@quaythuocdumyy: Tét hiv tại nhà chuẩn xác #duocsidu #tiktok #xuhuong #hiv #prep

Dược Sĩ Du Uy Tín
Dược Sĩ Du Uy Tín
Open In TikTok:
Region: VN
Monday 01 December 2025 05:58:28 GMT
2890
26
7
1

Music

Download

Comments

mbavgaj
Hùngさん 37🇻🇳🇯🇵33 :
đ/c ở đâu vậy chị
2025-12-01 15:11:11
1
thnh.tn97
Tân 36 :
🥰🥰🥰🥰🥰
2025-12-01 16:59:00
0
To see more videos from user @quaythuocdumyy, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

عشق ایک ایسا رازِ نہاں ہے جو کائنات کے ذرے ذرے میں جاری و ساری ہے، اور صوفیانہ نقطۂ نظر سے یہ ہی وہ طاقت ہے جو عدم کو وجود میں لاتی ہے۔ عشق کی اس طویل اور پُرارسرار بحث کو صوفیانہ رنگ میں درج ذیل ابواب کے تحت سمجھا جا سکتا ہے: ۱. عشق ہے کیا؟ (ماہیتِ عشق) تصوف میں عشق محض جذبے یا محبت کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ذاتِ حق کا وہ ذاتی جوہر ہے جس کی وجہ سے اس نے اپنی پہچانی کرانا چاہی (مَیں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا، میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں)۔ عشق وہ آگ ہے جو دل میں لگتی ہے تو ماسوا (غیر اللہ) کے تمام نقوش کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ یہ عاشق اور معشوق کے درمیان فاصلوں کو مٹا کر
عشق ایک ایسا رازِ نہاں ہے جو کائنات کے ذرے ذرے میں جاری و ساری ہے، اور صوفیانہ نقطۂ نظر سے یہ ہی وہ طاقت ہے جو عدم کو وجود میں لاتی ہے۔ عشق کی اس طویل اور پُرارسرار بحث کو صوفیانہ رنگ میں درج ذیل ابواب کے تحت سمجھا جا سکتا ہے: ۱. عشق ہے کیا؟ (ماہیتِ عشق) تصوف میں عشق محض جذبے یا محبت کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ذاتِ حق کا وہ ذاتی جوہر ہے جس کی وجہ سے اس نے اپنی پہچانی کرانا چاہی (مَیں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا، میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں)۔ عشق وہ آگ ہے جو دل میں لگتی ہے تو ماسوا (غیر اللہ) کے تمام نقوش کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ یہ عاشق اور معشوق کے درمیان فاصلوں کو مٹا کر "وحدتِ وجود" کا جام پلاتا ہے۔ عشق عقل کی حدوں سے باہر کا سفر ہے؛ عقل جہاں سوچ کر رک جاتی ہے، عشق وہیں سے اپنی اڑان شروع کرتا ہے۔ شعر: عقل کہتی ہے کہ کچھ اور سہی، عشق کہتا ہے ہیجانِ ابد عقل ہے گردشِ پرکارِ مکاں، عشق ہے وسعتِ بے حد و بند ۲. عشق کرتا کیا ہے؟ (تأثیرِ عشق) عشق جب دل میں اترتا ہے تو انسان کی کایا پلٹ دیتا ہے۔ اس کے بنیادی افعال یہ ہیں: خودی کی نفی: عشق انسان کے اندر سے "میں" اور "تو" کا فرق مٹا دیتا ہے۔ انا پرست انسان کو خاک میں ملا کر اسے کائنات کا حصہ بنا دیتا ہے۔ نظر کی صفائی: یہ آنکھ سے غفلت کے پردے ہٹا دیتا ہے، جس سے عاشق کو ہر ذرے میں معشوق کا جلوہ نظر آنے لگتا ہے۔ امتحان اور پختگی: عشق عاشق کو درد، فراق، ملامت اور صبر کی بھٹی سے گزار کر کندن بناتا ہے۔ وصال کی تڑپ: یہ روح کو بے قرار رکھتا ہے تاکہ وہ اپنے اصلی ماخذ (ربِ کریم) کی طرف لوٹنے کے لیے بے تاب رہے۔ شعر: عشق مجھ کو وہ حقیقت کر گیا آپ ہی میں مجھ کو غائب کر گیا دل میں جب اُس کی محبت رچ گئی ذرہ ذرہ آفتابِ بن گیا ۳. عاشق کے اوصاف کیا ہیں؟ (صفاتِ عاشق) سچے عاشق کی پہچان اس کی ظاہری و باطنی حالت سے ہوتی ہے۔ صوفیا کرام کے نزدیک عاشق کے درج ذیل نمایاں اوصاف ہیں: تسلیم و رضا: وہ معشوق (اللہ یا مرشدِ کامل) کے ہر فیصلے اور ہر حال پر راضی رہتا ہے، شکوہ اس کے قریب نہیں پھٹکتا۔ درد اور سوزِ دل: عاشق کا دل ہمیشہ ایک دردِ نہاں سے آشنا رہتا ہے، جو اسے دنیاوی آلائشوں سے پاک رکھتا ہے۔ بے نیازی: وہ دنیا کی عزت، ذلت، دولت اور شہرت سے بے نیاز ہو جاتا ہے، اسے صرف "دیدار" کی طلب ہوتی ہے۔ خاموشی اور عاجزی: عاشق خود کو کمتر اور سب سے ادنیٰ سمجھتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اصل حسن تو صرف معشوق کا ہے۔ شعر: عشق میں زندگی کا مزہ چاہو اگر دل کو جلا کر خاکستر کرو دنیا کی چاہت سے ہو جاؤ آزاد بس ایک ہی دھیان اور دل میں رکھو ۴. عشق میں کمال کتنے ہوتے ہیں؟ (منازل و مراتبِ عشق) صوفیانہ مکاتبِ فکر میں عشق کے کمالات یا درجات کی مختلف تشریح کی گئی ہے، جن میں عام طور پر تین اہم مراتب (کمالات) بیان ہوتے ہیں: پہلا کمال (ابتدا - عشقِ مجازی سے گزرنا): یہاں عاشق ظاہری حسن سے متاثر ہو کر عشق کی راہ میں قدم رکھتا ہے، لیکن جوں جوں آگے بڑھتا ہے، وہ حقیقتِ مطلق کی طرف مائل ہونے لگتا ہے اور دنیاوی ہوس سے پاک ہو جاتا ہے۔ دوسرا کمال (وسط - فنا اور استغراق): اس مرحلے پر عاشق اپنے وجود کو معشوق کی محبت میں گم (فنا) کر دیتا ہے۔ اسے اپنی ذات کا ہوش نہیں رہتا۔ یہاں "من عرف نفسہ فقَد عرف ربہ" (جس نے اپنے آپ کو پہچانا، اس نے اپنے رب کو پہچان لیا) کا راز منکشف ہوتا ہے۔ تیسرا کمال (انتہا - بقا باللہ اور توحیدِ حقیقی): یہ عشق کا معراج کمال ہے۔ اس مقام پر عاشق فنا کے بعد اللہ کے ساتھ بقا پاتا ہے (بقا باللہ)۔ وہ مخلوق میں خالق کا جلوہ دیکھتا ہے اور اس کا دل ہر قسم کے ماسوا سے مکمل آزاد ہو کر صرف اور صرف ذاتِ حق کا مظہر بن جاتا ہے۔ شعرِ آخر: عشق تھا، عشق ہے، عشق ہی رہے گا نام اس دنیا میں عاشق کا یہی ہے انجام خود کو مٹایا تو پایا ہے وصالِ دوست یہی ہے عشق کا حاصل اور یہی ہے تمام! #عشق_حقیقی #fypシ゚viral #fypシ゚viral🖤tiktok☆♡🦋myvideo #fyppppppppppppppppppppppp #foryoupage @بزمِ✤عشق @عشقِ مرشد سگِ میراں

About