0
tue.nhi63
I love you :
😂
2025-11-04 14:01:55
0
bnhuquynh01
ghet love. :
@️
2025-11-10 14:50:38
0
To see more videos from user @wv_xyz00, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos


"سرب کمانڈر نے کانپتے ہوئے کہا: 'ہمارے پاس ٹینک تھے، لیکن جب رات کے اندھیرے میں جنگلوں سے لاؤڈ اسپیکر پر 'اللّٰہ اکبر' گونجا، تو میرے فوجی ہتھیار پھینک کر رونے لگے!'" یہ 1995 کی بوسنیا جنگ کا وہ لرزہ خیز باب ہے جسے یورپ آج بھی یاد کر کے کانپ اٹھتا ہے۔ جب سربیا کی ظالم فوج بوسنی مسلمانوں کا بے دردی سے خون بہا رہی تھی، تو 'زاویدووچی' شہر کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا۔ پہاڑیوں پر بیٹھے سرب فوجی روزانہ ہزاروں توپ کے گولے مسلمانوں کی بستیوں پر گرا رہے تھے۔ پھر اچانک جنگ کا نقشہ بدل گیا! پاکستان، افغانستان، ترکی اور عرب ممالک سے چند سو سرفروش رضاکار، موت کے منہ میں چھلانگ لگانے بوسنیا پہنچ گئے۔ ان کے پاس ٹینک یا توپیں نہیں تھیں، صرف بندوقیں، دستی بم اور چھریاں تھیں۔ 'لاس اینجلس ٹائمز' کی رپورٹ کے مطابق، ان مجاہدین نے سب سے پہلے نفسیاتی جنگ لڑی۔ انہوں نے رات کے اندھیرے میں پہاڑوں پر لاؤڈ اسپیکر لگائے اور تکبیر کی صدائیں بلند کیں۔ کہتے ہیں کہ اس جنگ میں زندہ بچ جانے والے ایک سرب افسر نے اپنی ڈائری میں لکھا تھا: "ہم 2 سال سے اس ناگوار پہاڑی (بودسیجیلووو) پر قبضہ جمائے بیٹھے تھے۔ ہم سمجھتے تھے کوئی ہمیں ہرا نہیں سکتا۔ لیکن اس رات 4 بجے جب دھند میں سے وہ کلمہ پڑھتے ہوئے ہماری خندقوں میں کودے، تو ان کی آنکھوں میں موت کا خوف نہیں، بلکہ موت سے عشق تھا۔ وہ قیدی نہیں بناتے تھے، وہ سیدھا خنجر سے بات کرتے تھے!" صرف 10 منٹ! جی ہاں، حیرت انگیز طور پر صرف 10 منٹ کے اندر ان جانبازوں نے دستی بموں اور چھریوں سے سرب فوج کی اگلی صفیں اکھاڑ پھینکیں۔ 3 مکمل سرب بٹالینز کا نام و نشان مٹ گیا اور 500 سے زائد فوجی مارے گئے۔ بوسنی سرب رہنما 'رادووان کارادژچ' کا وہ غرور خاک میں مل گیا جس میں اس نے کہا تھا کہ ہم اس شہر کو جنگِ عظیم کے 'اسٹالن گراڈ' کی طرح بچائیں گے۔ ان سر فروشوں کی اس خوفناک کارروائی نے پورے یورپ کی نیندیں اڑا دیں۔ یورپی طاقتوں کو ڈر پڑ گیا کہ اگر مسلمانوں کے مزید مجاہدین یہاں پہنچ گئے تو پورا نقشہ بدل جائے گا، جس کے بعد فوراً امن کانفرنسیں بلا کر جنگ روکی گئی۔ دنیا کی کوئی سپر پاور اس فوج سے نہیں جیت سکتی، جو جنگ لڑنے نہیں، بلکہ مرنے کے لیے میدان میں اتری ہو!

About