@mohnd_alklyby59: #استغفرالله_العظيم_واتوب_اليه #موعظة #بلال_الجهماني #التوبة_والرجوع_الى_الله #التوبة

||لعـلهُ خـيرً||🤍
||لعـلهُ خـيرً||🤍
Open In TikTok:
Region: SA
Saturday 13 December 2025 17:52:03 GMT
138137
26078
545
1941

Music

Download

Comments

aabbd851
aabbd851 :
اللهم صلي واسلم على نبينا وحبينا محمد
2025-12-16 16:45:41
0
user6513753844949
هنادي*ام هنادي :
اللهم صل وسلم على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين
2025-12-14 19:52:26
6
princess.of.peace64
Princess of peace 🇱🇾 :
عليه افضل الصلاة والسلام
2026-02-08 20:33:43
1
user074469607
Salim محمد :
اللهم صلى وسلم على نبينا محمد
2026-02-08 19:24:34
1
mohamed__gcm
🇩🇿Mohamed__GCM🇳🇬 :
صلى الله عليه وسلم❤
2025-12-16 21:17:43
1
amin_hamdi5
🇵🇸ᴍᴏʜᴀᴍᴇᴅ ᴀᴍɪɴ :
سبحان الله وبحمده عدد خلقه و رضا نفسه وزنه عرشه
2026-01-14 15:32:41
1
user5835818427701
تفرح منت محمدو محمد الغظف :
عليه افضل الصلاة والسلام
2025-12-13 20:08:47
2
user1488368057341
﮼عيبهم ﮼ينسو!😉 :
صلي على النبي محمد
2025-12-21 09:29:36
2
hlho81
لولاا :
2025-12-17 11:47:06
3
1234567890nnnnnnnn4
عــــــــمـار🤍 :
عليه افضل الصلاة والسلام
2025-12-15 13:15:49
5
u_6ei
غيث🌷. :
الاستوري
2026-01-10 15:29:32
1
sa70560
رائد الهذلي :
اللهم صل وسلم وبارك على نبينا محمد.
2025-12-14 00:17:24
2
mofo922
ma1390547773 :
2025-12-14 21:57:50
4
sanad.gaddafi0
Sanad Gaddafi :
استغفر الله العظيم واتوب اليه
2025-12-13 20:24:36
5
h79il
i 7 . :
استغفرالله واتوب إليه
2025-12-13 22:50:52
6
user1488368057341
﮼عيبهم ﮼ينسو!😉 :
الحمد لله
2025-12-21 09:29:31
1
user1488368057341
﮼عيبهم ﮼ينسو!😉 :
سبحان الله
2025-12-21 09:29:25
1
adtd03
داحم :
2025-12-25 02:25:25
1
chafi_k1ng
CHAFI.21 :
استغفر الله العظيم وأتوب إليه
2025-12-17 00:08:41
1
fati_zarha1
فاطمةالزهراء :
عليه الصلاة والسلام 💚
2025-12-13 23:15:55
4
v_t59
🕋 :
سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم
2025-12-16 01:50:57
1
obada.hamidtwix
Óbädã Håmîd :
صلى الله عليه وسلم عليه افضل الصلاه والسلام ✨❤️
2026-01-03 15:55:06
1
sultan.almutairi068
Sultan Almutairi :
اللهم صلي وسلم على نبينا محمد
2026-01-05 02:15:54
1
user892003243
محمود ال شمري :
صلى الله عليه وسلم
2025-12-15 06:45:50
1
To see more videos from user @mohnd_alklyby59, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

تصوف میں تزکیۂ نفس سے مراد انسان کے باطن کو برائیوں، تکبر، حسد، ریا، حرص اور نفسانی خواہشات سے پاک کرنے کی کوشش ہے۔ صوفیانہ تعلیمات میں نفس کے مختلف مراتب بیان کیے جاتے ہیں، جن کے ذریعے سالک کے باطن کی اصلاح، اخلاق کی تبدیلی اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کے سفر کو سمجھایا جاتا ہے۔ یہ یاد رہے کہ یہ مراتب ہر انسان میں لازماً ایک ہی ترتیب سے ظاہر نہیں ہوتے، اور صرف چند کیفیات محسوس کرنے سے کسی شخص کا روحانی مقام طے نہیں کیا جا سکتا۔ سات مراتب کی اصطلاحات اور ترتیب بھی مختلف صوفی سلسلوں میں کچھ مختلف ملتی ہیں۔ اس مرتبے میں انسان کی خواہشات، غصہ، حرص، حسد، تکبر اور انا اس پر غالب رہتے ہیں۔ وہ اپنی غلطی کو بھی درست ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے، دوسروں کو قصوروار ٹھہراتا ہے اور اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے حق و باطل کی تمیز کھو سکتا ہے۔ کیفیت: خواہشات کی غلامی، غفلت اور خود پسندی۔ مجاہدہ: توبہ، خواہشات پر قابو، عبادت اور اپنے اعمال کا محاسبہ۔ قرآنی حوالہ: سورۃ یوسف، آیت 53۔  2۔ نفسِ لوّامہ — ضمیر کی بیداری اس مرحلے میں انسان کے اندر ضمیر بیدار ہونے لگتا ہے۔ غلطی کے بعد دل ملامت کرتا ہے، ندامت پیدا ہوتی ہے اور انسان سوچتا ہے کہ میں نے ایسا کیوں کیا؟ کبھی وہ نفس کے سامنے ہار جاتا ہے، پھر توبہ کرتا ہے اور دوبارہ کوشش کرتا ہے۔ کیفیت: ندامت، کشمکش، خود احتسابی اور اصلاح کی طلب۔ مجاہدہ: مایوس ہوئے بغیر توبہ پر قائم رہنا اور غلطی کے اسباب کو پہچاننا۔ قرآنی حوالہ: سورۃ القیامۃ، آیت 2 اس مرحلے میں انسان اپنے اندر کی برائیوں کو زیادہ واضح طور پر پہچاننے لگتا ہے۔ نیکی، رحم، سخاوت، سچائی اور دوسروں کی مدد کی طرف رغبت بڑھتی ہے۔ تاہم ہر اندرونی خیال یا احساس کو الہام سمجھنا درست نہیں؛ اسے قرآن و سنت اور عقلِ سلیم کی کسوٹی پر پرکھنا ضروری ہے۔ کیفیت: نیکی کی طلب، باطنی بیداری اور اپنے عیبوں کی پہچان۔ خطرہ: اپنی نیکیوں پر فخر کرنا اور خود کو دوسروں سے برتر سمجھنا۔ مجاہدہ: اخلاص، خدمتِ خلق، عاجزی اور نیت کی اصلاح۔ قرآنی حوالہ: سورۃ الشمس، آیات 7–10 4۔ نفسِ مطمئنہ — قلب کا اطمینان اس مقام کی بنیادی علامت یہ ہے کہ انسان کا دل اللہ کی یاد اور اس پر بھروسے سے سکون پانے لگتا ہے۔ آزمائشیں ختم نہیں ہوتیں، غم بھی آتا ہے اور آنکھیں بھی نم ہوتی ہیں، مگر انسان مصیبت میں بھی اپنے ایمان، اخلاق اور ذمہ داریوں سے دست بردار نہیں ہوتا۔ کیفیت: قلبی سکون، توکل، صبر اور ذکرِ الٰہی سے انس۔ مجاہدہ: عبادت میں استقامت، شکر، صبر اور اللہ سے تعلق مضبوط کرنا۔ قرآنی حوالہ: سورۃ الفجر، آیات 27–30 5۔ نفسِ راضیہ. رضا کی کیفیت اس مرتبے میں انسان اللہ کے فیصلوں پر راضی رہنے کی تربیت پاتا ہے۔ اسے اپنی ہر خواہش پوری ہونے کی ضد نہیں رہتی۔ وہ نعمت پر شکر کرتا ہے اور آزمائش میں حکمت تلاش کرتے ہوئے صبر اختیار کرتا ہے۔ کیفیت: قناعت، رضا، شکر اور نتیجے کو اللہ کے سپرد کرنا۔ اہم بات: رضا کا مطلب ظلم کو قبول کرنا یا ناانصافی کے خلاف کوشش چھوڑ دینا نہیں؛ انسان حق کے لیے کوشش کرتے ہوئے بھی اللہ پر بھروسہ رکھ سکتا ہے۔ قرآنی اشارہ: سورۃ الفجر، آیت 28 میں رَاضِيَةً کے الفاظ آتے ہیں۔  6۔ نفسِ مرضیہ.