@streamer_clipszyt: Valkyrae reacts to Reily Reid Song 😭 #fyp #streamer #clips #twitch #music

Streamer Clips
Streamer Clips
Open In TikTok:
Region: US
Wednesday 24 December 2025 06:20:46 GMT
76820
1838
30
48

Music

Download

Comments

japanpt2
漆器 :
it’s tuff so ion gaf
2026-06-30 23:41:33
28
antinator432.0
King Patrick :
cinna acting like she aint a white women too
2025-12-24 18:29:08
174
gorrilawithglasses
malakai :
I don’t care ts tiff
2026-04-02 06:23:33
308
josiah_benavidez
🗿Josiah sab trader🗿 :
BE SO FR DONT ACT LIKE YOU WOULD NOT SAY IT IF YOU WERE TOLD TO😭😭
2026-04-18 22:39:33
30
jolliroger12
jolliroger12 :
💘
2026-01-01 18:54:49
2
jolliroger12
jolliroger12 :
🔥
2026-01-01 18:54:38
1
jolliroger12
jolliroger12 :
🔥
2026-01-01 18:54:48
1
jolliroger12
jolliroger12 :
💘
2026-01-01 18:54:35
0
jolliroger12
jolliroger12 :
💘
2026-01-01 18:54:43
0
jolliroger12
jolliroger12 :
❤️
2026-01-01 18:54:48
0
jolliroger12
jolliroger12 :
🔥
2026-01-01 18:54:50
0
jolliroger12
jolliroger12 :
🔥
2026-01-01 18:54:41
0
jolliroger12
jolliroger12 :
💘
2026-01-01 18:54:39
0
To see more videos from user @streamer_clipszyt, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

