@neiynkhan: میری ایک عادت تھی کہ میں اس کی ہر تصویر اس کا ہر میسج ہر بات ہر چیز بہت سنبھال کر رکھا کرتا تھا ... وہ اکثر کہا کرتی تھی کہ تم پاگل ہو…؟ کیا ملتا ہے یہ سب کر کے...؟ مجھے خود بھی پتہ نہیں ہوتا تھا کیوں…؟ پر مجھے ایسا کرنا اچھا لگتا تھا ... ایک دفعہ تو میرے موبائل میں سے میسیجز ڈیلیٹ کرنے پر ہماری باقاعدہ لڑائی بھی ہو گئی تھی ... اور پھر جب علیحدہ ہونے کا وقت آیا تو اس کی ہر وہ چیز اس کے آگے رکھی اور کہا کہ اس دن کے لئیے میں یہ سب جوڑا کرتا تھا اور اس کے پاس جواب میں رونے کے علاوہ مجھے دینے کے لئیے کچھ بھی نہیں تھا... اور یہ سچ ہے آج وہ نہیں ہے تو کیا ہوا اس کی یادیں تو ہیں نا اس کی چیزیں تو کوئی چھین نہیں سکتا نا اور میرے لئیے اس سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں کہ میں اس کی یادوں کے درمیان آرام سے باقی کی زندگی گزار سکتا ہوں... آج بھی اس کی ڈھیروں تصویریں جن سے باتیں کرتے میری راتیں گزرتی ہیں... کبھی کبھی دل نرم پڑتا ہے تو اس کے وہ میسجز نکال کر پڑھ لیتا ہوں کہ کہیں اس کے سامنے پھر سے ہاتھ پھیلا ہی نا دوں آج بھی اس سے اتنا ہی پیار ہے آج بھی اسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا آج بھی لوگوں سے اس کا حال پوچھتا ہوں آج بھی اسے دیکھنے کو ترستا ہوں آج بھی ... مگر نہیں کر سکتا تو بس اسے معاف کرنا میرے بس میں نہیں ہے لیکوال زہ یم یار۔ 🥹💔