@alquran_781: Translation Quran-e-pak ✨ #alquran #allah❤️ #islamic_vedio #viralvedio #unfreezemyaccount سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 6 یعنی جو شخص حیات اخروی کا قائل ہی نہ ہو اور یہ سمجھتا ہو کہ کوئی نہیں ہے جس کے سامنے ہمیں اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہو اور کوئی وقت ایسا نہیں آنا ہے جب ہم سے ہمارے کارنامہ زندگی کا محاسبہ کیا جائے ، اس کا معاملہ تو دوسرا ہے ۔ وہ اپنی غفلت میں پڑا رہے اور بے فکری کے ساتھ جو کچھ چاہے کرتا رہے ۔ اپنا نتیجہ اپنے اندازوں کے خلاف وہ خود دیکھ لے گا ۔ لیکن جو لوگ یہ توقع رکھتے ہیں کہ ایک وقت ہمیں اپنے خدا کے حضور حاضر ہونا ہے اور اپنے اعمال کے مطابق جزا و سزا بھی پانی ہے ، انہیں اس غلط فہمی میں نہ رہنا چاہیے کہ موت کا وقت کچھ بہت دور ہے ۔ ان کو تو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ بس قریب ہے آلگا ہے اور عمل کی مہلت ختم ہوا ہی چاہتی ہے ۔ اس لیے جو کچھ بھی وہ اپنی عاقبت کی بھلائی کے لیے کرسکتے ہوں کرلیں ۔ طویل حیات کے بے بنیاد بھروسے پر اپنی اصلاح میں دیر نہ لگائیں ۔ سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 7 یعنی ان کو اس غلط فہمی میں بھی نہ رہنا چاہیے کہ ان کا سابقہ کسی شہ بے خبر سے ہے ، جس خدا کے سامنے انہیں جواب دہی کے لیے حاضر ہونا ہے وہ بے خبر نہیں بلکہ سمیع و علیم خدا ہے ، ان کی کوئی بات بھی اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے ۔ سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 8 مجاہدہ کے معنی کسی مخالف طاقت کے مقابلہ میں کش مکش اور جدوجہد کرنے کے ہیں ، اور جب کسی خاص مخالف طاقت کی نشان دہی نہ کی جائے بلکہ مطلقا مجاہدہ کا لفظ استعمال کیا جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ ایک ہمہ گیر اور ہر جہتی کش مکش ہے ، مومن کو اس دنیا میں جو کش مکش کرنی ہے اس کی نوعیت یہی کچھ ہے ۔ اسے شیطان سے بھی لڑنا ہے جو اس کو ہر آن نیکی کے نقصانات سے ڈراتا اور بدی کے فائدوں اور لذتوں کا لالچ دلاتا رہتا ہے ۔ اپنے نفس سے بھی لڑنا ہے جو اسے ہر وقت اپنی خواہشات کا غلام بنانے کے لیے زور لگاتا رہتا ہے ۔ اپنے گھر سے لے کر آفاق تک کے ان تمام انسانوں سے بھی لڑنا ہے جن کے نظریات ، رجحانات ، اصول اخلاق ، رسم و رواج ، طرز تمدن اور قوانین معیشت و معاشرت دین حق سے متصادم ہوں ۔ اور اس ریاست سے بھی لڑنا ہے جو خدا کی فرمانبرداری سے آزاد رہ کر اپنا فرمان چلائے اور نیکی کے بجائے بدی کو فروغ دینے میں اپنی قوتیں صرف کرے ، یہ مجاہدہ ایک دن دو دن کا نہیں عمر بھر کا ، اور دن کے چوبیس گھنٹوں میں سے ہر لمحہ کا ہے ۔ اور کسی ایک میدان میں نہیں ، زندگی کے ہر پہلو میں ہر محاذ پرہے ۔ اسی کے متعلق حضرت حسن بصری فرماتے ہیں ان الرجل لیجاھد و ما ضرب یوما من الدھر بسیف آدمی جہاد کرتا ہے خواہ کبھی ایک دفعہ بھی وہ تلوار نہ چلائے ۔ سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 9 یعنی اللہ تعالی اس مجاہدہ کا مطالبہ تم سے اس لیے نہیں کر رہا ہے کہ اپنی خدائی قائم کرنے اور قائم رکھنے کے لیے اسے تمہاری کسی مدد کی ضرورت ہے اور تمہاری اس لڑائی کے بغیر اس کی خدائی نہ چلے گی ۔ بلکہ وہ اس لیے تمہیں اس کش مکش میں پڑنے کی ہدایت کرتا ہے کہ یہی تمہاری ترقی کا راستہ ہے ۔ اسی ذریعہ سے تم بدیا ور گمراہی کے چکر سے نکل کر نیکی اور صداقت کی راہ پر بڑھ سکتے ہو ۔ اسی سے تم میں یہ طاقت پیدا ہوسکتی ہے کہ دنیا میں خیر و صلاح کے علمبردار اور آخرت میں خدا کی جنت کے حق دار بنو ۔ تم یہ لڑائی لڑ کر خدا پر کوئی احسان نہ کرو گے ۔ اپنا ہی بھلا کروگے ۔