@yhgt.m: استغفرُ الله أجر إلي ولك #اللهم_صلي_على_نبينا_محمد #استغفرالله #قران

لا اله الا الله
لا اله الا الله
Open In TikTok:
Region: DE
Saturday 27 December 2025 17:40:17 GMT
287
51
6
6

Music

Download

Comments

rr.oaa5
َ :
لا اله الا الله
2025-12-27 18:04:48
4
schr.fd1
َ :
استغفر الله
2025-12-28 04:18:08
4
j425720
J :
اللهم اغفر للمسلمين والمسلمات❣️❣️
2025-12-28 13:56:14
1
j.j0.5
💐. :
سبحان الله
2025-12-28 14:05:58
1
ynf.51
咆哮 :
استغفر الله
2026-01-05 17:50:06
1
To see more videos from user @yhgt.m, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پشاور میں ایک غریب اور بے بس ماں اپنی حاملہ بیٹی کو قتل کرنے سے پہلے دربدر گھومتی رہی کہ شاید کسی طرح لڑکی کا اسقاطِ حمل ہو جائے اور ہماری عزت بچ جائے۔ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے کبھی ایک ہسپتال تو کبھی دوسرے ہسپتال، لیکن کسی نے بھی اس بے بس ماں کی فریاد نہیں سنی! پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں غیر قانونی اور ناجائز کام ہوتے ہیں، مگر کاش کوئی اس لڑکی کا بھی مفت میں اسقاطِ حمل کر دیتا تو آج ایک ماں کو اپنے ہاتھوں سے اپنی بیٹی کا قتل نہ کرنا پڑتا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس تمام ذلت میں، جو اس رات ایک ماں اور اس کی حاملہ بیٹی پر گزر رہی تھی، وہ درندہ صفت انسان غائب تھا جس نے چند سیکنڈ کی ہوس کے لیے ایک لڑکی کو حاملہ کر دیا تھا۔کاش وہ درندہ صفت شخص اس لڑکی کو حاملہ نہ کرتا۔ کاش اس مشکل وقت میں وہ شخص لڑکی کے ساتھ ہر مشکل میں کھڑا ہوتا۔ لڑکی کے لیے حمل کے آغاز میں ضروری ادویات کا انتظام کرتا، اسے پیسے دیتا، بعد میں اس کا اسقاطِ حمل کرواتا اور آخر میں اس سے نکاح کر لیتا، تو شاید ایک معصوم لڑکی کی زندگی بچ جاتی۔ اس رات لڑکی نے کیا کچھ نہیں سوچا ہوگا: میں نے کس ظالم کی خواہش پوری کی؟ کس ظالم سے تعلق بنایا؟ کاش میں یہ غلطی نہ کرتی۔ کاش کوئی فرشتہ آ جائے اور مجھے اس مشکل سے نکال دے۔ ایک بے بس اور بہادر ماں نے اپنی بیٹی کی زندگی اور خاندان کی عزت بچانے کی پوری کوشش کی، مگر شاید لڑکی کو ہر صورت اس جرم اور گناہ کا کفارہ ادا کرنا تھا۔جب ماں اور اس کی حاملہ بیٹی ہر طرف سے مایوس ہو کر نکلیں تو روتے ہوئے ایک دوسرے سے کہنے لگیں کہ اب اس شرم کو چھپانے کا ایک ہی حل ہے، اور وہ ہے موت۔کتنا مشکل ہے کہ ایک ماں اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی بیٹی کی جان لے رہی ہو۔ مجھے امید ہے کہ لڑکی کے قتل اور اس کے ساتھ ظلم کرنے والے ہر شخص کو سزا ملے گی۔ اگر اس دنیا میں نہیں، تو قیامت کے دن ضرور ملے گی۔
پشاور میں ایک غریب اور بے بس ماں اپنی حاملہ بیٹی کو قتل کرنے سے پہلے دربدر گھومتی رہی کہ شاید کسی طرح لڑکی کا اسقاطِ حمل ہو جائے اور ہماری عزت بچ جائے۔ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے کبھی ایک ہسپتال تو کبھی دوسرے ہسپتال، لیکن کسی نے بھی اس بے بس ماں کی فریاد نہیں سنی! پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں غیر قانونی اور ناجائز کام ہوتے ہیں، مگر کاش کوئی اس لڑکی کا بھی مفت میں اسقاطِ حمل کر دیتا تو آج ایک ماں کو اپنے ہاتھوں سے اپنی بیٹی کا قتل نہ کرنا پڑتا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس تمام ذلت میں، جو اس رات ایک ماں اور اس کی حاملہ بیٹی پر گزر رہی تھی، وہ درندہ صفت انسان غائب تھا جس نے چند سیکنڈ کی ہوس کے لیے ایک لڑکی کو حاملہ کر دیا تھا۔کاش وہ درندہ صفت شخص اس لڑکی کو حاملہ نہ کرتا۔ کاش اس مشکل وقت میں وہ شخص لڑکی کے ساتھ ہر مشکل میں کھڑا ہوتا۔ لڑکی کے لیے حمل کے آغاز میں ضروری ادویات کا انتظام کرتا، اسے پیسے دیتا، بعد میں اس کا اسقاطِ حمل کرواتا اور آخر میں اس سے نکاح کر لیتا، تو شاید ایک معصوم لڑکی کی زندگی بچ جاتی۔ اس رات لڑکی نے کیا کچھ نہیں سوچا ہوگا: میں نے کس ظالم کی خواہش پوری کی؟ کس ظالم سے تعلق بنایا؟ کاش میں یہ غلطی نہ کرتی۔ کاش کوئی فرشتہ آ جائے اور مجھے اس مشکل سے نکال دے۔ ایک بے بس اور بہادر ماں نے اپنی بیٹی کی زندگی اور خاندان کی عزت بچانے کی پوری کوشش کی، مگر شاید لڑکی کو ہر صورت اس جرم اور گناہ کا کفارہ ادا کرنا تھا۔جب ماں اور اس کی حاملہ بیٹی ہر طرف سے مایوس ہو کر نکلیں تو روتے ہوئے ایک دوسرے سے کہنے لگیں کہ اب اس شرم کو چھپانے کا ایک ہی حل ہے، اور وہ ہے موت۔کتنا مشکل ہے کہ ایک ماں اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی بیٹی کی جان لے رہی ہو۔ مجھے امید ہے کہ لڑکی کے قتل اور اس کے ساتھ ظلم کرنے والے ہر شخص کو سزا ملے گی۔ اگر اس دنیا میں نہیں، تو قیامت کے دن ضرور ملے گی۔

About