@voiceofarifkazmi1: قرآن و اہلِ بیتؑ کی روشنی میں زندگی بدلنے والے پیغامات ✨ ‎مولانا عارف حسین کاظمی کے روحانی اور اصلاحی بیانات سنیں۔ ‎ایمان، اخلاق اور تقویٰ کی راہ پر قدم بڑھائیں 🌙 ‎#IslamicReminder #MolanaArifHussainKazmi ‎ ‎ ‎--- ‎ ‎Hashtags (for TikTok posts): ‎#مولاناعارفحسینکاظمی #اسلامکبیان #IslamicBayan #

꧁༺Vơɪᴄє ơ₣ ḱαzḿɪ༻꧂
꧁༺Vơɪᴄє ơ₣ ḱαzḿɪ༻꧂
Open In TikTok:
Region: PK
Wednesday 26 November 2025 16:33:18 GMT
45286
5181
182
396

Music

Download

Comments

bakht.ali240
Bakht ali :
hamare imam Ali ne bait ki h Abubakar ki ham bhi karte hnn ham Hazrat ali se afzal ni hnn
2025-12-29 11:57:57
3
ch.moavia89
ch moavia :
🌸 حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا در جلانے والی روایت — قرآن و حدیث کے مطابق حقیقت ✅ 1 — قرآنِ مجید میں قرآنِ کریم میں کہیں بھی یہ ذکر موجود نہیں کہ کسی نے حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کا دروازہ جلایا، دھکا دیا، یا انہیں شہید کیا۔ 📌 قرآن صرف یہ بتاتا ہے کہ صحابہ کرامؓ سب کے سب اللہ کے نزدیک عظیم مقام رکھتے ہیں: وَالسّٰبِقُوْنَالْاَوّلُوْنَ… رَضِیَاللّٰہُعَنْہُمْوَرَضُوْا عَنْہُ(التوبہ: 100) --- ✅ 2 — صحیح احادیث میں صحیح بخاری، صحیح مسلم، مسند احمد، سنن ابو داود، ترمذی وغیرہ کسی بھی کتابِ حدیث میں ایک بھی صحیح سند والی حدیث موجود نہیں کہ: کسی صحابیؓ نے سیدہ فاطمہؓ کے گھر پر حملہ کیا ہو دروازہ جلایا ہو دروازہ گرانے کی وجہ سے نقصان پہنچا ہو یہ تمام روایات کسی صحیح حدیث کی بنیاد پر ثابت نہیں۔ --- 📚 3 — شیعہ کتب میں ملنے والے واقعات کا تحقیقی جائزہ شیعہ کتب میں “دروازہ جلانے” کی کہانی بہت بعد کی دوری، غیر معتبر، منقطع اور ضعیف روایات سے آئی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ قدیم ترین شیعہ محدثین نے بھی اس واقعہ کو قبول نہیں کیا۔ ان روایات کی سندی کمزوریاں: اکثر روایات مرسل ہیں (سند ٹوٹی ہوئی) بعض راوی مجہول ہیں چند روایات بعد کی من گھڑت داستانیں ہیں 📌 مثال: کتاب "الاحتجاج" (طبرسی) جس میں یہ واقعات نقل ہیں، بغیر سند کتاب ہے—اس میں کوئی روایت حدیثی معیار کے مطابق نہیں۔ 📌 کتابوں میں آگ لگانے کا ذکر سب سے پہلے کئی صدیوں بعد ملتا ہے—ابتدائی شیعہ علماء (کلینی، صدوق، طوسی) نے بھی اسے قبول نہیں کیا۔ --- ⭐ 4 — مستند تاریخی حقیقت کیا ہے؟ قدیم ترین اور معتبر ترین مؤرخین (طبری، بلاذری، ابن سعد، ابن کثیر، ابن حجر) کے مطابق: ✔ حضرت ابو بکرؓ نے حضرت فاطمہؓ کے گھر پر کبھی کوئی زبردستی یا حملہ نہیں کیا ✔ حضرت عمرؓ نے بھی کبھی دروازہ جلایا یا نقصان نہیں پہنچایا ✔ کسی صحیح روایت میں “دروازہ جلانے” کا ثبوت موجود نہیں بلکہ اس کے برعکس: ✔ بعد میں حضرت ابو بکرؓ سیدہ فاطمہؓ کے پاس گئے، ✔ معافی مانگی ✔ اور سیدہؓ نے انہیں معاف کر دیا یہ روایت صحیح سند کے ساتھ طبقات ابن سعد میں موجود ہے۔ --- 🌺 5 — سیدہ فاطمہؓ کی وفات سیدہ فاطمہؓ کی وفات قدرتی بیماری کی وجہ سے ہوئی۔ کسی صحیح حدیث یا معتبر تاریخ میں “شہید کرنے” کا ذکر موجود نہیں۔ --- 📌 نتیجہ (صرف مستند علوم کی بنیاد پر): ❌ قرآن میں اس واقعے کا کوئی ذکر نہیں ❌ صحیح حدیث میں اس واقعے کا کوئی ذکر نہیں ❌ قدیم معتبر تاریخ میں دروازہ جلانے والی کوئی روایت نہیں ❌ شیعہ کتب میں بھی
2025-12-23 15:43:27
5
imran.khan.khan240
Imran Khan Khan :
ماشاءاللہ 🥰🥰
2025-12-03 11:55:09
4
zeeshan.ali.solan17
Zeeshan Ali Solangi :
❤❤❤
2025-12-12 11:02:52
2
amedad.khan
Amedad Khan :
😭😭😭
2025-12-15 06:23:37
2
ehsan.ali0201
Ehsan Ali :
🥰🥰🥰
2025-12-02 06:21:00
2
sajjadalisoomro014
علی علی :
💞💞💞
2025-12-15 17:55:57
2
ijaz.fakhar6
Ijaz Fakhar :
🥰🥰🥰
2025-12-16 05:09:26
2
user03292368843
salmankhan :
🥰🥰🥰
2025-12-12 18:20:54
2
user29boyfqo23
غلام مصطفي :
🌹🌹🌹
2025-12-17 04:00:27
2
zeeshan.ali.solan17
Zeeshan Ali Solangi :
🥰🥰🥰
2025-12-12 11:02:49
2
ch.moavia89
ch moavia :
🔴 22 رجب کے کنڈے: اصل حقیقت (تحقیقی فیصلہ) 22 رجب کو کنڈے پکانا، بانٹنا، نیاز ماننا یا اسے ثواب و نجات کا ذریعہ سمجھنا 👉 دینِ اسلام میں ثابت نہیں 👉 نہ قرآن سے 👉 نہ نبی کریم ﷺ کی صحیح حدیث سے 👉 نہ اہلِ بیت کے عمل سے 👉 نہ صحابہؓ، تابعینؒ، تبع تابعینؒ اور ائمہؒ سے چوہدری معاویہ 📖 قرآن کا اصول (بدعت کا معیار) قرآنِ مجید نے دین کے بارے میں واضح اصول دے دیا: دین مکمل ہو چکا نئی عبادات، نئی تاریخیں، نئی رسمیں قبول نہیں کوئی ایسا عمل جو عبادت یا ثواب کی نیت سے کیا جائے اور قرآن و سنت سے ثابت نہ ہو 👉 وہ دین میں اضافہ ہے 👉 اور دین میں اضافہ بدعت ہے چوہدری معاویہ 📜 نبی کریم ﷺ کا اصول (حدیث کا قاعدہ) نبی کریم ﷺ نے دین کے باب میں صاف اصول بیان فرمایا: جو عمل دین میں نیا ایجاد کیا جائے جس کی اصل شریعت میں نہ ہو 👉 وہ مردود ہے کنڈے: نہ نبی ﷺ نے کیے نہ کروائے نہ سکھائے نہ اجازت دی چوہدری معاویہ 🌸 اہلِ بیت کا موقف (عملی حقیقت) اہلِ بیت اطہار: حضرت علیؓ حضرت فاطمہؓ امام حسنؓ امام حسینؓ امام زین العابدینؒ امام محمد باقرؒ امام جعفر صادقؒ 👉 کسی ایک سے بھی 22 رجب، کنڈے، نیاز یا اس جیسی رسم ثابت نہیں اگر یہ نیکی ہوتی: سب سے پہلے اہلِ بیت کرتے سب سے پہلے ائمہ اہلِ بیت سکھاتے مگر تاریخ خاموش ہے چوہدری معاویہ 📚 تابعین اور تبع تابعین کا عمل تابعینؒ اور تبع تابعینؒ: عبادت میں انتہائی محتاط تھے نئی تاریخ یا نئی رسم کو قبول نہیں کرتے تھے ان کے دور میں: 22 رجب کے کنڈے کا کوئی وجود نہیں کسی شہر، کسی امام، کسی مدرسہ میں یہ عمل نہیں ملتا چوہدری معاویہ 🕌 ائمہ مجتہدین کا متفقہ اصول ائمہ: امام ابو حنیفہؒ امام مالکؒ امام شافعیؒ امام احمدؒ سب کا اصول: عبادت وہی ہے جو ثابت ہو غیر ثابت عمل: 👉 بدعت 👉 اور بدعت گمراہی ہے کنڈے: نہ فرض نہ سنت نہ مستحب نہ مباح بطورِ عبادت چوہدری معاویہ ⚠️کیا یہ بدعت ہے یا شرک؟ 