@mir.fit: i’m good.

Amir
Amir
Open In TikTok:
Region: US
Friday 02 January 2026 20:07:03 GMT
67758
4904
57
181

Music

Download

Comments

yogirlbeinmadms
A🌟 :
weight ?
2026-01-02 20:39:53
6
codytrades_
codytrades_ :
We all cooked
2026-02-03 06:38:40
4
purcell333
Trey Purcell375 :
keep up the grind brother 💪🔥❤️
2026-07-07 01:04:23
2
jessekrqtw0
Jesse🤡 :
One day
2026-01-15 00:58:37
3
idonttalkfrr
don dada :
How long it took u
2026-01-02 22:09:57
35
lzlqkz
️ 𖣂︎von :
we’re lowkey built the same bro ur just bigger
2026-02-18 17:10:09
1
housebrokenmikey8
Peachesstolemyanklemonitor :
I got to get my aesthetic on your level. It’s amazing boss 🔥🔥🔥🦾🦾🏋🏾‍♂️🗣️🔐💯👏🏿🦾🏋🏾‍♂️
2026-01-02 20:13:18
1
stillher412
StillHer412 :
You are my motivation ❤️
2026-01-03 03:06:08
1
ethan_12c
ҽƚԋɳ :
manifesting this build for 26
2026-01-03 04:22:21
1
a11dd33nn
️ :
what do you do for biceps? i rlly js spam curls and hammer curls
2026-01-02 21:02:20
4
matiz_lisens
tiz :
Holy tuff❤️‍🩹
2026-01-02 20:13:01
1
handsome_and_reassuring
handsome_and_reassuring :
Awesome physique bro, wish to get to your level one day🙏❤️
2026-01-03 04:05:34
1
itsa7_1
A7 | Football ⚽️ :
What type cardio in gym treadmill?
2026-01-03 01:02:56
0
pinkbluedinasour67
pinkbluedinasour67 :
One day bruh, big inspiration 🥹 hope you achieve more success in th future bro 🤞
2026-01-02 20:43:44
1
rich637155
MZ1 :
where you got the shirt from brother?
2026-01-02 22:16:46
0
erikadkins8
Trill :
How tall r u?
2026-01-05 00:42:52
0
templatelab9
TemplateLab :
you think I can build a good physical being 5.8 with a smaller waist and not look too bulky ?
2026-01-02 22:06:15
5
jay2shistey5
jay2shistey5 :
How tall are you
2026-01-08 21:57:28
0
thilo1712
Thilo 💤 :
Na
2026-04-10 04:31:16
0
bsn.ski
bsn.ski :
I’m at 170lbs but have 18% body fat, I’m not as defined as you, but your my goal/inspiration to get as
2026-08-06 23:38:05
0
cwill___
Cwill :
What’s the triceps exercises
2026-01-03 15:03:45
0
unndeserving
Sean. :
can anyone look at my acc? I’ve recent started making gym content and am open to any content tips or workout tips. Please support.
2026-09-05 19:49:47
0
yannidagoatfr
yanni :
my bench is 135 rn i’m 13 years, but i won’t stop until im at 200 but when i get there ill want to be at 275 and when im there ill want to be at 350 and when i finally get there, ill go for 350 and drop the bar snapping my head clean off, i wont stop until i get there.
2026-04-28 21:20:36
0
To see more videos from user @mir.fit, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

