@userccho88173: Part 2| Entitled Mom Really Thought The Rules Didn’t Apply To Her #viral #copsoftiktok #trending #bodycam #fpy

Tuat Haui
Tuat Haui
Open In TikTok:
Region: US
Sunday 16 November 2025 04:33:13 GMT
2390
27
2
1

Music

Download

Comments

kevinmoran995
frank :
As soon as you hear bonnet it all makes sense
2025-11-16 14:29:07
2
ryanperrycoach
Ryan Perry :
2025-12-01 18:16:42
1
To see more videos from user @userccho88173, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

“درخت کی بلند شاخ پر بیٹھی چڑیا اور بارش میں رقص کرتا مور، دونوں مجھے ایک عجیب حقیقت سکھا گئے۔ چڑیا کے پاس نہ کل کی ضمانت ہے، نہ دانے کا یقین، پھر بھی اُس کی آواز میں شکوہ نہیں، صرف شکر ہے۔ وہ ہر صبح ایک نئے یقین کے ساتھ اُڑتی ہے، جیسے اُسے اپنے رب کی رحمت پر مکمل بھروسہ ہو۔ مور جانتا ہے کہ بارش چند لمحوں کی مہمان ہے، پھر بھی وہ اپنے پَر پوری شان سے پھیلا کر اُس کا استقبال کرتا ہے، جیسے خوشی کو جینے کے لیے کسی خاص وجہ کی ضرورت نہ ہو۔ میں اُن دونوں کو دیر تک دیکھتا رہا اور سوچتا رہا کہ آخر انسان اور فطرت میں اتنا فرق کیوں ہے؟ چڑیا کو اپنے کل کی فکر نہیں، مور کو اپنے حسن پر غرور نہیں، درخت کو اپنے جھڑتے پتوں کا غم نہیں، اور بادل کو برس کر خالی ہو جانے کا خوف نہیں۔ مگر انسان… وہ آنے والے کل کے خوف میں آج کا سکون کھو دیتا ہے، گزرے ہوئے کل کے دکھ میں موجود لمحوں کی خوبصورتی بھلا دیتا ہے۔ عجیب بات ہے، فطرت کی یہ خاموش مخلوقیں ہر حال میں جینا جانتی ہیں۔ بارش آئے تو مور ناچتا ہے، دھوپ نکلے تو چڑیا گاتی ہے، ہوا چلے تو درخت جھومتے ہیں۔ کسی کو یہ شکایت نہیں کہ اُس کے پاس کیا نہیں ہے، ہر ایک اپنی عطا میں خوش نظر آتا ہے۔ مگر انسان کی خواہشیں اُس کے سکون سے ہمیشہ بڑی رہتی ہیں۔ وہ ایک نعمت پاتا ہے تو دوسری کی فکر میں مبتلا ہو جاتا ہے، ایک منزل پر پہنچتا ہے تو اگلی منزل کی بے چینی اُسے گھیر لیتی ہے۔ شاید اسی لیے جنگل میں شور تو بہت ہوتا ہے، مگر بے سکونی نہیں ہوتی۔ اور شہروں میں خاموشی تو مل جاتی ہے، مگر سکون نہیں ملتا۔ کیونکہ سکون چیزوں کے جمع ہونے سے نہیں آتا، دل کے مطمئن ہونے سے آتا ہے۔ اُس دن چڑیا کی چہچہاہٹ اور مور کے رقص نے مجھے یہ سکھایا کہ زندگی کی خوبصورتی اُس میں نہیں کہ ہمارے پاس کتنا ہے، بلکہ اُس میں ہے کہ ہم جو کچھ رکھتے ہیں، اُسے کتنی محبت سے محسوس کرتے ہیں۔ ورنہ آسمان کے نیچے سب سے آزاد چڑیا ہے، سب سے خوبصورت مور ہے، اور سب سے بے چین انسان…”❤️‍🩹 #100k #97crew #atteqawan #viral #fyp
“درخت کی بلند شاخ پر بیٹھی چڑیا اور بارش میں رقص کرتا مور، دونوں مجھے ایک عجیب حقیقت سکھا گئے۔ چڑیا کے پاس نہ کل کی ضمانت ہے، نہ دانے کا یقین، پھر بھی اُس کی آواز میں شکوہ نہیں، صرف شکر ہے۔ وہ ہر صبح ایک نئے یقین کے ساتھ اُڑتی ہے، جیسے اُسے اپنے رب کی رحمت پر مکمل بھروسہ ہو۔ مور جانتا ہے کہ بارش چند لمحوں کی مہمان ہے، پھر بھی وہ اپنے پَر پوری شان سے پھیلا کر اُس کا استقبال کرتا ہے، جیسے خوشی کو جینے کے لیے کسی خاص وجہ کی ضرورت نہ ہو۔ میں اُن دونوں کو دیر تک دیکھتا رہا اور سوچتا رہا کہ آخر انسان اور فطرت میں اتنا فرق کیوں ہے؟ چڑیا کو اپنے کل کی فکر نہیں، مور کو اپنے حسن پر غرور نہیں، درخت کو اپنے جھڑتے پتوں کا غم نہیں، اور بادل کو برس کر خالی ہو جانے کا خوف نہیں۔ مگر انسان… وہ آنے والے کل کے خوف میں آج کا سکون کھو دیتا ہے، گزرے ہوئے کل کے دکھ میں موجود لمحوں کی خوبصورتی بھلا دیتا ہے۔ عجیب بات ہے، فطرت کی یہ خاموش مخلوقیں ہر حال میں جینا جانتی ہیں۔ بارش آئے تو مور ناچتا ہے، دھوپ نکلے تو چڑیا گاتی ہے، ہوا چلے تو درخت جھومتے ہیں۔ کسی کو یہ شکایت نہیں کہ اُس کے پاس کیا نہیں ہے، ہر ایک اپنی عطا میں خوش نظر آتا ہے۔ مگر انسان کی خواہشیں اُس کے سکون سے ہمیشہ بڑی رہتی ہیں۔ وہ ایک نعمت پاتا ہے تو دوسری کی فکر میں مبتلا ہو جاتا ہے، ایک منزل پر پہنچتا ہے تو اگلی منزل کی بے چینی اُسے گھیر لیتی ہے۔ شاید اسی لیے جنگل میں شور تو بہت ہوتا ہے، مگر بے سکونی نہیں ہوتی۔ اور شہروں میں خاموشی تو مل جاتی ہے، مگر سکون نہیں ملتا۔ کیونکہ سکون چیزوں کے جمع ہونے سے نہیں آتا، دل کے مطمئن ہونے سے آتا ہے۔ اُس دن چڑیا کی چہچہاہٹ اور مور کے رقص نے مجھے یہ سکھایا کہ زندگی کی خوبصورتی اُس میں نہیں کہ ہمارے پاس کتنا ہے، بلکہ اُس میں ہے کہ ہم جو کچھ رکھتے ہیں، اُسے کتنی محبت سے محسوس کرتے ہیں۔ ورنہ آسمان کے نیچے سب سے آزاد چڑیا ہے، سب سے خوبصورت مور ہے، اور سب سے بے چین انسان…”❤️‍🩹 #100k #97crew #atteqawan #viral #fyp

About