@aique64: Tuổi thơ ai đã từng.....#Hoainiem #kyuctrongtoi #xuhuong #AI

Mekong Delta Vietnam
Mekong Delta Vietnam
Open In TikTok:
Region: VN
Thursday 01 January 2026 03:00:00 GMT
9642
161
6
15

Music

Download

Comments

kiengio0610
Kiến gió :
hoài niệm lắm luôn. ký ức ùa về🥰
2026-01-25 02:59:30
0
h720903
🎋🐼🎋 :
thời gian có thể cho ta những thứ ta cần nhưng đổi lại nó sẽ lấy đi của ta tất cả
2026-01-02 06:14:52
1
hnh.t53
Giang hay lông ngông :
🥰🥰🥰
2026-01-01 03:02:28
2
tuyetnhungoliverdash87
Tuyết Nhung Oliver Dash :
❤❤❤
2026-01-07 15:41:19
0
lucsao22
LM Sao :
😁
2026-01-10 22:39:28
0
To see more videos from user @aique64, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

​﷽ ​اسلام میں نماز دین کا ستون ہے، اور اس کی طرف مسلمانوں کو پکارنے کا ذریعہ اذان ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ اس خوبصورت پکار کی ابتدا کیسے ہوئی؟ اور کائنات کی سب سے عظیم ہستی، یعنی محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنی ظاہری زندگی میں خود کبھی اذان کیوں نہیں دی؟ ​آئیے اس کے پیچھے چھپی ایمان افروز تاریخ اور حکمتوں کو جانتے ہیں۔ ​1. اذان کی ابتدا کیسے ہوئی؟ (تاریخی پس منظر) ​جب مسلمان مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچے، تو شروع میں نماز کے لیے کوئی مخصوص طریقہ مقرر نہیں تھا۔ مسلمان اندازے سے وقت پر مسجد نبوی میں جمع ہو جایا کرتے تھے۔ جب تعداد بڑھی، تو آپ ﷺ نے صحابہ کرامؓ سے مشورہ فرمایا۔ کچھ نے عیسائیوں کی طرح گھنٹی (ناقوس) اور کچھ نے یہودیوں کی طرح سینگ بجانے کی تجویز دی، لیکن آپ ﷺ نے غیر مسلموں کی مشابہت کی وجہ سے انہیں پسند نہیں فرمایا۔ ​اسی دوران حضرت عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر اذان کے کلمات (اللہ اکبر، اللہ اکبر...) پڑھ کر سنائے۔ اگلی صبح انہوں نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں اپنا خواب بیان کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
​﷽ ​اسلام میں نماز دین کا ستون ہے، اور اس کی طرف مسلمانوں کو پکارنے کا ذریعہ اذان ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ اس خوبصورت پکار کی ابتدا کیسے ہوئی؟ اور کائنات کی سب سے عظیم ہستی، یعنی محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنی ظاہری زندگی میں خود کبھی اذان کیوں نہیں دی؟ ​آئیے اس کے پیچھے چھپی ایمان افروز تاریخ اور حکمتوں کو جانتے ہیں۔ ​1. اذان کی ابتدا کیسے ہوئی؟ (تاریخی پس منظر) ​جب مسلمان مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچے، تو شروع میں نماز کے لیے کوئی مخصوص طریقہ مقرر نہیں تھا۔ مسلمان اندازے سے وقت پر مسجد نبوی میں جمع ہو جایا کرتے تھے۔ جب تعداد بڑھی، تو آپ ﷺ نے صحابہ کرامؓ سے مشورہ فرمایا۔ کچھ نے عیسائیوں کی طرح گھنٹی (ناقوس) اور کچھ نے یہودیوں کی طرح سینگ بجانے کی تجویز دی، لیکن آپ ﷺ نے غیر مسلموں کی مشابہت کی وجہ سے انہیں پسند نہیں فرمایا۔ ​اسی دوران حضرت عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر اذان کے کلمات (اللہ اکبر، اللہ اکبر...) پڑھ کر سنائے۔ اگلی صبح انہوں نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں اپنا خواب بیان کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "یہ سچا خواب ہے"۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ کلمات حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو سکھا دو، کیونکہ ان کی آواز بہت بلند اور خوبصورت ہے۔ یوں اسلام میں اذان کا آغاز ہوا۔ ​2. نبی کریم ﷺ نے خود اذان کیوں نہیں دی؟ ​علمائے کرام اور محدثین نے قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کی چند عظیم حکمتیں بیان کی ہیں: ​امت پر شفقت اور رحمت (سب سے بڑی حکمت): اذان میں کلمہ ہے: "حی علی الصلوٰۃ" (آؤ نماز کی طرف)۔ اگر نبی کریم ﷺ خود اذان دیتے تو یہ آپ ﷺ کا براہِ راست حکم بن جاتا۔ اسلام کا اصول ہے کہ نبی کا حکم ماننا فرض ہے اور نافرمانی سخت گناہ ہے۔ اگر کوئی مسلمان کسی مجبوری یا سستی کی وجہ سے فوراً مسجد نہ پہنچ پاتا، تو وہ اللہ کے رسول ﷺ کی نافرمانی کا مرتکب ہوتا۔ امت کو اس آزمائش سے بچانے کے لیے آپ ﷺ نے خود اذان نہیں دی۔ ​مقامِ رسالت اور گواہی کا تقاضا: اذان کا اہم حصہ ہے: "اشھد ان محمداً رسول اللہ" (میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں)۔ اگر آپ ﷺ خود اذان دیتے تو کلمات ہوتے: "میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں"۔ قانونِ شہادت اور عاجزی کے مطابق انسان کا خود اپنے لیے اس طرح گواہی دینا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ اللہ نے اپنے محبوب ﷺ کا نام دوسروں کی زبانوں سے بلند کروایا۔ ​داعی اور منادی کا فرق: نبی کریم ﷺ کا اصل منصب "داعی" (دعوت دینے والا) کا تھا، جبکہ اذان دینے والا "منادی" (پکارنے والا) ہوتا ہے۔ داعی کا کام پیغام پہنچانا ہے، اور منادی کا کام لوگوں کو داعی کی محفل کی طرف بلانا ہے۔ چونکہ آپ ﷺ مقامِ امامت پر فائز تھے، اس لیے پکارنے کی ذمہ داری صحابہ کو سونپی گئی۔ ​وقت کی تنگی اور مصروفیات: آپ ﷺ پر امت کی تعلیم و تربیت، وحی کا سنبھالنا، وفود سے ملاقاتیں اور دیگر اہم ترین ذمہ داریاں تھیں۔ اذان کے لیے وقت کی سخت پابندی اور ہمیشہ دستیابی ضروری ہے، اس لیے آپ ﷺ نے یہ ذمہ داری دیگر صحابہ کے سپرد فرمائی۔ ​حاصلِ کلام ​نبی کریم ﷺ کا خود اذان نہ دینا سراسر ان کی امت پر شفقت اور مقامِ رسالت کی نزاکت کا مظہر تھا۔ دینِ اسلام کا ہر حکم حکمتوں سے بھرا ہوا ہے۔ ​طالبِ دعا: اسد خان بہادر ​#Azan #IslamicHistory #ProphetMuhammad #Islam #IslamicKnowledge

About