محبت دراصل عزت و انا کی معراج ہے... میں نے بھی کبھی ایک رشتہ نبھایا، جسے اپنی متاع جاں سمجھ کر آپ جی جناب کہہ کر عزت کے تخت پر بٹھایا۔ اپنی خوشیوں کو ان کے سکون پر قربان کیا، اپنی انا کو اس کی مسکراہٹ کی نذر کر دیا۔ مگر کتنا عجیب ہے یہ دستور محبت... کہ جنہیں ہم سب سے زیادہ عزت دیں، آخرکار وہی ہمیں ٹکڑوں میں بکھیر جاتے ہیں۔ محبت کا فلسفہ یہی ہے کہ جنہیں طلب ہوتی ہے وہ عمر بھر طلبگار ہی رہتے ہیں، اور جنہیں سب کچھ مل جائے وہ اسے ضائع کر دیتے ہیں۔ کچھ لوگ ہمیشہ راستوں میں بھٹکتے رہتے ہیں ... اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو منزل کو پا لینے کے بعد بھی اُسے ٹھکرا دیتے ہیں۔ ہم لوگ ہیں ہاری ہوئی منت کے چراغ... جو محراب کے کونے پہ دھرے رہتے ہیں جلتے بھی ہیں، بجھتے بھی ہیں، مگر کسی کو روشنی نہیں دیتے۔ یہی وہ تلخ حقیقت ہے جو روح کو کاٹ ڈالتی ہے: رشتہ جب عزت کے بغیر رہ جائے تو سکون نہیں دیتا، بلکہ دل کے زخموں کو ناسور بنا دیتا ہے۔ اور یوں وہی رشتہ جو کبھی زیست کا سہارا تھا، بعد میں جان کا عذاب بن جاتا ہے۔🙃