@a3mientay71https: #nhachaymoingay #canhdepmientay #creatorsearchinsights

A3 Miền Tây 71🐲🐲🌴🌾🌴🌾
A3 Miền Tây 71🐲🐲🌴🌾🌴🌾
Open In TikTok:
Region: VN
Thursday 13 November 2025 22:16:58 GMT
31760
2715
349
512

Music

Download

Comments

thien5585
Thiện Nguyễn :
♥️♥️cảnh đẹp nhạc hay quá bạn
2026-01-27 01:29:12
2
su.phm.th67
Sáu QN :
cảnh đẹp quá đi thôi 🥰🥰🥰🥰
2026-01-14 14:55:50
4
user2946157698704
Nụ Nguyễn :
nhạc hay cảnh đẹp quá ah trai của em gái ạ
2026-05-17 03:42:06
1
manhdao.123
MẠNH ĐÀO123 :
nhạc hay hình ảnh rất đẹp hát hay lắm tuyệt vời luôn em ơi anh Chào em nha mến chúc buổi tối vui ve hanh phúc nhé em ❤️❤️❤️
2026-05-11 13:16:49
1
tranhakg
Trần Hà, 1981 :
Tuyệt vời quá anh 🥰🥰🥰🥰🥰
2026-05-12 14:57:51
1
thuannguyenngoc92
thuannguyenngoc92 :
chắc nay trời nắng đẹp lắm đấy em gái tôi ơi
2026-01-22 08:08:26
2
diemhangcantho
DIỄM HẰNG ✅✅ :
Cảnh đẹp Ck tuyệt vời lắm bạn ơi 🥰
2026-01-19 09:19:29
2
thuthy8139
Thuỷ Thủy :
Cảnh đẹp quá 🥰🥰🥰
2026-01-13 03:02:10
2
thu.linh0489
thuỳ linh :
cảnh đường đẹp quá
2025-12-22 15:16:30
1
nguoivotam888
trinh vinh long 64 :
cảnh đẹp quá trời luôn
2026-01-18 07:08:03
2
anhutbap_67g1
𝓐𝓷𝓱 𝓤𝓽 🌽🌽🌽⑥⑦Ⓖ① :
Nhạc hay🥰
2026-04-27 08:43:51
1
tthanh915
T Thanh :
Nhạc hay thêm cảnh đẹp tuyệt vời nha bạn, Chúc bạn luôn luôn vv tràn đầy yêu thương bạn nhé ♥️♥️♥️
2026-01-21 13:08:01
1
rng.th81994
Bàaa Sáu'xs :
tuyệt vời lắm 🌹
2026-01-14 06:42:35
3
suaxephuongthu
sửa xe phương thu :
hay quá 👍
2026-01-27 08:21:03
1
utnek92
Úե Nèk🧋 :
TUYỆT VỜI QUÁ À ANH
2026-01-31 14:49:03
1
userm8e6fx0f56
Thúy Vân :
tuyệt vời 🌹🌹
2026-01-22 14:30:32
1
sinhtran1973
Trần Văn Sinh :
2026-05-19 12:02:22
1
thuannguyenngoc92
thuannguyenngoc92 :
cảnh quê êm đêm làm nh nho quê vá nè
2026-01-22 08:10:34
1
giabaohuynh71
💥Ngoc Thuần💦 :
đường về nhà e🥰🥰🥰🥰
2025-12-29 23:23:35
3
vn.nh7598
@Văn Ánh759 :
Nhạc hay cảnh đẹp lắm bạn 🥰🥰🥰
2025-11-23 13:59:41
3
thuyen.bich20
ThuyenLe :
Cảnh đẹp
2026-01-31 08:47:29
1
nguyendaocahat
NGUYỄN ĐÀO❤️❤️❤️❤️ :
Chúc anh buổi tối vui vẻ 🥰🥰🥰
2026-01-12 12:43:35
1
huong.truong155
Huong Truong :
dep qua nga a trai bsvvhp ngay moi thanh cong nhe a🥰🥰🥰
2025-12-05 21:25:30
3
kim.phuong313
Kim Phuong :
Đường làng,dừa rợp bóng xanh. Có phải nơi đấy,trăng thanh đang chờ?
2026-01-23 22:03:17
2
tuyentran109
NHƯ TUYỀN ❤ :
Ôi video thật hay quá A ♥♥♥
2025-11-14 07:19:22
3
To see more videos from user @a3mientay71https, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