مقبولیت اور اچھے کردار کی علامت صوفیانہ اصطلاح میں یہ وہ مرتبہ ہے جس میں بندہ اللہ کی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے اخلاق میں نرمی، انصاف، امانت، رحم اور مخلوق کے لیے خیر خواہی نمایاں ہونے لگتی ہے۔ کیفیت: حسنِ اخلاق، اخلاص، خدمتِ خلق اور عاجزی۔ خطرہ: یہ خیال پیدا ہونا کہ میں اللہ کا مقبول بندہ بن چکا ہوں۔ حقیقی سالک اپنے مقام کے دعوے کے بجائے اپنی اصلاح میں مشغول رہتا ہے۔ قرآنی اشارہ: سورۃ الفجر، آیت 28 میں مَرْضِيَّةً کے الفاظ آتے ہیں۔  7۔ نفسِ کاملہ. روحانی پختگی اور تزکیے کی تکمیل بعض صوفیانہ سلسلوں میں اسے نفسِ کاملہ اور بعض میں نفسِ صافیہ کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد روحانی پختگی، اخلاقی پاکیزگی اور بندگی میں استقامت کی اعلیٰ کیفیت ہے۔ انسان دنیا کے معاملات میں رہتے ہوئے بھی اپنی نیت، کردار اور اللہ کے حقوق و بندوں کے حقوق کا خیال رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ کیفیت: عاجزی، اخلاص، حکمت، عدل اور مخلوق کے لیے خیر خواہی۔ اصل پہچان: شہرت، کشف، خواب یا غیر معمولی تجربات نہیں، بلکہ اچھا کردار، سچی بندگی اور مسلسل اصلاح۔ یہ بھی یاد رہے کہ نفسِ کاملہ کی اصطلاح سات مراتب کی ہر ترتیب میں یکساں نہیں؛ بعض سلسلے ساتویں مرتبے کو نفسِ صافیہ کہتے ہیں۔  🌙 سسی کے لیے سب سے اہم بات نفس کے مراتب محض ناموں یا روحانی کیفیات کی فہرست نہیں، بلکہ اپنے باطن کو جانچنے کا ایک صوفیانہ طریقہ ہیں۔ انسان ایک معاملے میں صبر والا اور دوسرے میں غصے کا شکار ہو سکتا ہے؛ اسی لیے اپنے بارے میں قطعی روحانی  درجہ مقرر کرنے کے بجائے مسلسل محاسبہ زیادہ مفید ہے۔ سسی بنتِ الست✍️
تصوف میں تزکیۂ نفس سے مراد انسان کے باطن کو برائیوں، تکبر، حسد، ریا، حرص اور نفسانی خواہشات سے پاک کرنے کی کوشش ہے۔ صوفیانہ تعلیمات میں نفس کے مختلف مراتب بیان کیے جاتے ہیں، جن کے ذریعے سالک کے باطن کی اصلاح، اخلاق کی تبدیلی اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کے سفر کو سمجھایا جاتا ہے۔ یہ یاد رہے کہ یہ مراتب ہر انسان میں لازماً ایک ہی ترتیب سے ظاہر نہیں ہوتے، اور صرف چند کیفیات محسوس کرنے سے کسی شخص کا روحانی مقام طے نہیں کیا جا سکتا۔ سات مراتب کی اصطلاحات اور ترتیب بھی مختلف صوفی سلسلوں میں کچھ مختلف ملتی ہیں۔ اس مرتبے میں انسان کی خواہشات، غصہ، حرص، حسد، تکبر اور انا اس پر غالب رہتے ہیں۔ وہ اپنی غلطی کو بھی درست ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے، دوسروں کو قصوروار ٹھہراتا ہے اور اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے حق و باطل کی تمیز کھو سکتا ہے۔ کیفیت: خواہشات کی غلامی، غفلت اور خود پسندی۔ مجاہدہ: توبہ، خواہشات پر قابو، عبادت اور اپنے اعمال کا محاسبہ۔ قرآنی حوالہ: سورۃ یوسف، آیت 53۔ 2۔ نفسِ لوّامہ — ضمیر کی بیداری اس مرحلے میں انسان کے اندر ضمیر بیدار ہونے لگتا ہے۔ غلطی کے بعد دل ملامت کرتا ہے، ندامت پیدا ہوتی ہے اور انسان سوچتا ہے کہ میں نے ایسا کیوں کیا؟ کبھی وہ نفس کے سامنے ہار جاتا ہے، پھر توبہ کرتا ہے اور دوبارہ کوشش کرتا ہے۔ کیفیت: ندامت، کشمکش، خود احتسابی اور اصلاح کی طلب۔ مجاہدہ: مایوس ہوئے بغیر توبہ پر قائم رہنا اور غلطی کے اسباب کو پہچاننا۔ قرآنی حوالہ: سورۃ القیامۃ، آیت 2 اس مرحلے میں انسان اپنے اندر کی برائیوں کو زیادہ واضح طور پر پہچاننے لگتا ہے۔ نیکی، رحم، سخاوت، سچائی اور دوسروں کی مدد کی طرف رغبت بڑھتی ہے۔ تاہم ہر اندرونی خیال یا احساس کو الہام سمجھنا درست نہیں؛ اسے قرآن و سنت اور عقلِ سلیم کی کسوٹی پر پرکھنا ضروری ہے۔ کیفیت: نیکی کی طلب، باطنی بیداری اور اپنے عیبوں کی پہچان۔ خطرہ: اپنی نیکیوں پر فخر کرنا اور خود کو دوسروں سے برتر سمجھنا۔ مجاہدہ: اخلاص، خدمتِ خلق، عاجزی اور نیت کی اصلاح۔ قرآنی حوالہ: سورۃ الشمس، آیات 7–10 4۔ نفسِ مطمئنہ — قلب کا اطمینان اس مقام کی بنیادی علامت یہ ہے کہ انسان کا دل اللہ کی یاد اور اس پر بھروسے سے سکون پانے لگتا ہے۔ آزمائشیں ختم نہیں ہوتیں، غم بھی آتا ہے اور آنکھیں بھی نم ہوتی ہیں، مگر انسان مصیبت میں بھی اپنے ایمان، اخلاق اور ذمہ داریوں سے دست بردار نہیں ہوتا۔ کیفیت: قلبی سکون، توکل، صبر اور ذکرِ الٰہی سے انس۔ مجاہدہ: عبادت میں استقامت، شکر، صبر اور اللہ سے تعلق مضبوط کرنا۔ قرآنی حوالہ: سورۃ الفجر، آیات 27–30 5۔ نفسِ راضیہ. رضا کی کیفیت اس مرتبے میں انسان اللہ کے فیصلوں پر راضی رہنے کی تربیت پاتا ہے۔ اسے اپنی ہر خواہش پوری ہونے کی ضد نہیں رہتی۔ وہ نعمت پر شکر کرتا ہے اور آزمائش میں حکمت تلاش کرتے ہوئے صبر اختیار کرتا ہے۔ کیفیت: قناعت، رضا، شکر اور نتیجے کو اللہ کے سپرد کرنا۔ اہم بات: رضا کا مطلب ظلم کو قبول کرنا یا ناانصافی کے خلاف کوشش چھوڑ دینا نہیں؛ انسان حق کے لیے کوشش کرتے ہوئے بھی اللہ پر بھروسہ رکھ سکتا ہے۔ قرآنی اشارہ: سورۃ الفجر، آیت 28 میں رَاضِيَةً کے الفاظ آتے ہیں۔ 6۔ نفسِ مرضیہ.مقبولیت اور اچھے کردار کی علامت صوفیانہ اصطلاح میں یہ وہ مرتبہ ہے جس میں بندہ اللہ کی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے اخلاق میں نرمی، انصاف، امانت، رحم اور مخلوق کے لیے خیر خواہی نمایاں ہونے لگتی ہے۔ کیفیت: حسنِ اخلاق، اخلاص، خدمتِ خلق اور عاجزی۔ خطرہ: یہ خیال پیدا ہونا کہ میں اللہ کا مقبول بندہ بن چکا ہوں۔ حقیقی سالک اپنے مقام کے دعوے کے بجائے اپنی اصلاح میں مشغول رہتا ہے۔ قرآنی اشارہ: سورۃ الفجر، آیت 28 میں مَرْضِيَّةً کے الفاظ آتے ہیں۔ 7۔ نفسِ کاملہ. روحانی پختگی اور تزکیے کی تکمیل بعض صوفیانہ سلسلوں میں اسے نفسِ کاملہ اور بعض میں نفسِ صافیہ کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد روحانی پختگی، اخلاقی پاکیزگی اور بندگی میں استقامت کی اعلیٰ کیفیت ہے۔ انسان دنیا کے معاملات میں رہتے ہوئے بھی اپنی نیت، کردار اور اللہ کے حقوق و بندوں کے حقوق کا خیال رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ کیفیت: عاجزی، اخلاص، حکمت، عدل اور مخلوق کے لیے خیر خواہی۔ اصل پہچان: شہرت، کشف، خواب یا غیر معمولی تجربات نہیں، بلکہ اچھا کردار، سچی بندگی اور مسلسل اصلاح۔ یہ بھی یاد رہے کہ نفسِ کاملہ کی اصطلاح سات مراتب کی ہر ترتیب میں یکساں نہیں؛ بعض سلسلے ساتویں مرتبے کو نفسِ صافیہ کہتے ہیں۔ 🌙 سسی کے لیے سب سے اہم بات نفس کے مراتب محض ناموں یا روحانی کیفیات کی فہرست نہیں، بلکہ اپنے باطن کو جانچنے کا ایک صوفیانہ طریقہ ہیں۔ انسان ایک معاملے میں صبر والا اور دوسرے میں غصے کا شکار ہو سکتا ہے؛ اسی لیے اپنے بارے میں قطعی روحانی درجہ مقرر کرنے کے بجائے مسلسل محاسبہ زیادہ مفید ہے۔ سسی بنتِ الست✍️

About