ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے ہوائی جہاز کے سفر کی ایک بہت سادہ مثال سے وقت اور اللہ کی قدرت کو سمجھایا: کہ جب ہم زمین پر ہوتے ہیں تو ہمیں صرف اپنے سامنے کی چیزیں نظر آتی ہیں۔ لیکن جب ہم جہاز میں بلندی پر جاتے ہیں تو ہمیں وہ سڑک بھی نظر آ رہی ہوتی ہے جہاں سے ہم گزر کر آئے ہیں (ماضی)، وہ جگہ بھی جہاں جہاز اس وقت موجود ہے (حال)، اور وہ راستہ بھی جہاں ہم نے پہنچنا ہے (مستقبل): انسان زمین پر موجود اس شخص کی طرح ہے جسے صرف "آج" نظر آتا ہے، لیکن اللہ کی ذات اس بلندی پر ہے جہاں سے اسے پوری کائنات کا present آغاز (Past) ماضی اور انجام (Future) ایک ساتھ نظر آ رہا ہے۔ اللہ کے لیے کچھ بھی "غائب" نہیں، سب کچھ اس کے سامنے ایک لمحے میں موجود ہے۔
ڈاکٹر اسرار احمد کے مطابق، تمام مخلوقات اس 4rth dimension (وقت) میں قید ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ہم وقت کے بہاؤ اور مکان (جگہ) کی حدود کے پابند ہیں۔ ہم نہ تو وقت میں پیچھے جا سکتے ہیں اور نہ ہی ایک وقت میں دو جگہوں پر موجود ہو سکتے ہیں۔
اس کے برعکس، اللہ تعالیٰ زمان (وقت) اور مکان (جگہ) دونوں کا خالق ہے۔ اس لیے وہ تمام Dimensions کی قید سے مکمل طور پر آزاد ہے۔ وہ وقت کی اس لکیر سے "باہر" اور بلند ہے، جہاں پوری کائنات کا آغاز اور انجام اس کے سامنے ایک ہی لمحے میں موجود ہے۔