میں تھکا ہوا نہیں ہوں فقط، میں مدتوں سے اپنے اندر ایک خاموش جنگ لڑ رہا ہوں۔ میری عمر ابھی پندرہ برس ہے، مگر نہ جانے کیوں دل پر ایسی تھکن اتر آئی ہے جیسے کئی صدیوں کا سفر طے کر چکا ہوں۔ لوگ میری مسکراہٹ دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ میں خوش ہوں، میری خاموشی دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ میں مضبوط ہوں، اور میری زبان سے نکلا ہوا یہ جملہ کہ ’’میں ٹھیک ہوں‘‘ سن کر مطمئن ہو جاتے ہیں؛ مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ اس ’’ٹھیک‘‘ کے پیچھے کتنے آنسو چھپے ہیں، کتنی بےخوابی ہے، کتنی بےآواز فریادیں ہیں۔ میں سب کو سمجھاتا رہا کہ میں مضبوط ہوں، ہاں، میں بہت مضبوط ہوں، مگر شاید مضبوط دکھائی دیتے دیتے اپنے ہی اندر کہیں ٹوٹنے لگا ہوں۔ میں ہنستا ہوں تو لوگ سمجھتے ہیں خوشی ہے، کاش کوئی پوچھے، اس ہنسی کے پیچھے کیا کمی ہے۔ مجھے اپنے ہی دل کی کیفیت کبھی کبھی سمجھ نہیں آتی۔ کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میرے اندر شور ہی شور ہے، مگر زبان پر ایک لفظ بھی نہیں آتا۔ میں لوگوں کے درمیان بیٹھا ہوتا ہوں مگر دل کسی سنسان مقام پر بھٹک رہا ہوتا ہے۔ گھر میں ہوتا ہوں تو بھی دل کو گھر جیسا سکون نہیں ملتا، اور دنیا میں نکلتا ہوں تو دنیا کی بھیڑ میں خود کو اور زیادہ تنہا پاتا ہوں۔ سب کے اپنے مسئلے ہیں، اپنی مصروفیات ہیں، اپنی زندگیاں ہیں؛ شاید اسی لیے میری خاموشی کسی کو غیر معمولی نہیں لگتی۔ مگر میرے لیے یہ خاموشی روز بروز بھاری ہوتی جا رہی ہے۔ کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جو آنکھوں تک نہیں آتے، بس انسان کو اندر ہی اندر خاموش کرتے جاتے ہیں۔ میں ہر بار اپنے آپ کو سمجھاتا ہوں کہ گزر جائے گا، یہ وقت بھی گزر جائے گا، مگر کبھی کبھی انتظار بھی تھکا دیتا ہے۔ دل چاہتا ہے کوئی ایسا شخص ہو جو میرے الفاظ کے پیچھے چھپی ہوئی بات پڑھ لے؛ جو میرے ’’کچھ نہیں ہوا‘‘ میں چھپی ہوئی پوری داستان سمجھ لے؛ جو میرے خاموش ہو جانے پر مجھے تنہا چھوڑنے کے بجائے میرے پاس بیٹھ جائے۔ مجھے کوئی ایسا سہارا چاہیے جس کے سامنے مجھے مضبوط بننے کی ضرورت نہ پڑے، جہاں میں اپنے آنسو چھپا نہ سکوں، جہاں میری کمزوری کو عیب نہ سمجھا جائے۔ مجھے دنیا سے لڑنے والا کوئی شخص نہیں چاہیے، مجھے بس کوئی ایسا چاہیے جو میرے ساتھ بیٹھ کر مجھے سن لے۔ کبھی کبھی اپنی ہی حالت سے ڈر لگتا ہے۔ ڈر اس بات کا کہ مسلسل دبایا ہوا دکھ کہیں مجھے اپنے قابو سے دور نہ لے جائے۔ اسی لیے اب مجھے خاموش رہنے کے بجائے کسی ایسے انسان کی ضرورت ہے جو میری بات کو سنجیدگی سے لے، مجھے اپنے قریب رکھے اور مجھے یہ احساس دلائے کہ میں اس بوجھ کے ساتھ اکیلا نہیں ہوں۔ میں کسی شاندار دنیا کا خواہش مند نہیں؛ مجھے تو بس ایک چھوٹا سا پُرسکون گوشہ چاہیے، جہاں کچھ دیر زندگی کے شور سے دُور بیٹھ سکوں، جہاں کوئی مجھ سے سوالوں کی بوچھاڑ نہ کرے، جہاں کوئی میرے آنسوؤں سے گھبرا نہ جائے، جہاں میرے بچپنے کو بھی جگہ ملے۔ عمر میری پندرہ برس، مگر دل پر زمانوں کا بوجھ، لوگ کہتے ہیں بچہ ہوں—میں اپنی تھکن سے پوچھوں تو کیا کہوں؟ میں نے شاید اپنی عمر سے پہلے بہت کچھ محسوس کر لیا ہے۔ کچھ ایسے دکھ بھی دیکھ لیے جنہیں الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ مگر میں اب بھی چاہتا ہوں کہ کوئی مجھے سنبھالے، کوئی میرے کندھے سے یہ بوجھ تھوڑا سا اتار دے، کوئی مجھے یقین دلائے کہ رونا کمزوری نہیں، تھک جانا شکست نہیں، اور مدد مانگنا شرمندگی نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ کوئی مجھے پھر سے وہ سکون دے جس میں انسان کو ہر وقت خود کو مضبوط ثابت نہیں کرنا پڑتا۔ مجھے منزل نہیں چاہیے، ابھی راستے میں سہارا چاہیے، مجھے دنیا نہیں چاہیے، بس ایک محفوظ کنارا چاہیے۔ اور شاید میری سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ ایک دن میں بغیر کسی خوف کے کہہ سکوں: ’’ہاں، آج میں ٹھیک نہیں ہوں،‘‘ اور سامنے والا مجھے یہ کہہ کر خاموش نہ کرے کہ ’’تم تو بہت مضبوط ہو۔‘‘ کیونکہ مضبوط لوگ بھی تھک جاتے ہیں، مضبوط دل بھی رو پڑتے ہیں، اور کبھی کبھی سب سے زیادہ ضرورت اسی شخص کو ہوتی ہے جو سب کے سامنے سب سے زیادہ مضبوط 🙃🚬دکھائی دیتا ہے۔ بس کوئی ا #like #like #like #like #likel
میں تھکا ہوا نہیں ہوں فقط، میں مدتوں سے اپنے اندر ایک خاموش جنگ لڑ رہا ہوں۔ میری عمر ابھی پندرہ برس ہے، مگر نہ جانے کیوں دل پر ایسی تھکن اتر آئی ہے جیسے کئی صدیوں کا سفر طے کر چکا ہوں۔ لوگ میری مسکراہٹ دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ میں خوش ہوں، میری خاموشی دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ میں مضبوط ہوں، اور میری زبان سے نکلا ہوا یہ جملہ کہ ’’میں ٹھیک ہوں‘‘ سن کر مطمئن ہو جاتے ہیں؛ مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ اس ’’ٹھیک‘‘ کے پیچھے کتنے آنسو چھپے ہیں، کتنی بےخوابی ہے، کتنی بےآواز فریادیں ہیں۔ میں سب کو سمجھاتا رہا کہ میں مضبوط ہوں، ہاں، میں بہت مضبوط ہوں، مگر شاید مضبوط دکھائی دیتے دیتے اپنے ہی اندر کہیں ٹوٹنے لگا ہوں۔ میں ہنستا ہوں تو لوگ سمجھتے ہیں خوشی ہے، کاش کوئی پوچھے، اس ہنسی کے پیچھے کیا کمی ہے۔ مجھے اپنے ہی دل کی کیفیت کبھی کبھی سمجھ نہیں آتی۔ کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میرے اندر شور ہی شور ہے، مگر زبان پر ایک لفظ بھی نہیں آتا۔ میں لوگوں کے درمیان بیٹھا ہوتا ہوں مگر دل کسی سنسان مقام پر بھٹک رہا ہوتا ہے۔ گھر میں ہوتا ہوں تو بھی دل کو گھر جیسا سکون نہیں ملتا، اور دنیا میں نکلتا ہوں تو دنیا کی بھیڑ میں خود کو اور زیادہ تنہا پاتا ہوں۔ سب کے اپنے مسئلے ہیں، اپنی مصروفیات ہیں، اپنی زندگیاں ہیں؛ شاید اسی لیے میری خاموشی کسی کو غیر معمولی نہیں لگتی۔ مگر میرے لیے یہ خاموشی روز بروز بھاری ہوتی جا رہی ہے۔ کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جو آنکھوں تک نہیں آتے، بس انسان کو اندر ہی اندر خاموش کرتے جاتے ہیں۔ میں ہر بار اپنے آپ کو سمجھاتا ہوں کہ گزر جائے گا، یہ وقت بھی گزر جائے گا، مگر کبھی کبھی انتظار بھی تھکا دیتا ہے۔ دل چاہتا ہے کوئی ایسا شخص ہو جو میرے الفاظ کے پیچھے چھپی ہوئی بات پڑھ لے؛ جو میرے ’’کچھ نہیں ہوا‘‘ میں چھپی ہوئی پوری داستان سمجھ لے؛ جو میرے خاموش ہو جانے پر مجھے تنہا چھوڑنے کے بجائے میرے پاس بیٹھ جائے۔ مجھے کوئی ایسا سہارا چاہیے جس کے سامنے مجھے مضبوط بننے کی ضرورت نہ پڑے، جہاں میں اپنے آنسو چھپا نہ سکوں، جہاں میری کمزوری کو عیب نہ سمجھا جائے۔ مجھے دنیا سے لڑنے والا کوئی شخص نہیں چاہیے، مجھے بس کوئی ایسا چاہیے جو میرے ساتھ بیٹھ کر مجھے سن لے۔ کبھی کبھی اپنی ہی حالت سے ڈر لگتا ہے۔ ڈر اس بات کا کہ مسلسل دبایا ہوا دکھ کہیں مجھے اپنے قابو سے دور نہ لے جائے۔ اسی لیے اب مجھے خاموش رہنے کے بجائے کسی ایسے انسان کی ضرورت ہے جو میری بات کو سنجیدگی سے لے، مجھے اپنے قریب رکھے اور مجھے یہ احساس دلائے کہ میں اس بوجھ کے ساتھ اکیلا نہیں ہوں۔ میں کسی شاندار دنیا کا خواہش مند نہیں؛ مجھے تو بس ایک چھوٹا سا پُرسکون گوشہ چاہیے، جہاں کچھ دیر زندگی کے شور سے دُور بیٹھ سکوں، جہاں کوئی مجھ سے سوالوں کی بوچھاڑ نہ کرے، جہاں کوئی میرے آنسوؤں سے گھبرا نہ جائے، جہاں میرے بچپنے کو بھی جگہ ملے۔ عمر میری پندرہ برس، مگر دل پر زمانوں کا بوجھ، لوگ کہتے ہیں بچہ ہوں—میں اپنی تھکن سے پوچھوں تو کیا کہوں؟ میں نے شاید اپنی عمر سے پہلے بہت کچھ محسوس کر لیا ہے۔ کچھ ایسے دکھ بھی دیکھ لیے جنہیں الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ مگر میں اب بھی چاہتا ہوں کہ کوئی مجھے سنبھالے، کوئی میرے کندھے سے یہ بوجھ تھوڑا سا اتار دے، کوئی مجھے یقین دلائے کہ رونا کمزوری نہیں، تھک جانا شکست نہیں، اور مدد مانگنا شرمندگی نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ کوئی مجھے پھر سے وہ سکون دے جس میں انسان کو ہر وقت خود کو مضبوط ثابت نہیں کرنا پڑتا۔ مجھے منزل نہیں چاہیے، ابھی راستے میں سہارا چاہیے، مجھے دنیا نہیں چاہیے، بس ایک محفوظ کنارا چاہیے۔ اور شاید میری سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ ایک دن میں بغیر کسی خوف کے کہہ سکوں: ’’ہاں، آج میں ٹھیک نہیں ہوں،‘‘ اور سامنے والا مجھے یہ کہہ کر خاموش نہ کرے کہ ’’تم تو بہت مضبوط ہو۔‘‘ کیونکہ مضبوط لوگ بھی تھک جاتے ہیں، مضبوط دل بھی رو پڑتے ہیں، اور کبھی کبھی سب سے زیادہ ضرورت اسی شخص کو ہوتی ہے جو سب کے سامنے سب سے زیادہ مضبوط 🙃🚬دکھائی دیتا ہے۔ بس کوئی ا #like #like #like #like #likel

About