@allamaiqqbal: معانی اور مطلب👇 غزل: وہ حرفِ راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں کتاب: بالِ جبریل ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا وہ خود فراخیِ افلاک میں ہے خوار و زبوں معانی: تقدیر کی خبر: قسمت کے حال کا علم ۔ فراخیِ افلاک: آسمان کی وسعت ۔ خوارو زبوں : بے وقعت ۔ مطلب: اس شعر میں اقبال اپنی ذات کے حوالے سے ان نجومیوں کی کارکردگی پر طنز کرتے ہیں جو ستاروں کے حساب سے لوگوں کی تقدیر اور ان کے احوال کے بارے میں انکشافات کا دعویٰ کر کے محض مادی مفادات حاصل کرتے ہیں ۔ اقبال کا کہنا ہے کہ ستارے تو خود آسمانوں کی پہنائیوں میں سرگرداں رہتے ہیں ۔ انہیں تو خود ہی اپنے وجود کے بارے میں کسی قسم کا علم نہیں تو پھر دوسروں کے مقدر کا انکشاف ان کے ذریعے کیسے ممکن ہے ۔ یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید کہ آ رہی ہے دمادم صدائے کُن فیکوں معانی: ناتمام: نامکمل ۔ دمادم: لگاتار ۔ صدائے کن فیکوں : پیدا ہو جا کی آواز ۔ قرآن میں ہے کہ اللہ تعالیٰ جس چیز کو پیدا کرنا چاہے تو کن فرما دیتا ہے اور وہ چیز پیدا ہو جاتی ہے ۔ مطلب: خدائے عزوجل نے ایک لفظ کن کے ذریعے کائنات کو تخلیق کیا ۔ آج تک کانوں میں یہی لفظ بار بار گونج رہا ہے ۔ اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ کائنات ابھی تک ناتمام ہے اور پایہ تکمیل کو نہیں پہنچی ۔ . . Allama Iqbal Urdu Poetry SHayari Status Sad Urdu Shayari Whatsapp .. #allamaiqqbal #allamaiqbal #allamaiqbalpoetry #allamaiqbalshayari #rekhtafoundation #rekhta #urdupoetry #urdulover #urduwriting #amazingpoetry #classicpoetry #poetrylove #urdulove #words #urduquote #urdudiaries #urduword #learnurdu #urduliterature #instaurdu #urduwriter #writer #englishquote #ُpakistan #couplet #words #urdu