Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@forspeed77: #bmw #g30 #yerevan #night #rek
Forspeed7
Open In TikTok:
Region: AM
Sunday 28 December 2025 18:00:46 GMT
5190
82
0
41
Music
Download
No Watermark .mp4 (
1.4MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
1.4MB
)
Watermark .mp4 (
0MB
)
Music .mp3
Comments
There are no more comments for this video.
To see more videos from user @forspeed77, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
*گورنر بلوچستان// UNDP کلائمیٹ سیکورٹی پروگرام* *گوادر سے لیکر ژوب تک ہم موسمیاتی بحرانوں کی فرنٹ لائن پر ہیں۔ صرف 2022 میں، ژوب ڈویژن میں جنگلات میں لگنے والی آگ نے تقریباً 40 فیصد درختوں کو متاثر کیا جب کہ بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے صوبے بھر میں 1.3 ملین سے زائد افراد کو بے گھر کیا۔ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے اور اسکا حل بھی عالمی ہونا چاہیے کیونکہ سیارہ زمین ہی پوری کائنات میں تمام انسانوں کا واحد مشترکہ گھر ہے۔ کلائمیٹ سیکورٹی اور پالیسی ڈائیلاگ کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں ہے۔ آج کے مکالمہ سے ہمارے پالیسی میکرز کو فکری رہنمائی ملے گی۔ قدرتی آفات سے متاثر ہونے والی کمیونٹیز کی امداد کے حوالے سے یو این ڈی پی کا کردار لائق تحسین ہے۔ ہمارا ڈونر جرمن حکومت ہے لہٰذا جرمنی اپنے فلسفیانہ ورثے کے باعث دونوں آفاقی نظریات بہتر سمجھنے اور عملی حل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں* کوئٹہ15جون: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ کلائمیٹ چینج ایک عالمی مسئلہ ہے لہٰذا اس کا حل بھی عالمی ہونا چاہیے کیونکہ سیارہ زمین ہی پوری کائنات میں تمام انسانوں کا واحد مشترکہ گھر ہے۔ کلائمیٹ سیکورٹی اور پالیسی ڈائیلاگ کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ انہیں تمام متعلقہ محکموں، مقامی حکام، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ آج کے مکالمہ سے ہمارے پالیسی میکرز کو مدد اور رہنمائی ملے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ سرینا ہوٹل میں یو این ڈی پی کے زیر اہتمام بلوچستان میں کلائمیٹ سیکورٹی پروگرام کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ریزیڈنٹ ریپریزٹیٹو آف یو این ڈی پی پاکستان (Dr. Samuel Risk) ڈپٹی ریپریزٹیٹو (Ms. Van Nyegum ), اعزازی قونصل جنرل میر مراد بلوچ، صوبائی وزیر میرعاصم کرد گیلو، سردار عبدالرحمن کھتران، راحیلہ حمید خان درانی، رکن صوبائی اسمبلی کلثوم نیاز بلوچ، ہو این ڈی پی کے صوبائی ہیڈ ذوالفقار درانی، وائس چانسلر یونیورسٹی آف بلوچستان ڈاکٹر ظہور احمد بازئی، بیوٹمز یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ، وائس چانسلر وویمن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق، سابق سینیٹر روشن خورشید ںروچہ اور ایڈوکیٹ زرغونہ بڑیچ سمیت متعدد ماہرین اور مہمانان گرامی موجود تھے۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ک بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ گوادر سے لیکر ژوب تک ہم موسمیاتی بحرانوں کی فرنٹ لائن پر ہیں۔ ماحولیاتی تناؤ، گورننس اور سماجی استحکام کیلئے خطرات کو بڑھا رہا ہے۔ صرف 2022 میں، ژوب ڈویژن میں جنگلات میں لگنے والی آگ نے تقریباً 40 فیصد درختوں کو متاثر کیا جب کہ بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے صوبے بھر میں 1.3 ملین سے زائد افراد کو بے گھر کیا اور ملک بھر میں 9 ملین سے زائد افراد کو غربت کی طرف دھکیلنے میں اہم کردار ادا کیا، جن میں سے 7 فیصد سے زیادہ بلوچستان میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ کلائمیٹ چینج سے متعلق قدرتی آفات سے متاثر ہونے والی کمیونٹیز کے ساتھ UNDP کا کردار لائق تحسین ہے بشمول ہاؤسنگ کی تعمیر نو اور بحالی کی امداد کے ساتھ ساتھ اس کے ذریعہ معاش اور عوامی اداروں کے ساتھ تعمیری مکالمے کے ذریعے آب و ہوا کے خطرے سے دوچار کمیونٹیز کی مدد و رہنمائی کی ہے۔ ایسی کوششوں کو دیکھنا حوصلہ افزا ہے جو شہریوں کو مکالمے، ثالثی اور شکایات کے ازالے کے ذریعے اپنے خدشات کو اٹھانے میں مدد کرتے ہیں جبکہ حکومتی اداروں کو ان طریقوں سے جواب دینے میں مدد دیتے ہیں جو اعتماد کو مضبوط کرتے ہیں، رابطہ کاری کو بہتر بناتے ہیں اور بڑے پیمانے پر عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے بلوچستان اپنے منفرد جغرافیہ پہاڑوں، صحراؤں، معدنی وسائل اور ایک طویل ساحلی پٹی پر مشتمل ہے۔ یہاں کے لوگ نسلوں سے مشکل ماحولیاتی حالات کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ ریزیلنس کو ایک نظریہ کے طور پر نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کے ایک حصے کے طور پر سمجھتے ہیں۔ اسلئے بلوچستان کو ایسی شراکت داری کی ضرورت ہے جو عملی اور ہمارے معروضی حالات پر مبنی ہوں۔ بحیثیت چانسلر آف پبلک سیکٹر یونیورسٹیز میں ہر وائس چانسلر اور اپنی گورنر ہاؤس ٹیم کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ وہ اپنے کام کو عملی طور پر مرتب کریں۔ بلوچستان میں بے پناہ صلاحیتیں ہیں۔ ہماری ساحلی پٹی، دریا، جنگلات، قدرتی وسائل، نوجوان آبادی، پبلک سیکٹر کی یونیورسٹیاں اور سب سے بڑھ کر ہمارے لوگوں کی ریزیلنس یہ سب بڑی طاقتیں ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ماحولیاتی دباؤ زیادہ پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ پانی کی کمی، خشک سالی، جنگلات کی کٹائی، زمین کی کٹائی اور ساحلی کشیدگی صوبے بھر میں زندگی اور معاش دونوں کو متاثر کر رہی ہے۔ گوادر اور مکران کی ساحلی پٹی
1p tưởng niệm làn da của tôi 😭😭😭😭
#triptidimri #movie #actress #bollywood #film
kipnziiii♥️♥️♥️
#عباراتكم_الفخمه📿📌 #اقتباسات #محتوى #استوريات_انستا_واتساب
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy