@nguoihieu.chuyen: #LIVEFest2025

Người Hiểu Chuyện
Người Hiểu Chuyện
Open In TikTok:
Region: VN
Tuesday 25 November 2025 15:58:44 GMT
435715
35797
63
3058

Music

Download

Comments

.thanhphu1506
Phô mai con bò buồnnn🐮 :
Nhìu khi lủi thủi 1 mình cũng mún ai đó an ủi mà tại hong có ai hiểu mình mún j cần gì 1 câu động viên đúng lúc nó quý hơn vạn câu khen hằng ngày
2025-11-25 17:43:23
11
huynhtri2012
Haihaihai :
Do em quá hiểu chuyện hay là em đã quá mạnh mẽ. Bán niềm vui còn nỗi buồn của em ai thèm mua
2025-11-25 17:54:08
5
khanhdan0312
Tran Phuonganh :
Ước gì có thể khóc thật to khi gặp chuyện,mình còn không thể khóc được nữa🙃
2025-11-25 22:24:20
3
lanhuong_llh
Mẹ Sóc đey :
Mai vẫn phải kiếm tiền và còn vì con, cố lên
2025-11-25 16:45:27
3
bbihnhu
Như Nè 🎀 :
Trong khoảng khắc tăm tối nhất của cuộc đời, chính mình đã tự kéo bản thân ra khỏi vực thẳm. Không có ai ở đó, thì mình trở thành người đó
2025-11-26 01:35:06
3
quayxoan92
༺LEO༻ :
K đếm đc số lần vừa đi vừa khóc. Chắc t chỉ có khoảng 30’ trên đường từ cty về nhà để buồn .
2025-11-25 23:48:44
2
thithattha001
Văn Thi :
@Văn Thi: Xin lỗi vì thời gian qua đã đối xử quá tệ với bản thân 😌
2025-11-25 17:41:24
1
rainme.00
Nhi Gì? Nhi Gì Nào? :
"Em tự biết cách phải hiểu chuyện trong cái xã hội này, nhưng sau cánh cửa đó, anh có thể để em tùy hứng không được sao?"
2025-11-25 17:16:26
1
thanh_thu_99
GiaGia-1102 :
🤣 mạnh mẽ dữ lm ý đêm chồg đi với gái khóc k quá 1h nghĩ ghê tởm quá k khóc đc sáv vẫn đi làm bt ai cũg nói m sao đủ bình tĩnh thế
2025-11-25 16:21:51
1
miumiu_3667
miumiu :
khóc xong sáng lại cười
2025-11-26 03:20:15
0
vyatruong1710
. 𝓥𝔂𝓪 ᥫᩣ :
K trong lòng
2025-11-25 17:59:18
0
yine_3197
Yi mèo ✌️ :
S mà thấy đc chế , kể cả ng t quen 3 năm h thì thành nyc r vẫn chưa từng biết những lúc đó t ntn🤣🤣
2025-11-26 00:47:07
0
nga.nguyen.nb
NgaNT :
nhớ anh ....🥺
2025-11-25 22:48:12
0
kimngoctrinh23
一定要幸福啊🥰 :
đó là dáng vẻ của trưởng thành, của sự hiểu chuyện, đánh đổi nhiều thứ chỉ mong đổi lại sự bình yên
2025-11-25 19:15:13
0
thichconvitma
Ng.Hà :
phải thật sự cố gắng hơn
2025-11-25 16:42:40
0
ntpn69
N :
Chả hiểu s dạo này cứ mỗi lần đi lm về ngồi trên bus nước mắt lại chảy không hiểu vì lí do gì .
2025-11-26 06:32:43
0
ninhninh1302
Ninh Ninh :
Dáng vẻ gục ngã chỉ bản thân biết là đc rồi
2025-11-26 01:14:48
0
nhaccover.music1
Nhạc cover🎤 :
Ai ôm tớ một cái được hog🥺
2025-11-26 03:07:28
0
vyvybyd
𝑽𝒚𝑽𝒚𝑩𝒚𝒅 :
mí bợn ơiii tụi mình cùng cố gắng nha 😀
2025-12-07 09:01:30
0
usename8_3
sam :
vậy mà đi du lịch hay mua gì biết rõ lắm.
2025-11-26 04:11:08
0
lengocthaomy.haomei
Lê Ngọc Thảo My 🦢✨ :
Con nhớ ba. Từ ngày ko có ba con mới nhận ra là con yếu đuối, mạnh mẽ chỉ là vỏ bọc mà con cố tạo nên, nhưng hình như con đã ko còn cố gắng được nữa.
2025-11-25 19:30:34
0
moodmost
Nguyễn nam 🇹🇼 :
Có những chuyện k cần giải thích với ai cũng chẳng cần ai quan tâm vì mình nói ra lại làm cho khác buồn tốt nhất 1 mình chịu là đc
2025-11-26 10:30:44
0
tranthanhhoa2610
thanh hòa :
@🌊 có bh e đi 1mik ch hả bà😅
2025-11-25 22:52:25
0
hieuhoang.infor
papamama :
:)))
2025-11-25 16:01:44
0
To see more videos from user @nguoihieu.chuyen, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

انا للہ وانا الیہ راجعون ​موت کی آہٹ اور ایک اجڑتا ہوا آشیانہ ​بعض خبریں محض الفاظ نہیں ہوتیں، وہ کلہاڑا بن کر دلوں پر گرتی ہیں۔ 11 اگست کا سورج دیارِ غیر (سعودی عرب) سے ایک ایسی قیامت خیز خبر لے کر طلوع ہوا جس نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا۔ وہ لال جو روزگار کی تلاش میں، اپنے گھر والوں کے روشن مستقبل کے خواب سجا کر سعودیہ گیا تھا، روڈ ایکسیڈنٹ کے ایک ہی خوفناک حادثے میں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔ ​آج جب بلال اظہر تارڑ کی میت دیارِ غیر سے اس کے آبائی گاؤں پنڈی کالو پہنچی، تو فضا میں ایک دلدوز چیخ گونج اٹھی۔ وہ بیٹا جو چلتا پھرتا، مسکراتا ہوا رخصت ہوا تھا، آج لکڑی کے تابوت میں لپٹا ہوا لوٹا۔ گاڑی سے تابوت کا اترنا تھا کہ ہاہاکار مچ گئی۔ در و دیوار سے ماتم کی صدائیں آنے لگیں، ہر آنکھ سے آنسوؤں کا سمندر بہہ نکلا اور گاؤں کا ہر کونہ سسکنے لگا۔ اس بھری جوانی میں بلال کی ناگہانی موت نے ہر دل کو چھلنی کر دیا۔ ​باپ کا ٹوٹا ہوا مان اور ممتا کی ویرانی ​لوگ آتے رہے، تسلیاں دیتے رہے، اظہر تارڑ صاحب کے شانے پر ہاتھ رکھ کر صبراً صبراً کہتے رہے... لیکن ایک جوان بیٹے کے جنازے کا بوجھ کتنا بھاری ہوتا ہے، یہ صرف وہی باپ جان سکتا ہے جس نے اپنے بڑھاپے کی لاٹھی کو اپنے ہی ہاتھوں سے دفن کیا ہو۔ باپ کی نم آنکھیں اور پتھرایا ہوا چہرہ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ بیٹے کا لاشہ اٹھانا دنیا کا سب سے بڑا دکھ ہے۔ اور وہ ماں... جس کے جگر کا ٹکڑا، جس کی آنکھوں کا نور یوں بے دردی سے چھن گیا، اس کے دل پر کیا گزری ہوگی؟ اس دکھ کا اندازہ نہ الفاظ لگا سکتے ہیں نہ کوئی دل۔ ​جنازے کا منظر: لوگوں کا سمندر اور آخری رخصت ​صبح 10:30 بجے جب پنڈی کالو میں نمازِ جنازہ کا وقت ہوا، تو ایسا منظر تھا کہ دیکھنے والوں کا دل دہل گیا۔ یوں لگتا تھا جیسے پورا پنجاب امڈ آیا ہو۔ سر ہی سر، انسانوں کا ایک بے پناہ سمندر تھا! دور دور سے لوگ کھنچے چلے آئے تھے۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ کسی وزیر یا عہدے دار کا جنازہ ہے یا کسی عام انسان کا—یہ تو بس ایک جوان کی ناگہانی موت پر انسانیت کا روپ تھا، ایک غمزدہ باپ کی ٹوٹی ہوئی پیٹھ کو سہارا دینے کی ایک تڑپ تھی، اور ایک بوڑھے باپ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا سمندر تھا۔ ​ہر چہرہ غمزدہ تھا، ہر آنکھ تر تھی، اور فضا میں صرف سسکیوں اور آہ و زاری کی آوازیں تھیں۔ ​دعا ​اے ہمارے پروردگار! بلال اظہر تارڑ کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرما، اس کے گناہوں سے درگزر فرما کر اسے جنت الفردوس میں بلند درجات عطا کر۔ اور اس کے والدین، بالخصوص اس کے والد اظہر تارڑ اور غمزدہ ماں کو اس قیامت خیز صدمے پر صبرِ جمیل اور حوصلہ عطا فرما۔ (آمین
