@nastya___life: May vs November

미소
미소
Open In TikTok:
Region: KR
Wednesday 03 December 2025 14:22:56 GMT
481
14
7
1

Music

Download

Comments

user3743966555655
이 솔 :
아니 너무 마른거 아니야?ㅠㅜㅜ마니 머거🍗🍔🍖
2025-12-04 05:00:35
0
tenstanislav
Станислав Тен :
Охохо, вот это прессуха😏
2025-12-04 18:25:09
0
_8012636
차우민 사랑해 :
언니 1kg도 소중해ㅜ❤❤
2025-12-04 05:00:49
1
To see more videos from user @nastya___life, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

بتاتا ہے مجھے آئینہ کیسی بے رخی سے کہ میں محروم ہوتا جا رہا ہوں روشنی سے کسے الزام دوں میں رائیگاں ہونے کا اپنے کہ سارے فیصلے میں نے کیے خود ہی خوشی سے ہر اک لمحے مجھے رہتی ہے تازہ اک شکایت کبھی تجھ سے کبھی خود سے کبھی اس زندگی سے مجھے کل تک بہت خواہش تھی خود سے گفتگو کی میں چھپتا پھر رہا ہوں آج اپنے آپ ہی سے وہ بے کیفی کا عالم ہے کہ دل یہ چاہتا ہے کہیں روپوش ہو جاؤں اچانک خامشی سے سکون خانۂ دل کے لئے کچھ گفتگو کر عجب ہنگامہ برپا ہے تری لب‌ بستگی سے تعلق کی یہی صورت رہے گی کیا ہمیشہ میں اب اکتا چکا ہوں تیری اس وارفتگی سے جو چاہے وہ ستم مجھ پر روا رکھے یہ دنیا مجھے یوں بھی توقع اب نہیں کچھ بھی کسی سے ترے ہونے نہ ہونے پر کبھی پھر سوچ لوں گا ابھی تو میں پریشاں ہوں خود اپنی ہی کمی سے رہا وہ ملتفت میری طرف اور ان دنوں میں خود اپنی سمت دیکھے جا رہا بے خودی سے کوئی خوش فکر سا تازہ سخن بھی درمیاں رکھ کہاں تک دل کو بہلاؤں میں تیری دل کشی سے کرم تیرا کہ یہ مہلت مجھے کچھ دن کی بخشی مگر میں تجھ سے رخصت چاہتا ہوں آج ہی سے وہ دن بھی تھے تجھے میں والہانہ دیکھتا تھا یہ دن بھی ہیں تجھے میں دیکھتا ہوں بے بسی سے ابھی عرفانؔ آنکھوں کو بہت کچھ دیکھنا ہے تمہیں بے رنگ کیوں لگنے لگا ہے سب ابھی سے ۔ ۔ ۔ عرفان ستار  #fyp #explore #poetry #trending
بتاتا ہے مجھے آئینہ کیسی بے رخی سے کہ میں محروم ہوتا جا رہا ہوں روشنی سے کسے الزام دوں میں رائیگاں ہونے کا اپنے کہ سارے فیصلے میں نے کیے خود ہی خوشی سے ہر اک لمحے مجھے رہتی ہے تازہ اک شکایت کبھی تجھ سے کبھی خود سے کبھی اس زندگی سے مجھے کل تک بہت خواہش تھی خود سے گفتگو کی میں چھپتا پھر رہا ہوں آج اپنے آپ ہی سے وہ بے کیفی کا عالم ہے کہ دل یہ چاہتا ہے کہیں روپوش ہو جاؤں اچانک خامشی سے سکون خانۂ دل کے لئے کچھ گفتگو کر عجب ہنگامہ برپا ہے تری لب‌ بستگی سے تعلق کی یہی صورت رہے گی کیا ہمیشہ میں اب اکتا چکا ہوں تیری اس وارفتگی سے جو چاہے وہ ستم مجھ پر روا رکھے یہ دنیا مجھے یوں بھی توقع اب نہیں کچھ بھی کسی سے ترے ہونے نہ ہونے پر کبھی پھر سوچ لوں گا ابھی تو میں پریشاں ہوں خود اپنی ہی کمی سے رہا وہ ملتفت میری طرف اور ان دنوں میں خود اپنی سمت دیکھے جا رہا بے خودی سے کوئی خوش فکر سا تازہ سخن بھی درمیاں رکھ کہاں تک دل کو بہلاؤں میں تیری دل کشی سے کرم تیرا کہ یہ مہلت مجھے کچھ دن کی بخشی مگر میں تجھ سے رخصت چاہتا ہوں آج ہی سے وہ دن بھی تھے تجھے میں والہانہ دیکھتا تھا یہ دن بھی ہیں تجھے میں دیکھتا ہوں بے بسی سے ابھی عرفانؔ آنکھوں کو بہت کچھ دیکھنا ہے تمہیں بے رنگ کیوں لگنے لگا ہے سب ابھی سے ۔ ۔ ۔ عرفان ستار #fyp #explore #poetry #trending

About