@trangreview1993: Hộp 50 viên giặt xả đậm đặc 4in1 wash therapy hương Downy thuỵ sỹ hàng nội địa hàn quốc #washtherapy4in1 #washtherapy #viengiathanquoc🇰🇷 #trangreview1993 #xuhuong

trangreview1993
trangreview1993
Open In TikTok:
Region: VN
Tuesday 30 December 2025 07:30:30 GMT
271
18
24
5

Music

Download

Comments

linhmecoca
Linh Tây Ninh :
Mê nha
2025-12-30 08:42:05
1
trangmai1909
Trang Mai :
Chốt đơn e nha
2025-12-30 11:56:42
1
lamlinh625
trang99 :
sử dụng tiện lợi thơm lắm nha
2025-12-30 13:03:56
1
myriviu95
My RìViu :
Thơm nha
2025-12-30 07:48:24
1
phatphapnhiemmau335
Dung📿 :
dùng OK lắm
2025-12-30 07:45:50
1
sisoshop_kid
SiSoShop (Order đồ Quảng Châu) :
Thơm lắm ý
2025-12-30 11:42:03
1
nhoanh98
🐯Nhỏ Ánh 98 :
Thơm lắm
2026-01-01 02:39:04
1
majdang3
MajDang3 :
thơm lắm luôn í
2025-12-30 08:26:37
1
entirv95
EnTi RìViu :
Ưng nha
2025-12-30 08:41:16
1
shopmekhoai93
shop mẹ khoai93 :
Đúng là đắt cắt ra miếng nha
2025-12-30 07:43:08
1
trongbabi4
Trọng babi :
Viên giặt xài tiện nha
2025-12-30 07:43:40
1
follow.cheo.nha7
NaBi shop87 :
Chốt nha
2025-12-30 11:02:48
1
To see more videos from user @trangreview1993, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