انا للہ وانا الیہ راجعون ​موت کی آہٹ اور ایک اجڑتا ہوا آشیانہ ​بعض خبریں محض الفاظ نہیں ہوتیں، وہ کلہاڑا بن کر دلوں پر گرتی ہیں۔ 11 اگست کا سورج دیارِ غیر (سعودی عرب) سے ایک ایسی قیامت خیز خبر لے کر طلوع ہوا جس نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا۔ وہ لال جو روزگار کی تلاش میں، اپنے گھر والوں کے روشن مستقبل کے خواب سجا کر سعودیہ گیا تھا، روڈ ایکسیڈنٹ کے ایک ہی خوفناک حادثے میں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔ ​آج جب بلال اظہر تارڑ کی میت دیارِ غیر سے اس کے آبائی گاؤں پنڈی کالو پہنچی، تو فضا میں ایک دلدوز چیخ گونج اٹھی۔ وہ بیٹا جو چلتا پھرتا، مسکراتا ہوا رخصت ہوا تھا، آج لکڑی کے تابوت میں لپٹا ہوا لوٹا۔ گاڑی سے تابوت کا اترنا تھا کہ ہاہاکار مچ گئی۔ در و دیوار سے ماتم کی صدائیں آنے لگیں، ہر آنکھ سے آنسوؤں کا سمندر بہہ نکلا اور گاؤں کا ہر کونہ سسکنے لگا۔ اس بھری جوانی میں بلال کی ناگہانی موت نے ہر دل کو چھلنی کر دیا۔ ​باپ کا ٹوٹا ہوا مان اور ممتا کی ویرانی ​لوگ آتے رہے، تسلیاں دیتے رہے، اظہر تارڑ صاحب کے شانے پر ہاتھ رکھ کر صبراً صبراً کہتے رہے... لیکن ایک جوان بیٹے کے جنازے کا بوجھ کتنا بھاری ہوتا ہے، یہ صرف وہی باپ جان سکتا ہے جس نے اپنے بڑھاپے کی لاٹھی کو اپنے ہی ہاتھوں سے دفن کیا ہو۔ باپ کی نم آنکھیں اور پتھرایا ہوا چہرہ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ بیٹے کا لاشہ اٹھانا دنیا کا سب سے بڑا دکھ ہے۔ اور وہ ماں... جس کے جگر کا ٹکڑا، جس کی آنکھوں کا نور یوں بے دردی سے چھن گیا، اس کے دل پر کیا گزری ہوگی؟ اس دکھ کا اندازہ نہ الفاظ لگا سکتے ہیں نہ کوئی دل۔ ​جنازے کا منظر: لوگوں کا سمندر اور آخری رخصت ​صبح 10:30 بجے جب پنڈی کالو میں نمازِ جنازہ کا وقت ہوا، تو ایسا منظر تھا کہ دیکھنے والوں کا دل دہل گیا۔ یوں لگتا تھا جیسے پورا پنجاب امڈ آیا ہو۔ سر ہی سر، انسانوں کا ایک بے پناہ سمندر تھا! دور دور سے لوگ کھنچے چلے آئے تھے۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ کسی وزیر یا عہدے دار کا جنازہ ہے یا کسی عام انسان کا—یہ تو بس ایک جوان کی ناگہانی موت پر انسانیت کا روپ تھا، ایک غمزدہ باپ کی ٹوٹی ہوئی پیٹھ کو سہارا دینے کی ایک تڑپ تھی، اور ایک بوڑھے باپ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا سمندر تھا۔ ​ہر چہرہ غمزدہ تھا، ہر آنکھ تر تھی، اور فضا میں صرف سسکیوں اور آہ و زاری کی آوازیں تھیں۔ ​دعا ​اے ہمارے پروردگار! بلال اظہر تارڑ کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرما، اس کے گناہوں سے درگزر فرما کر اسے جنت الفردوس میں بلند درجات عطا کر۔ اور اس کے والدین، بالخصوص اس کے والد اظہر تارڑ اور غمزدہ ماں کو اس قیامت خیز صدمے پر صبرِ جمیل اور حوصلہ عطا فرما۔ (آمین

About