@ainyrchh:

ainipanggilnya
ainipanggilnya
Open In TikTok:
Region: ID
Tuesday 30 December 2025 11:37:58 GMT
12845
564
6
81

Music

Download

Comments

ciaaa6030
EMANG NAMANYA CIAA :
cantik banget gilaa😍
2025-12-31 08:50:58
0
hindia772
hindia772 :
😳
2025-12-30 14:10:23
0
realrinrinduu
🇺🇲 :
first nie ka
2025-12-30 11:44:30
1
alam5146
alam :
🥺🥺🥺
2025-12-30 11:45:10
0
sc_urw4h
urwaa :
aduu cantiknyaaa😍💗💗
2025-12-30 12:24:54
0
To see more videos from user @ainyrchh, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos


"هَلَكَ فِيَّ رَجُلَانِ: مُحِبٌّ غَالٍ، وَ مُبْغِضٌ قَالٍ۔ "ترجمہ: میرے بارے میں دو قسم کے لوگ ہلاک ہوئے (گمراہ ہوئے): ایک وہ جو محبت میں حد سے بڑھ گئے (غلو کرنے والے)، اور دوسرے وہ جو بغض و عداوت میں حد سے گزر گئے (دشمنی کرنے والے), نہج البلاغہ حکمت 117 ۔ 1. ہلاکت سے کیا مراد ہے؟ یہاں "ہلاکت" سے مراد جسمانی موت نہیں، بلکہ روحانی اور ایمانی ہلاکت یعنی گمراہی ہے۔ کسی بھی شخصیت یا عقیدے کے معاملے میں حق کی سرحدوں کو پار کر جانا انسان کو صراطِ مستقیم سے بھٹکا دیتا ہے۔ 2. پہلی قسم: محبِ غالی (حد سے بڑھنے والا)"مُحِبٌّ غَالٍ" وہ شخص ہے جو حضرت علیؑ سے محبت کا دعویٰ تو کرتا ہے، لیکن اس محبت میں اس قدر اندھا ہو جاتا ہے کہ آپؑ کو ان کے اصل انسانی اور الٰہی مقام سے بڑھا کر (نعوذ باللہ) خدا یا خدا کا شریک بنا دیتا ہے یا ایسے اوصاف آپؑ سے منسوب کرتا ہے جس کی شریعت اجازت نہیں دیتی۔ ایسی غلو پر مبنی محبت انسان کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتی ہے۔ 3. دوسری قسم: مبغضِ قالٍ (دشمنی کرنے والا)"مُبْغِضٌ قَالٍ" وہ شخص ہے جو بغض، حسد اور عداوت میں اس قدر آگے نکل جاتا ہے کہ وہ حضرت علیؑ کے حقیقی فضائل، ان کے علم، تقویٰ، عدل اور رسول اللہؐ کی نظر میں ان کے بلند مقام کا بھی انکار کر دیتا ہے، اور آپؑ کی شان میں گستاخی کرتا ہے۔ یہ اندھی دشمنی بھی انسان کو ایمان کے نور سے محروم کر کے ہلاک کر دیتی ہے۔ 4. نجات کا راستہ: اعتدالاس قول کا اصل پیغام یہ ہے کہ نجات صرف اور صرف اعتدال (درمیانے راستے) میں ہے۔ حضرت علیؑ نے خود ایک اور خطبے میں فرمایا تھا کہ: "بہترین راستہ درمیانی راستہ ہے، جس تک پیچھے رہ جانے والے کو پہنچنا ہے اور آگے نکل جانے والے کو پلٹ کر آنا ہے"۔ یعنی آپؑ سے سچی محبت یہ ہے کہ آپؑ کو اللہ کا سچا بندہ، رسولؐ کا وصی اور مسلمانوں کا عادل پیشوا مانا جائے، نہ اس میں کمی کی جائے اور نہ بیشی۔

About