@azamsharfelden: ربنا يعوضنا بي الأحسن منك 🥹❤️😴@سودانيز تك توك مشاهير السودان @القوات المسلحه السودانيه 🇸🇩 @ربنا ينصر القوات المسلحة ♥🥀 @اقوى #هشتاقات علا التيك توك @جخو الشغل يا عالم @لايكات

azam sharf elden
azam sharf elden
Open In TikTok:
Region: SD
Wednesday 31 December 2025 12:43:58 GMT
93846
3700
99
1519

Music

Download

Comments

osmanmohammed574
kora.vibe⚽ :
ربنا يجبر بخاطرنا ❤️
2026-02-22 01:18:54
0
user6711428639557
ود النور الجامعي :
انحنا م قزاز عشان يجي. زول و يكسرنا😊
2026-01-29 08:26:30
0
an69066
An. ريان موسي الشغف :
🥰 فعلا
2026-02-20 20:59:41
0
alkhaldiaalaneeda
🦋🥀 :
اي والله 🥺
2026-02-19 09:57:54
0
sroo3210
sroo3210 :
وبس يعني ❤️
2026-02-11 12:44:46
0
alone.myself6
إسلوب حياة 😎🫡 :
افتح التنزيل الله يرضى عليك ارفع التعليق 🙂
2026-01-21 20:30:50
0
fatimaadam672
Døōğà🫶🏻💕@ :
عليك الله افتح التنزيل🥰🥰🥰
2026-01-19 10:12:32
0
brown_249_
𝐵𝑟𝑜𝑤𝑛¦١٤٤٨ه‍ٓ 🇸🇩. :
ممڪن اسرق المنشور 🙂
2026-01-22 13:46:24
0
habashi165
𝒉̸𝒂̸𝒃̸𝒂̸𝒔̸𝒉̸𝒊̸🖤😪 :
ربناا وكت يرضيك بيرضك باحسنن من الفاتت بكتير اشان كدا خلي عشمك في ربناا كبيره❤
2026-01-07 12:11:46
0
em12727
Batow🫰😽🖇 :
فعلا والعوض بكون اجمل ❤😍
2026-01-02 21:53:02
0
simyiaabdalgadeir
سمسم القضارف :
جد والله
2025-12-31 16:03:35
0
visa0131
Youssef. C and 🤍🫆 :
اي والله 🥰❤️
2026-01-01 07:06:22
0
habshi048
نـــآدر/𝐻𝑎𝑏𝑠ℎ𝑖 :
ويعني شنو لو خذلتونا..!؟ وفيها شنو لوكسرتونا..؟ " بامر ربنا يرضينا ويجبر بخاطرنا ويدينا ناس احسن منكم بكتيييير والله " 😴🖤
2025-12-31 14:07:39
0
wdalomda25
🔥🧃ود'العمدة'ه " WD' alamda :
تتبروز 📍
2026-01-02 19:59:18
0
user2121782388883
غيومي غطت عيوني :
اكييييييد والله
2026-01-03 10:59:42
0
pode989
P̶O̶D̶E̶.🫂🥷🏽✈️ :
♥♥♥ول
2025-12-31 12:48:11
0
em12727
Batow🫰😽🖇 :
فعلا والعوض بكون اجمل ❤😍
2026-01-02 21:53:02
0
.81882989
𝐴ℎ𝑚𝑒𝑑 818👑❤ :
تاني تعليقق😹🤎
2025-12-31 12:48:58
0
user2347691586160
فالفيردي :
عزام يا مدرسة ✌️✌️
2025-12-31 13:09:51
0
altayebmahmoud4
AlTayeb Mahmoud :
افتح التنزيل لو سمحت🥺
2026-03-11 02:13:44
0
user2163607363188
(سـمـعـه الـــزيــدابـي) 💛 :
💪💪💪
2026-02-01 12:30:33
0
bashar.drdyb
Bashar Drdyb :
❤❤❤❤
2026-01-26 03:31:19
0
ahmed.alhadi68
أحــــمـــد👑𝕬𝕳𝕸𝕰𝕯🫠 :
💔
2026-01-25 19:41:44
0
user8019656081524
مصطفي ودباكر :
❤️❤️❤️
2026-01-26 18:49:16
0
To see more videos from user @azamsharfelden, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

تازہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق جس وقت انہیں آ۔گ لگائی گئی اس وقت وہ 7 ہفتوں کی حاملہ تھی۔ وہ سوشل میڈیا پر اپنی زندگی کے چھوٹے چھوٹے لمحے لوگوں کے ساتھ شیئر کرتی تھیں۔ انسٹاگرام پر تقریباً ایک لاکھ 46 ہزار لوگ انہیں فالو کرتے تھے۔ خوبصورتی، روزمرہ زندگی، ریلز اور لائف سٹائل سے متعلق ویڈیوز ان کی شناخت بن چکی تھیں۔ لیکن 3 جولائی کی رات ان کی زندگی اچانک ایک ایسے واقعے نے بدل دی جس نے تقریباً دو ماہ بعد ان کی جان لے لی۔ 28 سالہ منجیت کور انڈین پنجاب کے علاقے کھڑڑ سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کو ان کی والدہ کانتا دیوی کی شکایت کے مطابق چند جاننے والوں نے چندی گڑھ کے سیکٹر 34 میں ایک شراب کی دکان کے قریب بلایا۔ شکایت کے مطابق وہاں سے انہیں مبینہ طور پر زبردستی ایک گاڑی میں بٹھایا گیا اور مورندا کے قریب ایک جنگل میں لے جایا گیا۔ وہاں مبینہ طور پر انہیں تشد۔د کا نشانہ بنایا گیا جبکہ بعد میں انہیں ایک درخت سے باندھا گیا اور آ۔۔گ لگا دی گئی۔ یہ الزام منجیت کی والدہ کی جانب سے دی گئی شکایت کا حصہ ہے اور عدالت میں ابھی ثابت نہیں ہوا۔ پولیس نے اسی شکایت کی بنیاد پر تحقیقات شروع کی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایک واقف کار موقع پر پہنچا تو منجیت آ۔گ کی لپیٹ میں تھیں۔ اس شخص نے کمبل کی مدد سے آ۔گ بجھائی اور انہیں مورندا کے ایک ہسپتال منتقل کیا۔ شد۔ید جھلسنے کے باعث بعد میں انہیں موہالی کے ایک نجی ہسپتال منتقل کیا گیا اور 9 جولائی کو چندی گڑھ پہنچایا گیا۔ وہ کئی ہفتوں تک انتہائی تشو۔یش ناک حالت میں رہیں۔ 5 اگست کو انہیں کچھ دیر کے لیے ہوش آیا۔ اہل خانہ کے مطابق اس دوران انہوں نے مبینہ طور پر واقعے کے بارے میں انہیں بتایا بھی تاہم ان کا باضابطہ پولیس بیان ریکارڈ نہ ہو سکا۔ 26 اگست کو تقریباً 54 دن تک زندگی اور مو۔ت کی جنگ لڑنے کے بعد منجیت کور دم توڑ گئیں۔ منجیت کی والدہ نے اپنی شکایت میں شبھی اور پنڈا نامی دو افراد کو نامزد کیا ہے۔ پولیس نے ان کے خلاف اغوا اور ق ۔تل کا مقدمہ درج کیا ہے اور ان کی تلاش جاری ہے۔ پولیس کے مطابق ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ منجیت کور کو مورندا کیوں لے جایا گیا، ان پر حملہ کیوں کیا گیا اور کیا شبھی اور پنڈا کے علاوہ بھی کوئی شخص اس منصوبے میں شامل تھا یا نہیں؟ پولیس چندی گڑھ سے مورندا تک کے راستے کی CCTV فوٹیج، دیگر شواہد اور منجیت کے جاننے والوں سے معلومات اکٹھی کر رہی ہے۔ تازہ ترین رپورٹس میں منجیت کور کے پوسٹ مارٹم سے متعلق ایک اہم بات سامنے آئی ہے۔ پولیس کے مطابق وہ موت کے وقت تقریباً سات ہفتے کی حاملہ تھیں۔ منجیت کے خاندان کا الزام ہے کہ جب وہ 5 اگست کو ہوش میں آئیں اور بیان دینے کی پوزیشن میں تھیں تو پولیس کو اطلاع دی گئی لیکن ان کا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق ہسپتال پولیس پوسٹ نے بھی مبینہ طور پر کھڑڑ پولیس کو اطلاع دی تھی کہ منجیت بیان دینے کے قابل ہیں۔ دوسری جانب کھڑڑ کے ڈی ایس پی ایشان سنگلا نے پولیس پر غفلت کے الزام کو مسترد کیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ چونکہ واقعے کا مقام چندی گڑھ پولیس کے دائرۂ اختیار میں تھا اس لیے کارروائی چندی گڑھ پولیس کو کرنا تھی اور کھڑڑ پولیس نے خاندان کو متعلقہ تھانے تک پہنچانے اور مقدمہ درج کرانے میں تعاون کیا۔ یوں منجیت کی موت کے بعد ایک اہم ثبوت ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا ہے۔۔ اگر ان کا بیان بروقت ریکارڈ ہو جاتا تو ممکن ہے پولیس کو واقعے، ملزمان، گاڑی، مقام اور حملے کے محرک کے بارے میں براہ راست معلومات مل جاتیں۔  منجیت کور ایک سوشل میڈیا کریئیٹر تھیں جن کے انسٹاگرام پر تقریباً 1.46 لاکھ فالوورز تھے جبکہ یوٹیوب پر ان کے تقریباً چار ہزار سبسکرائبرز تھے۔ وہ کاسمیٹک مصنوعات کی تشہیر، لائف سٹائل مواد، ریلز اور روزمرہ زندگی سے متعلق ویڈیوز بناتی تھیں۔ وہ طلاق یافتہ تھیں اور سات سالہ بیٹے کی ماں تھیں۔ پولیس کے مطابق ان کا بیٹا سابق شوہر کے ساتھ رہتا تھا۔ تدوین ادیب یوسفزئی  بحوالہ: انڈین میڈیا #influencer #socialmedia #IndiaNews
تازہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق جس وقت انہیں آ۔گ لگائی گئی اس وقت وہ 7 ہفتوں کی حاملہ تھی۔ وہ سوشل میڈیا پر اپنی زندگی کے چھوٹے چھوٹے لمحے لوگوں کے ساتھ شیئر کرتی تھیں۔ انسٹاگرام پر تقریباً ایک لاکھ 46 ہزار لوگ انہیں فالو کرتے تھے۔ خوبصورتی، روزمرہ زندگی، ریلز اور لائف سٹائل سے متعلق ویڈیوز ان کی شناخت بن چکی تھیں۔ لیکن 3 جولائی کی رات ان کی زندگی اچانک ایک ایسے واقعے نے بدل دی جس نے تقریباً دو ماہ بعد ان کی جان لے لی۔ 28 سالہ منجیت کور انڈین پنجاب کے علاقے کھڑڑ سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کو ان کی والدہ کانتا دیوی کی شکایت کے مطابق چند جاننے والوں نے چندی گڑھ کے سیکٹر 34 میں ایک شراب کی دکان کے قریب بلایا۔ شکایت کے مطابق وہاں سے انہیں مبینہ طور پر زبردستی ایک گاڑی میں بٹھایا گیا اور مورندا کے قریب ایک جنگل میں لے جایا گیا۔ وہاں مبینہ طور پر انہیں تشد۔د کا نشانہ بنایا گیا جبکہ بعد میں انہیں ایک درخت سے باندھا گیا اور آ۔۔گ لگا دی گئی۔ یہ الزام منجیت کی والدہ کی جانب سے دی گئی شکایت کا حصہ ہے اور عدالت میں ابھی ثابت نہیں ہوا۔ پولیس نے اسی شکایت کی بنیاد پر تحقیقات شروع کی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایک واقف کار موقع پر پہنچا تو منجیت آ۔گ کی لپیٹ میں تھیں۔ اس شخص نے کمبل کی مدد سے آ۔