@teamateur.app: Momento refrescante y preguntas rápidas para Adrián Trigo, Director de @bocha_fc6 #Teamateur #futbol #deporte #podcast #bolivia🇧🇴

Teamateur App
Teamateur App
Open In TikTok:
Region: BO
Saturday 15 November 2025 02:16:50 GMT
1315
51
1
0

Music

Download

Comments

carlaandrealeonan
Carla leon :
🥰🥰🥰
2025-11-15 07:04:32
1
To see more videos from user @teamateur.app, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پاکستان کی اصل بیماری کروڑوں یا اربوں کی نہیں، ڈھانچے کی ہے۔ یہاں طاقت کبھی عوام کے ہاتھ میں نہیں رہی۔ وہ ہمیشہ زمین، رشتے اور ریاستی سرپرستی کے ذریعے ایک چھوٹے سے حلقے میں گھومتی رہی ہے۔ جو لوگ آج ہمیں حکمرانی کا سبق پڑھاتے ہیں، ان کے آباؤ اجداد نے کبھی محنت سے وہ مقام نہیں پایا۔ انہیں دیا گیا اور جو دیا گیا تھا، اسے نسل در نسل بچانے کا ہنر انہوں نے خوب سیکھا۔ زمین اس ملک کی اصل کرنسی ہے۔ جو زمین کے بڑے ٹکڑے کا مالک ہے، وہ سیاست، معیشت اور حتیٰ کہ قانون کو بھی اپنی مرضی سے موڑ سکتا ہے۔ لینڈ ریفارم کبھی حقیقی معنوں میں نہیں ہوئے کیونکہ طاقتور حلقوں نے اسے ہمیشہ اپنے وجود کے خلاف خطرہ سمجھا۔ جب بھی اصلاحات کی بات چلی، مذہب، آئین یا روایت کا پردہ ڈال کر اسے روک دیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جاگیرداری صرف ختم نہیں ہوئی، بلکہ نئی شکل میں مضبوط ہو گئی۔ آج بھی فیصلے وہی لوگ کرتے ہیں جن کے پاس ہزاروں ایکڑ ہیں، نہ کہ وہ جو روز مرہ کی روٹی کے لیے ترستے ہیں۔ سیاست اب مقابلے کا میدان نہیں رہی۔ یہ سرمایہ کا کلب بن چکا ہے۔ جو شخص اسمبلی یا سینٹ میں جگہ بنانا چاہتا ہے، اسے پہلے اتنے وسائل جمع کرنے پڑتے ہیں جو عام آدمی کی پوری زندگی کی کمائی سے زیادہ ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ پارلیمان میں بیٹھنے والے زیادہ تر وہی چہرے ہوتے ہیں جو پہلے سے طاقتور خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ نظریہ صرف شور مچانے کے لیے ہے۔ اصل میں سب ایک ہی طبقے کے لوگ ہیں، چاہے وہ داڑھی رکھیں یا منڈوا لیں، باہر سے پڑھے ہوں یا یہاں کے۔ سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ یہ طبقہ ریاستی وسائل کو اپنی مراعات پر لٹا دیتا ہے اور پھر قوم کو صبر اور قربانی کا سبق پڑھاتا ہے۔ جب عوام کی بنیادی ضروریات پوری نہیں ہوتیں تو الزام غریبوں کی تعداد پر ڈال دیا جاتا ہے۔ حالانکہ اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، ان کی لوٹ ہے۔ ایک طرف اشرافیہ کی زندگی میں ہیلی کاپٹر اور خصوصی سہولیات شامل ہیں، دوسری طرف لاکھوں بچے اسکول سے باہر ہیں۔ یہ تضاد اتفاقی نہیں، ڈیزائن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کا ڈھانچہ موجود ہے، مگر اس کے اندر بیٹھا ہوا نظام اشرافیہ کا ہے۔ عوام صرف ہر پانچ سال بعد ووٹ ڈالنے آتے ہیں۔ فیصلے وہیں ہوتے ہیں جہاں زمین ہے، پیسہ ہے اور پرانی رفاقتیں۔ جب تک یہ ڈھانچہ نہیں ٹوٹتا، نئے چہرے آئیں یا پرانے، کھیل وہی رہے گا۔ صرف کھلاڑی بدلتے رہیں گے۔ . . . . . . . . . #khizarsreflections #elite  #viralreels #PakPolitics #exploremore
