اک روز دسمبر کی ٹھنڈی رات میں تم کو بلاؤں گی 🌹
بٹھا کر پاس اپنے ، اپنے ہاتھ کی چائے پلاؤں گی ،۔ 🌹
پھر چھیڑوں گی کالج کے زمانے کی وہ باتیں ،۔ 🌹
وہ پرانی باتیں تم کو سنا سنا کر ستاؤں گی ،۔ 🌹
صنم ❤️تم جو روٹھو میری اٹھکیلیوں سے ،۔ 🌹
اپنی پلکوں سے میں چوم کر تجھ کو مناؤں گی 🌹
سونے نہ دوں گی اک پل تجھے رات بھر ،۔
کھلی آنکھوں کے سپنے تجھے سناؤں گی 🌹
بن تیرے کیسے گزاری ہے تنہا زندگی میں نے 🌹
سنا کے وحشت کی وہ راتیں تجھ کو رولاؤں گی 🌹
بٹھا کر پاس اپنے ، اپنے ہاتھ کی چائے پلاؤں گی 💋
✍️۔ ناصر* باجوہ 🌹