🔴 حتمی شرعی تفصیل: ❌ بدعت کب ہے؟ جب عمل ثواب کی نیت سے ہو مگر دلیل نہ ہو 👉 22 رجب کے کنڈے = بدعتِ صریحہ چوہدری معاویہ ❌ شرک کب بنتا ہے؟ جب اللہ کے علاوہ کسی اور سے مراد حاجت مشکل کشائی نجات مانگی جائے اگر کنڈوں میں: غیر اللہ سے امید مخصوص دن کو نجات کا ذریعہ سمجھنا 👉 یہ شرک کے قریب یا شرک بن جاتا ہے چوہدری معاویہ 🧾 حتمی خلاصہ (فیصلہ کن بات) سوال شرعی و تاریخی جواب 22 رجب کی فضیلت؟ ❌ ثابت نہیں کنڈے قرآن سے؟ ❌ نہیں حدیث سے؟ ❌ نہیں اہلِ بیت سے؟ ❌ نہیں تابعین سے؟ ❌ نہیں ائمہ سے؟ ❌ نہیں حکم ❌ بدعت عقیدہ بنا لیا جائے؟ ⚠️شرک کا خطرہ چوہدری معاویہ ✍️آخری نصیحت دینِ اسلام: رسموں سے نہیں ج
2025-12-23 15:43:44
2
ch.moavia89
ch moavia :
: 🌿🌸🌿 جب نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کا قطعی حکم ملا، تو آپ ﷺ نے دو عظیم امانت داروں کو دو الگ مگر نہایت اہم ذمہ داریاں عطا فرمائیں۔ مکہ میں آپ ﷺ کے بستر پر امیرُالمؤمنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس لیے چھوڑا کہ قریش کی طرف سے رکھی گئی تمام امانتیں ان کے اصل حق داروں تک ادا کی جائیں؛ یہ واقعہ سیرت کی معتبر ترین کتب مثلاً سیرت ابنِ ہشام اور طبقات ابنِ سعد میں ثابت ہے۔ دوسری طرف ہجرت کے نہایت نازک اور خطرناک سفر میں نبی پاک ﷺ نے اپنے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو منتخب فرمایا، جن کے بارے میں قرآنِ کریم نے صراحت کے ساتھ فرمایا کہ وہ غارِ ثور میں نبی ﷺ کے واحد ساتھی تھے (سورۃ التوبہ: 40)، اور اس واقعے کی تفصیل صحیح بخاری (حدیث: 3653، 3905) میں موجود ہے۔ یوں حضرت علیؓ کے ہاتھ میں رسول ﷺ کی ظاہری امانتیں (لوگوں کے حقوق) تھیں، اور حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ کی امانت، یعنی نبی ﷺ کی جان، دین کا تسلسل اور ہجرت کا راز تھا۔ یہ تقسیم اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے نزدیک حضرت علیؓ بھی کامل امانت دار تھے اور حضرت ابوبکرؓ بھی، اور دینِ اسلام نے دونوں کو ان کے عظیم مقام پر رکھا ہے۔ سبحان اللہ! یہی توازن، یہی عدل، اور یہی سچ صحابہ و اہلِ بیت کے باہمی رشتے کی اصل روح ہے۔ ✨🌿 چوہدری معاویہ
2025-12-23 15:43:50
2
zeeshan.ali.solan17
Zeeshan Ali Solangi :
❤❤❤
2025-12-12 11:02:11
2
sajjadalisoomro014
علی علی :
🥰🥰🥰
2025-12-15 17:56:00
1
riza.husan
Riza Husan :
♥️👈
2025-12-13 06:23:03
1
farhanil1111112
FARHANil1111112 :
🥰🥰🥰
2025-12-12 05:32:02
1
sayedjan355