پاکستان کی اصل بیماری کروڑوں یا اربوں کی نہیں، ڈھانچے کی ہے۔ یہاں طاقت کبھی عوام کے ہاتھ میں نہیں رہی۔ وہ ہمیشہ زمین، رشتے اور ریاستی سرپرستی کے ذریعے ایک چھوٹے سے حلقے میں گھومتی رہی ہے۔ جو لوگ آج ہمیں حکمرانی کا سبق پڑھاتے ہیں، ان کے آباؤ اجداد نے کبھی محنت سے وہ مقام نہیں پایا۔ انہیں دیا گیا اور جو دیا گیا تھا، اسے نسل در نسل بچانے کا ہنر انہوں نے خوب سیکھا۔ زمین اس ملک کی اصل کرنسی ہے۔ جو زمین کے بڑے ٹکڑے کا مالک ہے، وہ سیاست، معیشت اور حتیٰ کہ قانون کو بھی اپنی مرضی سے موڑ سکتا ہے۔ لینڈ ریفارم کبھی حقیقی معنوں میں نہیں ہوئے کیونکہ طاقتور حلقوں نے اسے ہمیشہ اپنے وجود کے خلاف خطرہ سمجھا۔ جب بھی اصلاحات کی بات چلی، مذہب، آئین یا روایت کا پردہ ڈال کر اسے روک دیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جاگیرداری صرف ختم نہیں ہوئی، بلکہ نئی شکل میں مضبوط ہو گئی۔ آج بھی فیصلے وہی لوگ کرتے ہیں جن کے پاس ہزاروں ایکڑ ہیں، نہ کہ وہ جو روز مرہ کی روٹی کے لیے ترستے ہیں۔ سیاست اب مقابلے کا میدان نہیں رہی۔ یہ سرمایہ کا کلب بن چکا ہے۔ جو شخص اسمبلی یا سینٹ میں جگہ بنانا چاہتا ہے، اسے پہلے اتنے وسائل جمع کرنے پڑتے ہیں جو عام آدمی کی پوری زندگی کی کمائی سے زیادہ ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ پارلیمان میں بیٹھنے والے زیادہ تر وہی چہرے ہوتے ہیں جو پہلے سے طاقتور خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ نظریہ صرف شور مچانے کے لیے ہے۔ اصل میں سب ایک ہی طبقے کے لوگ ہیں، چاہے وہ داڑھی رکھیں یا منڈوا لیں، باہر سے پڑھے ہوں یا یہاں کے۔ سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ یہ طبقہ ریاستی وسائل کو اپنی مراعات پر لٹا دیتا ہے اور پھر قوم کو صبر اور قربانی کا سبق پڑھاتا ہے۔ جب عوام کی بنیادی ضروریات پوری نہیں ہوتیں تو الزام غریبوں کی تعداد پر ڈال دیا جاتا ہے۔ حالانکہ اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، ان کی لوٹ ہے۔ ایک طرف اشرافیہ کی زندگی میں ہیلی کاپٹر اور خصوصی سہولیات شامل ہیں، دوسری طرف لاکھوں بچے اسکول سے باہر ہیں۔ یہ تضاد اتفاقی نہیں، ڈیزائن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کا ڈھانچہ موجود ہے، مگر اس کے اندر بیٹھا ہوا نظام اشرافیہ کا ہے۔ عوام صرف ہر پانچ سال بعد ووٹ ڈالنے آتے ہیں۔ فیصلے وہیں ہوتے ہیں جہاں زمین ہے، پیسہ ہے اور پرانی رفاقتیں۔ جب تک یہ ڈھانچہ نہیں ٹوٹتا، نئے چہرے آئیں یا پرانے، کھیل وہی رہے گا۔ صرف کھلاڑی بدلتے رہیں گے۔ . . . . . . . . . #khizarsreflections #elite #viralreels #PakPolitics #exploremore

About