جب روح جسم سے جدا ہو کر پہلی بار عالم بالا کا رخ کرتی ہے تو اس پر ایک غیر معمولی خاموشی چھا جاتی ہے ایسی خاموشی جس میں نہ خوف ہوتا ہے نہ دنیا کی کوئی کشمکش رہ جاتی ہے بلکہ ایک ایسا احساس اٹھتا ہے جیسے صدیوں کی تھکن اتر رہی ہو اور دل ایک نئے جہان کی طرف بلا خوف اور بلا روک ٹوک بڑھ رہا ہو اور روح کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں اس کے جسم کے پاس کیا کچھ ہو رہا ہے کون رو رہا ہے کون ساتھ کھڑا ہے اور کون بے خبر ہے مگر اس علم میں دکھ نہیں ہوتا بلکہ ایک نرمی اور ایک گہری سمجھ بوجھ شامل ہوتی ہے پھر روح کو ایسے فرشتے گھیر لیتے ہیں جو اپنے نور سے راستہ روشن کر دیتے ہیں اور روح سمجھ جاتی ہے کہ اب سفر کی اصل ابتدا ہے اور جو کچھ دنیا میں باقی رہ گیا ہے وہ سب اس کے اختیار سے باہر ہے مگر اس کے باوجود روح اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو دیکھ سکتی ہے ان کے حالات سے واقف رہ سکتی ہے ان کی کیفیت ان کے دل کی رنجش یا محبت سب اسے معلوم ہوتا ہے مگر اسے دنیا میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جاتی روح صرف دیکھتی ہے سنتی ہے سمجھتی ہے اور آگے بڑھ جاتی ہے اب روح کو ایسے پردے کے پاس لایا جاتا ہے جہاں دنیا کا تعلق کم ہونے لگتا ہے اور برزخ کا پردہ اٹھنے لگتا ہے اور روح پہلی بار اس عالم کے خاص نظام کو محسوس کرتی ہے برزخ ایک ایسا جہان ہے جہاں ہر روح کو اس کی حالت کے مطابق ٹھہرایا جاتا ہے یہاں نہ دنیا کے قوانین چلتے ہیں نہ آخرت کے مکمل قوانین بلکہ دونوں کا گہرا امتزاج ہوتا ہے یہیں سے روح کو معلوم ہوتا ہے کہ وقت کا احساس دنیا جیسا نہیں رہتا کبھی لگتا ہے کہ ایک لمحہ کئی برسوں کے برابر ہے اور کبھی محسوس ہوتا ہے کہ برس ایک لمحے میں گزر رہے ہیں کیونکہ برزخ کا وقت اللہ کے حکم کے مطابق چلتا ہے انسان کے حساب سے نہیں برزخ میں روح اپنے اعمال کی کیفیت کے مطابق ماحول کا سامنا کرتی ہے نیک روح جب وہاں پہنچتی ہے تو اسے ایسی وسعت اور روشنی ملتی ہے جیسے کسی باغ کے دروازے کھل گئے ہوں وہاں نہ اندھیرا ہوتا ہے نہ تنگی وہ جگہ روح کے لیے ایک پناہ گاہ کی طرح ہوتی ہے اور اسے یہ اطمینان ہوتا ہے کہ اللہ نے اسے خیر کے راستوں میں رکھا تھا روح وہاں سکون اور نور کے ساتھ انتظار کرتی ہے اور اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کا اصل سفر ابھی باقی ہے مگر یہ مقام بھی رحمت سے بھرا ہوا ہے لیکن برزخ میں وہ روحیں بھی آتی ہیں جن کی زندگی دنیا میں غفلت اور برائی میں گزری ہوتی ہے ایسی روحیں جب وہاں پہنچتی ہیں تو انہیں تنگی اجنبیت اور اندھیرا محسوس ہوتا ہے جیسے بند کمرے میں ہوا رک گئی ہو وہاں کا ماحول ایک تنبیہ ایک یاد دہانی اور ایک حقیقت کی شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے ایسا نہیں کہ قیامت کا سخت عذاب شروع ہو جاتا ہے مگر ایک ایسا خوف ایک ایسا بوجھ اور ایک ایسی ندامت دل پر بیٹھ جاتی ہے کہ روح چاہ کر بھی انکار نہیں کر سکتی اور اس پر واضح ہو جاتا ہے کہ دنیا کی بے فکری اب ختم ہو چکی ہے برزخ میں روح کے سامنے کبھی کبھی اس کے اعمال ظاہر ہو جاتے ہیں نیکیاں خوشبو کی طرح پھیلتی ہیں اور برائیاں بوجھ کی طرح چمٹتی ہیں اور روح ان سب کو پہچان لیتی ہے مگر اب واپسی ممکن نہیں ہوتی اور وہ جان لیتی ہے کہ حساب کا انتظار ہی باقی ہے برزخ میں روح اپنے گھر والوں کو بھی دیکھ سکتی ہے ان کی پریشانی ان کی خوشی ان کی دعا ان کے گناہ سب کچھ محسوس کر سکتی ہے اور اگر گھر والے اس کے لیے دعا کرتے ہیں صدقہ دیتے ہیں یا قرآن پڑھ کر اس کا ثواب بھیجتے ہیں تو وہ روح اسے روشنی یا راحت کی صورت میں محسوس کرتی ہے اور اگر گھر والے دنیا میں گناہوں میں پڑے رہیں تو روح کو دکھ پہنچتا ہے مگر وہ کچھ کر نہیں سکتی کیونکہ دنیا کا دروازہ اس پر بند ہو چکا ہوتا ہے اور صرف دیکھنے سمجھنے اور انتظار کرنے کی اجازت ہوتی ہے اور پھر روح ایک ایسے مقام پر ٹھہر جاتی ہے جہاں اسے معلوم ہوتا ہے کہ اب اسے اسی عالم میں رہنا ہے یہاں تک کہ صور پھونکا جائے گا اور پوری دنیا ختم ہو جائے گی اور جب قیامت کا وقت آئے گا تب روح کو ایک بار پھر اٹھایا جائے گا اور پھر اس کے سفر کا اگلا مرحلہ شروع ہوگا اور اس وقت تک برزخ اس کا ٹھکانہ ہے اس کی پناہ ہے اس کا انتظار ہے۔۔۔۔ ۔۔ُ۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔ #f #foryou #روح #تصوف #islamic_video
