ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ علیہا السلام نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس رسول اللہ ﷺ کے ترکے سے اپنی میراث کا تقاضا بھیجا۔۔۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس میں سے کچھ بھی دینے سے انکار کر دیا (اور نبی ﷺ کی حدیث سنائی کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا)۔
اس پر فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے رنجیدہ (غمگین) ہو گئیں، اور ان سے تعلق منقطع کر لیا اور اپنی وفات تک ان سے گفتگو نہیں کی۔ وہ نبی کریم ﷺ کے بعد چھ ماہ تک زندہ رہیں۔
پھر جب ان کی وفات ہوئی تو ان کے شوہر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں رات کے وقت دفن کر دیا، اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع نہیں دی، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خود ان پر نمازِ جنازہ پڑھی۔"
خلاصہ: صحیح بخاری کی ان دونوں مستند احادیث (حدیث نمبر 4240 اور 6726) سے یہ بالکل واضح ہوتا ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وصیت کے مطابق ان کا جنازہ اور تدفین رات کے اندھیرے میں ہوئی اور ان کی نمازِ جنازہ ان کے شوہر حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے خود پڑھائی تھی