گ بجھائی اور انہیں مورندا کے ایک ہسپتال منتقل کیا۔ شد۔ید جھلسنے کے باعث بعد میں انہیں موہالی کے ایک نجی ہسپتال منتقل کیا گیا اور 9 جولائی کو چندی گڑھ پہنچایا گیا۔ وہ کئی ہفتوں تک انتہائی تشو۔یش ناک حالت میں رہیں۔ 5 اگست کو انہیں کچھ دیر کے لیے ہوش آیا۔ اہل خانہ کے مطابق اس دوران انہوں نے مبینہ طور پر واقعے کے بارے میں انہیں بتایا بھی تاہم ان کا باضابطہ پولیس بیان ریکارڈ نہ ہو سکا۔ 26 اگست کو تقریباً 54 دن تک زندگی اور مو۔ت کی جنگ لڑنے کے بعد منجیت کور دم توڑ گئیں۔ منجیت کی والدہ نے اپنی شکایت میں شبھی اور پنڈا نامی دو افراد کو نامزد کیا ہے۔ پولیس نے ان کے خلاف اغوا اور ق ۔تل کا مقدمہ درج کیا ہے اور ان کی تلاش جاری ہے۔ پولیس کے مطابق ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ منجیت کور کو مورندا کیوں لے جایا گیا، ان پر حملہ کیوں کیا گیا اور کیا شبھی اور پنڈا کے علاوہ بھی کوئی شخص اس منصوبے میں شامل تھا یا نہیں؟ پولیس چندی گڑھ سے مورندا تک کے راستے کی CCTV فوٹیج، دیگر شواہد اور منجیت کے جاننے والوں سے معلومات اکٹھی کر رہی ہے۔ تازہ ترین رپورٹس میں منجیت کور کے پوسٹ مارٹم سے متعلق ایک اہم بات سامنے آئی ہے۔ پولیس کے مطابق وہ موت کے وقت تقریباً سات ہفتے کی حاملہ تھیں۔ منجیت کے خاندان کا الزام ہے کہ جب وہ 5 اگست کو ہوش میں آئیں اور بیان دینے کی پوزیشن میں تھیں تو پولیس کو اطلاع دی گئی لیکن ان کا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق ہسپتال پولیس پوسٹ نے بھی مبینہ طور پر کھڑڑ پولیس کو اطلاع دی تھی کہ منجیت بیان دینے کے قابل ہیں۔ دوسری جانب کھڑڑ کے ڈی ایس پی ایشان سنگلا نے پولیس پر غفلت کے الزام کو مسترد کیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ چونکہ واقعے کا مقام چندی گڑھ پولیس کے دائرۂ اختیار میں تھا اس لیے کارروائی چندی گڑھ پولیس کو کرنا تھی اور کھڑڑ پولیس نے خاندان کو متعلقہ تھانے تک پہنچانے اور مقدمہ درج کرانے میں تعاون کیا۔ یوں منجیت کی موت کے بعد ایک اہم ثبوت ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا ہے۔۔ اگر ان کا بیان بروقت ریکارڈ ہو جاتا تو ممکن ہے پولیس کو واقعے، ملزمان، گاڑی، مقام اور حملے کے محرک کے بارے میں براہ راست معلومات مل جاتیں۔ منجیت کور ایک سوشل میڈیا کریئیٹر تھیں جن کے انسٹاگرام پر تقریباً 1.46 لاکھ فالوورز تھے جبکہ یوٹیوب پر ان کے تقریباً چار ہزار سبسکرائبرز تھے۔ وہ کاسمیٹک مصنوعات کی تشہیر، لائف سٹائل مواد، ریلز اور روزمرہ زندگی سے متعلق ویڈیوز بناتی تھیں۔ وہ طلاق یافتہ تھیں اور سات سالہ بیٹے کی ماں تھیں۔ پولیس کے مطابق ان کا بیٹا سابق شوہر کے ساتھ رہتا تھا۔ تدوین ادیب یوسفزئی بحوالہ: انڈین میڈیا #influencer #socialmedia #IndiaNews

About