@jucorreamaia: GARVEE Wooden Vanity Table and Chair Set for Children with Lighted Mirror, Makeup Storage Rack, Brush Holder, and Stool - Perfect Pretend Play Dressing Table #woodenvanity #kidsvanity #vanity #tiktokshopblackfriday #christmas

jucorreamaia
jucorreamaia
Open In TikTok:
Region: US
Thursday 04 December 2025 16:38:04 GMT
170
0
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @jucorreamaia, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا پشاور ریوائٹلائزیشن پلان کے تحت 34 پارکس کی اپگریڈیشن کے کام کے اجراء کی تقریب سے خطاب! عمران خان کے وژن کے مطابق پشاور کی بحالی پر کام جاری ہے، آج 34 موجودہ پارکس کی اپگریڈیشن کے کام کا آغاز کر دیا گیا، پشاور ریوائٹلائزیشن پلان کے تحت تمام جاری منصوبے مقررہ ٹائم لائن کے اندر مکمل کیے جائیں گے،  پشاور میں شہریوں کو جدید سفری سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اربن ٹرین منصوبہ بھی شروع کیا جائے گا، آؤٹر رنگ روڈ منصوبہ بھی رواں سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) میں شامل ہے، منصوبے کی فزیبلٹی اسٹڈی آخری مراحل میں ہے، موجودہ حکومت نے مسائل کے باوجود تاریخی ترقیاتی بجٹ دیا ہے، خیبرپختونخوا حکومت کو جن چیلنجز کا سامنا ہے، وہ کسی دوسری صوبائی حکومت کو درپیش نہیں،  جعلی وفاقی حکومت نے گزشتہ مالی سال کے لیے ریونیو ہدف کم رکھا، مگر ہم نے اپنے مقررہ ہدف سے بھی بڑھ کر ریونیو حاصل کیا،  گزشتہ مالی سال میں 129 ارب روپے کے ریونیو ہدف کے مقابلے میں 150 ارب روپے جمع کیے، رواں مالی سال کے لیے 180 ارب روپے کا ریونیو ہدف مقرر کیا گیا ہے، تاہم ان شاء اللہ اسے 200 ارب روپے تک لے جائیں گے، کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا، بلکہ غیر ضروری اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری کو فروغ دیا،  جعلی حکومت کے حق میں گولیاں بھی چلائی گئیں اور گالیاں بھی دی گئیں، مگر اب وہ اپنے لانے والوں پر ہی بوجھ بن چکی ہے، ملک کی جی ڈی پی گروتھ میں مسلسل کمی آ رہی ہے، جبکہ صنعتی اور زرعی ترقی بھی تنزلی کا شکار ہے،   ملک کے اندرونی اور بیرونی قرضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ جعلی حکومت نے ڈالر کی قدر کو مصنوعی طور پر روک رکھا ہے، اگر دوست ممالک اپنے قرضے واپس مانگ لیں تو ڈالر کی قدر 400 روپے سے تجاوز کر جائے گی، قومی اثاثے اور ادارے فروخت کیے جا رہے ہیں، جو اپنے کپڑے بیچنے کی بات کرتے تھے، وہ آج ملک بیچنے کے لیے تیار ہیں، پاکستان کے نوجوان کا مستقبل تباہ کر دیا گیا ہے، اس کا جینا مرنا اسی ملک میں ہے، وہ خاموش کیوں رہے گا؟  جو شخص پاکستان کو مسائل سے نکال سکتا ہے، اسے جیل میں بند کر دیا گیا ہے، اس کے لیے قوم ضرور نکلے گی،  ہم صوبے میں میرٹ اور شفافیت کو فروغ دے رہے ہیں، مگر قومی سطح پر بھی ایک صادق و امین قیادت کی ضرورت ہے،  جعلی حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کے باعث ہم خودکشیاں نہیں کریں گے، بلکہ اپنے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہوں گے، پانچ اگست کو پشاور ٹول پلازہ پر عوام کا انتظار کروں گا، عوام نے اپنے لیے اور اپنے ملک کے لیے نکلنا ہے، پانچ اگست کا جلسہ سیمی فائنل ہے، جس میں آئندہ کے حتمی لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا،  جعلی حکومت خیبرپختونخوا کو دوسرے درجے کا شہری سمجھتی ہے اور اپنی بساط کے مطابق ہر ظلم اور زیادتی کر چکی ہے، ہم مرتے دم تک اپنے نظریے پر قائم رہیں گے، نہ کسی سے ڈرتے ہیں اور نہ ہی ہمیں خریدا جا سکتا ہے،  اگر کوئی سمجھتا ہے کہ گولی اور ڈنڈے کے زور پر ملک سنبھل جائے گا تو یہ اس کی غلط سوچ اور ناکام پالیسی ہے، آپ میں عوام کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں، ورنہ اپنی پالیسیوں پر عوام کی رائے ضرور لیتے، عوام اب مزید خاموش نہیں رہیں گے، پاکستان سب کا ہے، اس کی تقدیر ہمیں خود بدلنی ہے اور اپنے لیڈر کا انتخاب بھی خود کرنا ہے، اب فیصلے کا وقت آ گیا ہے، ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ قیدی نمبر 804 کی طرح باوقار زندگی گزارنی ہے یا غلامی قبول کرنی ہے، تمام شہری، خصوصاً نوجوان، 5 اگست کو پشاور ٹول پلازہ پہنچیں اور اپنے حقوق کے لیے یک آواز ہو جائیں،