🌷💔سید شاہ محمد 💔🌷 :
❤❤❤
2025-12-15 08:26:12
1
sajjadalisoomro014
علی علی :
💕💕💕
2025-12-15 17:55:53
1
ch.moavia89
ch moavia :
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بیٹے اور بیٹیاں کئی ازواج سے تھیں، جن میں سب سے مشہور زوجہ حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا تھیں۔ آپ کے صحیح سند والے بیٹوں میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ (والدہ: فاطمہ الزہراءؓ)، حضرت حسین رضی اللہ عنہ (فاطمہؓ)، محمد بن حنفیہ (والدہ: خولہ بنت جعفر)، حضرت عباس رضی اللہ عنہ (ام البنین)، عثمان بن علی، جعفر بن علی، اور عبد اللہ بن علی (یہ تینوں بھی ام البنین سے)، عمر بن علی (والدہ: صہباء التغلبیہ)، اور ابو بکر بن علی (جن کا اصل نام عبد اللہ تھا، والدہ: لیلیٰ بنت مسعود) شامل ہیں۔ ان سب کا ذکر صحیح اور معتبر کتب جیسے "طبقات ابن سعد"، "انساب الاشراف" (بلاذری)، "الاستیعاب" (ابن عبد البر)، اور "سیر اعلام النبلاء" (ذہبی) میں آیا ہے۔ بعض شیعہ کتب جیسے "مقاتل الطالبیین" اور "الارشاد" (شیخ مفید) میں یحییٰ، عون، اور محمد الاصغر کا ذکر بھی ملتا ہے، جن کی اسناد بعض اوقات ضعیف ہوتی ہیں مگر تاریخی طور پر قبول کی جاتی ہیں۔ آپؓ کے بیٹوں میں اکثر شہیدانِ کربلا بھی شامل ہیں۔ حضرت علیؓ کی بیٹیوں میں سب سے مشہور حضرت زینبؓ الکبریٰ ہیں، جن کی والدہ حضرت فاطمہؓ تھیں، اور ان کی شادی حضرت عبد اللہ بن جعفرؓ سے ہوئی، جو نبی کریم ﷺ کے چچا زاد بھائی تھے۔ دوسری بیٹی ام کلثومؓ (فاطمہؓ سے) تھیں، جن کا نکاح خلیفہ ثانی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوا، جن سے زید نامی بیٹے ہوئے۔ دیگر بیٹیوں میں فاطمہ صغریٰ (جس کی شادی حضرت حسنؓ کے بیٹے حسن مثنیٰ سے ہوئی)، رقیہ (شوہری مسلم بن عقیلؓ)، خدیجہ، رملہ، میمُونہ، اور بعض شیعہ کتب میں ام ہانی کا ذکر بھی ملتا ہے۔ بعض ناموں کی اسناد قوی نہیں لیکن تاریخی روایات میں وہ شامل ہیں۔ مجموعی طور پر حضرت علیؓ کے 11 سے 13 بیٹے اور 7 سے 9 بیٹیاں مختلف ازواج سے تھیں، جن میں سے اکثر کی شادیاں اہل بیت کے افراد یا دیگر صحابہؓ کے خاندانوں میں ہوئیں، جیسا کہ حضرت عمرؓ، عبد اللہ بن جعفرؓ، حسن مثنیٰ، اور مسلم بن عقیلؓ وغیرہ۔ ان سب کا تذکرہ سنی و شیعہ معتبر کتب میں موجود ہے، جیسے طبری، بلاذری، مقاتل الطالبیین، الاستیعاب، تہذیب الکمال، اور سیر اعلام النبلاء۔
2025-12-23 15:45:45
1
adil.bayya
Adil Bayya :
❤❤❤
2025-12-16 15:44:07
1
masoomanaeem.khan
Masoomanaeem Khan :
🕋💚🤍📗💚🧡💚❤️🎁💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚YA.HOUSEYN.ABNEY.ALLi💚🌹🤲🤲
2026-01-12 08:36:37
1
muhammad_wasib1
محمد واصب شبیر :
منگھڑت روایات 😅
2025-12-24 17:43:59
1
ch.moavia89
ch moavia :