جب روح جسم سے جدا ہو کر پہلی بار عالم بالا کا رخ کرتی ہے تو اس پر ایک غیر معمولی خاموشی چھا جاتی ہے ایسی خاموشی جس میں نہ خوف ہوتا ہے نہ دنیا کی کوئی کشمکش رہ جاتی ہے بلکہ ایک ایسا احساس اٹھتا ہے جیسے صدیوں کی تھکن اتر رہی ہو اور دل ایک نئے جہان کی طرف بلا خوف اور بلا روک ٹوک بڑھ رہا ہو اور روح کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں اس کے جسم کے پاس کیا کچھ ہو رہا ہے کون رو رہا ہے کون ساتھ کھڑا ہے اور کون بے خبر ہے مگر اس علم میں دکھ نہیں ہوتا بلکہ ایک نرمی اور ایک گہری سمجھ بوجھ شامل ہوتی ہے پھر روح کو ایسے فرشتے گھیر لیتے ہیں جو اپنے نور سے راستہ روشن کر دیتے ہیں اور روح سمجھ جاتی ہے کہ اب سفر کی اصل ابتدا ہے اور جو کچھ دنیا میں باقی رہ گیا ہے وہ سب اس کے اختیار سے باہر ہے مگر اس کے باوجود روح اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو دیکھ سکتی ہے ان کے حالات سے واقف رہ سکتی ہے ان کی کیفیت ان کے دل کی رنجش یا محبت سب اسے معلوم ہوتا ہے مگر اسے دنیا میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جاتی روح صرف دیکھتی ہے سنتی ہے سمجھتی ہے اور آگے بڑھ جاتی ہے اب روح کو ایسے پردے کے پاس لایا جاتا ہے جہاں دنیا کا تعلق کم ہونے لگتا ہے اور برزخ کا پردہ اٹھنے لگتا ہے اور روح پہلی بار اس عالم کے خاص نظام کو محسوس کرتی ہے برزخ ایک ایسا جہان ہے جہاں ہر روح کو اس کی حالت کے مطابق ٹھہرایا جاتا ہے یہاں نہ دنیا کے قوانین چلتے ہیں نہ آخرت کے مکمل قوانین بلکہ دونوں کا گہرا امتزاج ہوتا ہے یہیں سے روح کو معلوم ہوتا ہے کہ وقت کا احساس دنیا جیسا نہیں رہتا کبھی لگتا ہے کہ ایک لمحہ کئی برسوں کے برابر ہے اور کبھی محسوس ہوتا ہے کہ برس ایک لمحے میں گزر رہے ہیں کیونکہ برزخ کا وقت اللہ کے حکم کے مطابق چلتا ہے انسان کے حساب سے نہیں برزخ میں روح اپنے اعمال کی کیفیت کے مطابق ماحول کا سامنا کرتی ہے نیک روح جب وہاں پہنچتی ہے تو اسے ایسی وسعت اور روشنی ملتی ہے جیسے کسی باغ کے دروازے کھل گئے ہوں وہاں نہ اندھیرا ہوتا ہے نہ تنگی وہ جگہ روح کے لیے ایک پناہ گاہ کی طرح ہوتی ہے اور اسے یہ اطمینان ہوتا ہے کہ اللہ نے اسے خیر کے راستوں میں رکھا تھا روح وہاں سکون اور نور کے ساتھ انتظار کرتی ہے اور اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کا اصل سفر ابھی باقی ہے مگر یہ مقام بھی رحمت سے بھرا ہوا ہے لیکن برزخ میں وہ روحیں بھی آتی ہیں جن کی زندگی دنیا میں غفلت اور برائی میں گزری ہوتی ہے ایسی روحیں جب وہاں پہنچتی ہیں تو انہیں تنگی اجنبیت اور اندھیرا محسوس ہوتا ہے جیسے بند کمرے میں ہوا رک گئی ہو وہاں کا ماحول ایک تنبیہ ایک یاد دہانی اور ایک حقیقت کی شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے ایسا نہیں کہ قیامت کا سخت عذاب شروع ہو جاتا ہے مگر ایک ایسا خوف ایک ایسا بوجھ اور ایک ایسی ندامت دل پر بیٹھ جاتی ہے کہ روح چاہ کر بھی انکار نہیں کر سکتی اور اس پر واضح ہو جاتا ہے کہ دنیا کی بے فکری اب ختم ہو چکی ہے برزخ میں روح کے سامنے کبھی کبھی اس کے اعمال ظاہر ہو جاتے ہیں نیکیاں خوشبو کی طرح پھیلتی ہیں اور برائیاں بوجھ کی طرح چمٹتی ہیں اور روح ان سب کو پہچان لیتی ہے مگر اب واپسی ممکن نہیں ہوتی اور وہ جان لیتی ہے کہ حساب کا انتظار ہی باقی ہے برزخ میں روح اپنے گھر والوں کو بھی دیکھ سکتی ہے ان کی پریشانی ان کی خوشی ان کی دعا ان کے گناہ سب کچھ محسوس کر سکتی ہے اور اگر گھر والے اس کے لیے دعا کرتے ہیں صدقہ دیتے ہیں یا قرآن پڑھ کر اس کا ثواب بھیجتے ہیں تو وہ روح اسے روشنی یا راحت کی صورت میں محسوس کرتی ہے اور اگر گھر والے دنیا میں گناہوں میں پڑے رہیں تو روح کو دکھ پہنچتا ہے مگر وہ کچھ کر نہیں سکتی کیونکہ دنیا کا دروازہ اس پر بند ہو چکا ہوتا ہے اور صرف دیکھنے سمجھنے اور انتظار کرنے کی اجازت ہوتی ہے اور پھر روح ایک ایسے مقام پر ٹھہر جاتی ہے جہاں اسے معلوم ہوتا ہے کہ اب اسے اسی عالم میں رہنا ہے یہاں تک کہ صور پھونکا جائے گا اور پوری دنیا ختم ہو جائے گی اور جب قیامت کا وقت آئے گا تب روح کو ایک بار پھر اٹھایا جائے گا اور پھر اس کے سفر کا اگلا مرحلہ شروع ہوگا اور اس وقت تک برزخ اس کا ٹھکانہ ہے اس کی پناہ ہے اس کا انتظار ہے۔۔۔۔ ۔۔ُ۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔ #f #foryou #روح #تصوف #islamic_video

About