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا پشاور ریوائٹلائزیشن پلان کے تحت 34 پارکس کی اپگریڈیشن کے کام کے اجراء کی تقریب سے خطاب! عمران خان کے وژن کے مطابق پشاور کی بحالی پر کام جاری ہے، آج 34 موجودہ پارکس کی اپگریڈیشن کے کام کا آغاز کر دیا گیا، پشاور ریوائٹلائزیشن پلان کے تحت تمام جاری منصوبے مقررہ ٹائم لائن کے اندر مکمل کیے جائیں گے، پشاور میں شہریوں کو جدید سفری سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اربن ٹرین منصوبہ بھی شروع کیا جائے گا، آؤٹر رنگ روڈ منصوبہ بھی رواں سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) میں شامل ہے، منصوبے کی فزیبلٹی اسٹڈی آخری مراحل میں ہے، موجودہ حکومت نے مسائل کے باوجود تاریخی ترقیاتی بجٹ دیا ہے، خیبرپختونخوا حکومت کو جن چیلنجز کا سامنا ہے، وہ کسی دوسری صوبائی حکومت کو درپیش نہیں، جعلی وفاقی حکومت نے گزشتہ مالی سال کے لیے ریونیو ہدف کم رکھا، مگر ہم نے اپنے مقررہ ہدف سے بھی بڑھ کر ریونیو حاصل کیا، گزشتہ مالی سال میں 129 ارب روپے کے ریونیو ہدف کے مقابلے میں 150 ارب روپے جمع کیے، رواں مالی سال کے لیے 180 ارب روپے کا ریونیو ہدف مقرر کیا گیا ہے، تاہم ان شاء اللہ اسے 200 ارب روپے تک لے جائیں گے، کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا، بلکہ غیر ضروری اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، جعلی حکومت کے حق میں گولیاں بھی چلائی گئیں اور گالیاں بھی دی گئیں، مگر اب وہ اپنے لانے والوں پر ہی بوجھ بن چکی ہے، ملک کی جی ڈی پی گروتھ میں مسلسل کمی آ رہی ہے، جبکہ صنعتی اور زرعی ترقی بھی تنزلی کا شکار ہے، ملک کے اندرونی اور بیرونی قرضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ جعلی حکومت نے ڈالر کی قدر کو مصنوعی طور پر روک رکھا ہے، اگر دوست ممالک اپنے قرضے واپس مانگ لیں تو ڈالر کی قدر 400 روپے سے تجاوز کر جائے گی، قومی اثاثے اور ادارے فروخت کیے جا رہے ہیں، جو اپنے کپڑے بیچنے کی بات کرتے تھے، وہ آج ملک بیچنے کے لیے تیار ہیں، پاکستان کے نوجوان کا مستقبل تباہ کر دیا گیا ہے، اس کا جینا مرنا اسی ملک میں ہے، وہ خاموش کیوں رہے گا؟ جو شخص پاکستان کو مسائل سے نکال سکتا ہے، اسے جیل میں بند کر دیا گیا ہے، اس کے لیے قوم ضرور نکلے گی، ہم صوبے میں میرٹ اور شفافیت کو فروغ دے رہے ہیں، مگر قومی سطح پر بھی ایک صادق و امین قیادت کی ضرورت ہے، جعلی حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کے باعث ہم خودکشیاں نہیں کریں گے، بلکہ اپنے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہوں گے، پانچ اگست کو پشاور ٹول پلازہ پر عوام کا انتظار کروں گا، عوام نے اپنے لیے اور اپنے ملک کے لیے نکلنا ہے، پانچ اگست کا جلسہ سیمی فائنل ہے، جس میں آئندہ کے حتمی لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، جعلی حکومت خیبرپختونخوا کو دوسرے درجے کا شہری سمجھتی ہے اور اپنی بساط کے مطابق ہر ظلم اور زیادتی کر چکی ہے، ہم مرتے دم تک اپنے نظریے پر قائم رہیں گے، نہ کسی سے ڈرتے ہیں اور نہ ہی ہمیں خریدا جا سکتا ہے، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ گولی اور ڈنڈے کے زور پر ملک سنبھل جائے گا تو یہ اس کی غلط سوچ اور ناکام پالیسی ہے، آپ میں عوام کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں، ورنہ اپنی پالیسیوں پر عوام کی رائے ضرور لیتے، عوام اب مزید خاموش نہیں رہیں گے، پاکستان سب کا ہے، اس کی تقدیر ہمیں خود بدلنی ہے اور اپنے لیڈر کا انتخاب بھی خود کرنا ہے، اب فیصلے کا وقت آ گیا ہے، ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ قیدی نمبر 804 کی طرح باوقار زندگی گزارنی ہے یا غلامی قبول کرنی ہے، تمام شہری، خصوصاً نوجوان، 5 اگست کو پشاور ٹول پلازہ پہنچیں اور اپنے حقوق کے لیے یک آواز ہو جائیں،

About