مہمند ایجنسی کے پہاڑوں میں لپا ہوا ایک چھوٹا سا گاؤں۔ بیزی گڈا خیل وہاں اشرف اور اجازت کے گھر دیوار سے دیوار ملے ہوئے تھے۔ بچپن ایک ساتھ، روٹی سانجھی، غم سانجھے۔ پھر ایک دن وراثت کا مسئلہ کھڑا ہوا۔ گھر کے ساتھ 2 مرلے زمین کا ٹکڑا۔ کاغذ کوئی نہیں تھا، صرف بڑوں کی زبانی بات۔   اشرف بولا:
مہمند ایجنسی کے پہاڑوں میں لپا ہوا ایک چھوٹا سا گاؤں۔ بیزی گڈا خیل وہاں اشرف اور اجازت کے گھر دیوار سے دیوار ملے ہوئے تھے۔ بچپن ایک ساتھ، روٹی سانجھی، غم سانجھے۔ پھر ایک دن وراثت کا مسئلہ کھڑا ہوا۔ گھر کے ساتھ 2 مرلے زمین کا ٹکڑا۔ کاغذ کوئی نہیں تھا، صرف بڑوں کی زبانی بات۔ اشرف بولا: "یہ میرے دادا نے مجھے دی تھی" اجازت بولا: "نہیں، میرے باپ کی نشانی ہے یہ" بات سے بات بڑھی۔ ایک گالی، ایک دھکا۔ اشرف کے ہاتھ میں کلہاڑی آ گئی۔ غصے میں وار ہوا۔ اجازت کا 16 سالہ بھائی "گل خان" زمین پر گر گیا۔ مرتے ہوئے اس نے صرف اتنا کہا: "بھائی... مٹی... سے بڑی... کوئی چیز نہیں؟" بس... پہلا خون گر گیا۔ اور 18 سالہ آگ بھڑک اٹھی۔ اس کے بعد یہ 2 مرلے زمین "میدانِ جنگ" بن گئی۔ *اشرف کے گھر سے 12 جنازے اٹھے:* باپ، چچا، دو سگے بیٹے، تین بھتیجے، دو ماموں زاد، ایک بہنوئی، دو دور کے کزن۔ ہر جنازے کے بعد اشرف کی ماں پاگلوں کی طرح چیختی: "میرا بیٹا کھا گئی یہ مٹی!" *اجازت کے گھر سے بھی 12 جنازے اٹھے:* بھائی، والد، اکلوتا بیٹا "نوید"، دو بھانجے، چار کزن، ایک چچا زاد۔ اجازت کی بیوی نے 18 سال میں 6 بیٹوں کے جنازے خود کندھا دیے۔ آخر میں وہ بھی صدمے سے چل بسی۔ وہ 2 مرلے زمین؟ وہ 18 سال تک بنجر پڑی رہی۔ نہ فصل اگی، نہ گھر بنا۔ صرف کانٹے، پتھر اور رات کو کتوں کے رونے کی آواز۔ گاؤں والے کہتے: "اس مٹی کو لعنت لگ گئی ہے"۔ عید، شادی، جنازہ... ہر خوشی دشمنی کی نذر ہو گئی۔ بچے سکول نہیں گئے، بیٹیاں بیاہی نہیں گئیں۔ پورے دو خاندان قید ہو گئے۔ جب سپاہی چلے گئے - 2018 وقت گزرتا گیا۔ بندوقیں زنگ آلود ہو گئیں۔ ہاتھ کانپنے لگے۔ پہلے اشرف بوڑھا ہو کر دنیا سے چلا گیا۔ اپنے 12 جنازے دفنا کر۔ 2 سال بعد اجازت بھی دل کا دورہ پڑنے سے فوت ہو گیا۔ اپنے 12 جنازے دفنا کر۔ دونوں قبر میں چلے گئے۔ ساتھ لے گئے 2 مرلے کا جھگڑا۔ گاؤں والے کہنے لگے: "اب لڑے گا کون؟ دشمن تو مٹی میں چلا گیا"۔ پر دشمنی ختم نہیں ہوئی تھی۔ بیٹوں کے دلوں میں زندہ تھی۔ "باپ کا بدلہ" کا سبق بچوں کو پڑھا دیا گیا تھا۔ بیٹوں کی ہمت - صلح کا دن -2018 ایک دن اشرف کا بڑا بیٹا "فیاض" اور اجازت کا بڑا بیٹا "کامران" اسی 2 مرلے زمین پر آمنے سامنے کھڑے ہو گئے۔ دونوں کے ہاتھ میں بندوق تھی۔ دونوں کی آنکھیں سرخ تھیں۔ دونوں کے گھر یتیم، بیوہ، مقروض۔ زمان نے بندوق زمین پر پھینک دی۔ مٹھی بھر مٹی اٹھائی اور کامران کے پاؤں میں رکھ دی۔ رو کر بولا: "کامران، میرے باپ سے غلطی ہو گئی۔ غصے میں میرے چچا نے تیرے چچا کو مار دیا۔ میں باپ کی غلطی کی سزا پوری نسل کو نہیں دوں گا۔ مجھے معاف کر دو"۔ کامران کی بندوق بھی گر گئی۔ اس نے بھی مٹی اٹھا کر زمان کے سر پر ڈالی۔ ہچکیاں لے کر بولا: "زمان، میرے باپ نے بھی آگ بھڑکائی۔ ہم 18 سال سے اندھے تھے۔ آج آنکھیں کھل گئیں۔ میں بھی معاف کرتا ہوں"۔ دونوں دشمن کے بیٹے گلے لگ کر اس قدر روئے کہ 18 سال کا زخم بہہ گیا۔ وہ مٹی جو خون پیتی تھی، آج آنسو پی رہی تھی۔ جرگہ بیٹھا۔ پورے مہمند کے مشران آئے۔ علماء آئے۔ فیصلہ ایک ہی ہوا: "یہ زمین اب کسی انسان کی نہیں۔ یہ اللہ کی امانت ہے"۔ اس 2 مرلے ٹکڑے پر "مسجد صلح و ایمان" کی بنیاد رکھ دی گئی۔ اشرف کے پوتے نے پہلی اینٹ رکھی۔ اجازت کے نواسے نے دوسری۔ آج وہاں 5 وقت اذان ہوتی ہے۔ وہی مٹی جس پر 24 جنازے اٹھے، اب ہزاروں سجدے کرتی ہے۔ اشرف کا پوتا "آدم" اور اجازت کا نواسا "حمزہ" ایک صف میں کھڑے ہو کر نماز پڑھتے ہیں۔ کندھے سے کندھا ملا کر۔ مسجد کے دروازے پر سنگِ مرمر پر لکھوا دیا گیا: "یہاں 2 مرلے زمین پر 24 جانوں کی قیمت لگی تھ2018 میں دو بیٹوں نے فیصلہ کیا کہ اب صرف دعائیں بکیں گی، لاشیں نہیں"۔ *خاتمہ: قبروں کا سکون* آج اشرف اور اجازت کی قبریں ساتھ ہیں۔ گاؤں کے بچے دونوں قبروں پر پانی ڈالتے ہیں، پھول رکھتے ہیں۔ بوڑھی مائیں جو 24 جنازے دفنا چکی ہیں، اب مسجد کی دہلیز پر بیٹھ کر قرآن پڑھتی ہیں اور کہتی ہیں: "یا اللہ، ہمارے شوہر، ہمارے بیٹے تو واپس نہیں آئیں گے۔ پر تو ہمارے پوتوں کو بچا لے۔ دشمنی کی لعنت سے بچا لے۔ 2. *اشرف چلا گیا، اجازت چلا گیا، زمین یہیں رہ گئی۔* انسان خالی ہاتھ آیا، خالی ہاتھ گیا۔ 3. *دشمنی وراثت میں نہیں ملتی، ہمت سے ختم ہوتی ہے۔* زمان اور کامران نے ثابت کیا کہ بیٹا باپ کا بدلہ نہیں، باپ کی اصلاح ہوتا ہے۔ 4. *جہاں خون گرتا تھا، وہاں اب سجدے ہوتے ہیں۔* یہ اللہ کی رحمت ہے

About