🌸🌺🌹🌷🌼🌹🌺🌸🌷🌼🌹🌺🌸 🔥🔥🔥 بــرینڈ آف اِســلام 🔥🔥🔥 🌹🌸 خلفائے راشدینؓ — دینِ اسلام کا روشن ترین تاج 🌸🌹 🌺 خلیفہ اوّل 🌺 🌸 امیرُالمؤمنین، خلیفۃُالمسلمین 🌸 سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ 🌹 جنہوں نے صداقت، وفا، قربانی اور استقامت سے اسلام کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ 🌺 خلیفہ دوم 🌺 🌸 امیرُالمؤمنین 🌸 سیدنا حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ 🌹 جن کے عدل کی ہیبت سے باطل کانپتا تھا اور حق کو قوت ملتی تھی۔ 🌺 خلیفہ سوم 🌺 🌸 امیرُالمؤمنین، ذوالنورین 🌸 سیدنا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ 🌹 حیا، سخاوت اور قرآن سے محبت کی لازوال مثال۔ 🌺 خلیفہ چہارم 🌺 🌸 امیرُالمؤمنین، المرتضیٰ، شیرِ خدا 🌸 سیدنا حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ 🌹 علم، شجاعت اور حکمت کا سمندر، رسولِ اکرم ﷺ کے گھرانے کا درخشاں ستارہ۔ 🌷🌸🌹🌼 یہی وہ مقدس ہستیاں ہیں جن کے نقشِ قدم پر چلنا ہی کامیابی، نجات اور عزت کی ضمانت ہے، اور یہی ہیں بــرینڈ آف اِســلام کی سب سے خوبصورت پہچان۔ 🌼🌹🌸🌷 🌺🌺🌺 دعا گو: چوہدری معاویہ 🌺🌺🌺
2025-12-23 15:44:00
1
ch.moavia89
ch moavia :
• امام علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے داماد، چوتھے خلیفہ راشد اور اہل بیت کے سردار تھے، جو اللہ کے سچے بندے تھے، اور اُن کا کوئی فعل اللہ کی صفات جیسا نہیں تھا۔ • امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے نواسے، صلح کرنے والے امام اور جنت کے سردار نوجوانوں میں سے ایک تھے، جنہوں نے اللہ کے حکم کو قبول کیا اور امت کو فتنہ سے بچایا۔ • امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے کربلا میں اپنی جان قربان کر دی، مگر وہ اللہ کے بندے تھے، نہ کہ علمِ غیب رکھنے والے یا رزق تقسیم کرنے والے؛ وہ صرف حق پر قائم رہنے والے تھے۔ • امام زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ عبادت گزار، سچے تابعی، اور دعا کے امام تھے، جنہوں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ان کے اندر خدائی صفات موجود ہیں۔ • امام محمد باقر رحمۃ اللہ علیہ علم و تفسیر کے بڑے امام تھے، جن سے سنی و شیعہ دونوں نے علم لیا، مگر وہ صرف اللہ کے بندے تھے، نبی نہیں اور معصوم نہیں۔ • امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ اہل سنت کے امام مالک کے استاد تھے، جنہوں نے خود فرمایا: "جو یہ سمجھے کہ ہم غیب جانتے ہیں، وہ جھوٹا ہے۔" (بحار الانوار) • امام موسیٰ کاظم رحمۃ اللہ علیہ نے صبر، زہد اور تقویٰ کی مثال قائم کی، مگر اُن کی نسبت غلو کرنے والوں نے جو صفات بیان کیں، وہ قرآن و سنت کے خلاف ہیں۔ • امام علی رضا رحمۃ اللہ علیہ بڑے عالم اور فقیہ تھے، لیکن اللہ کی ذات اور صفات سے ان کا کوئی تعلق یا اشتراک نہیں — وہ خود کو اللہ کا بندہ کہتے تھے۔ • امام محمد تقی، امام علی نقی، امام حسن عسکری رحمہم اللہ — یہ سب صالح اور سادات خاندان کے عالم تھے، نہ کہ الٰہی صفات والے؛ ان کے ساتھ کسی خدائی صفت کا موازنہ کرنا شرک ہے۔ • امام مہدی کے متعلق اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ قیامت کے قریب پیدا ہوں گے، ابھی غائب نہیں، اور نہ وہ اللہ کی طرح علمِ غیب، رزق یا مغفرت پر قادر ہوں گے۔ --- 📌 عقیدۂ اہل السنۃ والجماعۃ: > ❝ تمام نبی، صحابہ، اہل بیت اور ائمہ — یہ سب اللہ کے بندے تھے، اور اللہ وحدہٗ لا شریک له کے آگے جھکنے والے تھے۔ ان کا کوئی بھی وصف، عمل یا علم اللہ کے ساتھ تشبیہ یا موازنہ نہیں رکھتا۔ اللہ کے سوا کوئی معصوم، غیب دان، رزاق یا مالک نہیں۔ ❞ --- 📚 حوالہ جات: القرآن: سورۃ الشوریٰ (42:11), سورۃ النمل (27:65) بحار الأنوار، جلد 25، ص 253 تہذیب التہذیب، سیر اعلام النبلاء صحیح بخاری، صحیح مسلم ---
2025-12-23 15:45:59
1
asifnawaz9as
Asif Nawaz :
🥰🥰🥰🥰❤️❤️❤️❤❤
2025-12-10 20:24:10
1
asifnawaz9as
Asif Nawaz :
♥️♥️♥️♥️♥️
2025-12-10 20:24:07
1
asifnawaz9as
Asif Nawaz :
♥♥♥♥♥♥
2025-12-10 20:23:58
1
asifnawaz9as
Asif Nawaz :
❤️❤️🥰🥰❤❤🥰🥰❤️❤️❤❤🥰🥰❤️❤️
2025-12-10 20:24:17
1
ajikhan093
Aji Khan :
nice
2025-11-28 01:22:28
1
itzchali97
ALI RAZA Chaudhary :
Good information 😍😍
2026-01-01 07:44:13
0
user5974016816801
حجی ناصر عباس :
🥰🥰🥰
2026-01-10 04:05:49
0
user7498194712634
arshad4259 :
❤️❤️❤️
2026-01-05 07:06:06
0
sadam.buledi220
SADAM BULEDI22 :
🥰🥰🥰
2026-01-05 23:08:04
0
azharabbasi199
Azhar abbasi :
🥰🥰🥰
2026-01-06 02:47:43
0
muhammad.ali88883
Muhammad Ali :
🥰🥰🥰
2026-01-06 03:29:48
0
zznn1966
⋆꯭ͣ⋆ͫ Mŕ ❤️Zɳܔ :
🥰🥰🥰
2026-01-01 04:47:11
0
sayedwaheedali1
Sayed Shabir :
😭😭😭
2026-01-06 03:42:02
0
raza17735
Raza :
😭😭😭
2026-01-06 11:58:28
0
asad.ali.11011
Asad Ali 110 :
🥰🥰🥰
2026-01-06 15:23:42
0
haseeb.ali.punjta
Haseeb Ali Punjtani :
🥰🥰🥰
2026-01-06 15:58:19
0
abrarhussian122
ابرار ساند❣️❣️ :
❤❤❤
2026-01-06 17:10:24
0
subtain573
Subtain :
🥰🥰🥰
2026-01-01 03:10:52
0
sajjadazad313
it's me :
😭😭😭
2025-12-31 17:22:11
0
safli302
shouiab karloo ex :
🥰🥰🥰
2025-12-31 13:20:39
0
ramzankhanjadoon07
•-R🧸 :
Kon sa drbar tha ?
2025-12-30 20:50:44
0
ghualmakbarghallou
Ghualm Akbar Ghallou :
😭😭😭
2025-12-30 06:59:00
0
mushtaq.ahmad1103
مشتاق علی سولنگی♥️🌎 :
❤❤❤
2026-01-01 10:40:36
0
user631314719
Waseem Khan :
🥰🥰🥰
2026-01-04 03:17:24
0
sultangb5
mehmood :
beshak
2026-01-03 22:02:37
0
To see more videos from user @voiceofarifkazmi1, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos


About