برطانوی شہزادےپرنس ولیم اور شہزادی کی بکنگھم پیلس سے روانگی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر نظر سے گزری، جس میں شاہی خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود ان کے سفر کے دوران سادگی، نظم و ضبط اور عوامی تکالیف کو مد نظر رکھنے  کا ایک انوکھا منظر دکھائی دیا۔۔۔۔۔محض دو  گاڑیوں پر مشتمل شاہی قافلہ، محدود سکیورٹی، ٹریفک کی مختصر اور ضرورت کے مطابق بندش، اور کہیں بھی غیر ضروری شور شرابہ، “ہٹو بچو” یا عوام کو طویل انتظار میں مبتلا کرنے کا خبط نظر نہیں آیا۔یہ منظر محض دو گاڑیوں یا کم پروٹوکول کا نہیں بلکہ ایک ایسے طرزِ حکمرانی اور معاشرتی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس میں ریاستی عہدہ یا شاہی حیثیت عوام سے برتری جتانے کی بجائے ذمہ داری، سادگی اور خدمت کا تقاضا کرتی ہے۔ ترقی یافتہ معاشروں میں عام طور پر یہ اصول اہم سمجھا جاتا ہے کہ حکمران، وزراء، اعلیٰ حکام اور بااثر شخصیات کی سکیورٹی ضرور یقینی بنائی جائے، مگر اس کے نام پر عام شہریوں کی زندگی کو غیر ضروری طور پر مفلوج نہ کیا جائے۔ افسوس کہ ہمارے ہاں بعض اوقات صورتِ حال اس کے بالکل الٹ دکھائی دیتی ہے۔ چھوٹے سے عہدے پر فائز بعض افراد بھی ایسے پروٹوکول اور شاہانہ انداز کو ضروری سمجھنے لگتے ہیں کہ سڑکیں بند کر دی جاتی ہیں، شہریوں کو طویل انتظار کرنا پڑتا ہے، ایمبولینسز، مریض، طلبا، ملازمین اور عام مسافر ٹریفک میں پھنس جاتے ہیں۔ بعض مقامات پر تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے عوامی عہدہ خدمت کے بجائے خصوصی مراعات اور طاقت کے اظہار کا ذریعہ بن گیا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ بعض سیاست دان، بااثر افراد اور اشرافیہ کے لوگ برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں شہریت حاصل کرنے، جائیدادیں خریدنے، کاروبار کرنے اور وہاں کی سہولیات سے فائدہ اٹھانے میں تو فخر محسوس کرتے ہیں۔ وہ ان ممالک کے صاف ستھرے ماحول، مضبوط قانون، بہترین تعلیمی نظام، شفاف اداروں اور منظم معاشرتی زندگی کو پسند کرتے ہیں،اس کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے۔۔۔۔۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی ان معاشروں کی اچھی اخلاقی اور انتظامی روایات کو اپنانے کی بھی کوشش کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ کیا ہم نے یہ سیکھا کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے؟ کیا ہم نے یہ سیکھا کہ عوامی عہدہ اختیار سے زیادہ ذمہ داری ہے؟ کیا ہم نے یہ سیکھا کہ سرکاری وسائل ذاتی نمود و نمائش کے لیے نہیں بلکہ عوامی فلاح کے لیے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ کیا ہم نے یہ سیکھا کہ عوام کے وقت، سہولت اور عزت کا خیال رکھنا حکمرانی کا بنیادی اصول ہے؟ ترقی یافتہ قوموں کی کامیابی صرف بلند عمارتوں، کشادہ سڑکوں یا جدید ٹیکنالوجی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے قانون کی پاسداری، اداروں کی مضبوطی، احتساب، سادگی اور عوامی حقوق کا احترام بھی شامل ہے۔ وہاں کسی عہدے دار کی اہمیت اس کے لمبے قافلے، سائرنوں یا سڑکیں بند کروانے سے نہیں بلکہ اس کی کارکردگی، ذمہ داری اور عوامی خدمت سے پہچانی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ سکیورٹی ہر اہم شخصیت کا حق ہے اور بعض حالات میں خصوصی حفاظتی انتظامات ناگزیر ہوتے ہیں۔ تاہم سکیورٹی اور غیر ضروری شان و شوکت میں واضح فرق ہے۔ ایسا پروٹوکول جو عوام کی جان، وقت اور روزمرہ زندگی کو متاثر کرے، اس کا ازسرِنو جائزہ لیا جانا چاہیے۔ عوامی نمائندے اور سرکاری افسران جتنے زیادہ عوام کے قریب، سادہ مزاج اور جواب دہ ہوں گے، ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد بھی اتنا ہی مضبوط ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے حکمران، سیاست دان، وزراء، ارکانِ اسمبلی، اعلیٰ افسران اور بااثر طبقات بیرونِ ملک صرف جائیدادیں اور شہریت حاصل کرنے کو کامیابی نہ سمجھیں بلکہ وہاں کے نظم و ضبط، قانون کی بالادستی، سادگی، دیانت، عوامی خدمت اور قومی وسائل کے تحفظ سے بھی سبق سیکھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قومیں صرف دوسرے ممالک کی ظاہری ترقی کی نقل سے ترقی نہیں کرتیں بلکہ ان اقدار کو اپنانے سے آگے بڑھتی ہیں جو ترقی کی بنیاد بنتی ہیں۔ اگر ہمارے ہاں عہدے کو خدمت، اختیار کو امانت اور عوام کو اصل مالک سمجھ لیا جائے تو نہ صرف غیر ضروری پروٹوکول میں کمی آئے گی بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بھی کم ہوں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سادگی کمزوری نہیں بلکہ اعلیٰ کردار کی علامت ہے۔ عوام کے لیے راستہ کھلا رکھنا، ان کے وقت کی قدر کرنا، قومی وسائل کو امانت سمجھنا اور اپنے منصب کو خدمت کے لیے استعمال کرنا ہی حقیقی عظمت ہے۔۔۔۔۔۔اور اسلام اسی کا داعی ہے۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کے حکمرانوں، عوامی نمائندوں اور تمام ذمہ دار طبقات کو سادگی، دیانت، احساسِ ذمہ داری اور عوام کی خدمت کا جذبہ عطا فرمائے، اور ہمیں ایسی معاشرتی اقدار اپنانے کی توفیق دے جن سے پاکستان مضبوط، منظم اور خوشحال بن سکے، آمین ثم آمین یارب العالمین۔۔  خیراندیش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ظفراقبال چوھدری ۔۔۔۔۔۔۔۔  #Protocol #prin
برطانوی شہزادےپرنس ولیم اور شہزادی کی بکنگھم پیلس سے روانگی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر نظر سے گزری، جس میں شاہی خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود ان کے سفر کے دوران سادگی، نظم و ضبط اور عوامی تکالیف کو مد نظر رکھنے کا ایک انوکھا منظر دکھائی دیا۔۔۔۔۔محض دو گاڑیوں پر مشتمل شاہی قافلہ، محدود سکیورٹی، ٹریفک کی مختصر اور ضرورت کے مطابق بندش، اور کہیں بھی غیر ضروری شور شرابہ، “ہٹو بچو” یا عوام کو طویل انتظار میں مبتلا کرنے کا خبط نظر نہیں آیا۔یہ منظر محض دو گاڑیوں یا کم پروٹوکول کا نہیں بلکہ ایک ایسے طرزِ حکمرانی اور معاشرتی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس میں ریاستی عہدہ یا شاہی حیثیت عوام سے برتری جتانے کی بجائے ذمہ داری، سادگی اور خدمت کا تقاضا کرتی ہے۔ ترقی یافتہ معاشروں میں عام طور پر یہ اصول اہم سمجھا جاتا ہے کہ حکمران، وزراء، اعلیٰ حکام اور بااثر شخصیات کی سکیورٹی ضرور یقینی بنائی جائے، مگر اس کے نام پر عام شہریوں کی زندگی کو غیر ضروری طور پر مفلوج نہ کیا جائے۔ افسوس کہ ہمارے ہاں بعض اوقات صورتِ حال اس کے بالکل الٹ دکھائی دیتی ہے۔ چھوٹے سے عہدے پر فائز بعض افراد بھی ایسے پروٹوکول اور شاہانہ انداز کو ضروری سمجھنے لگتے ہیں کہ سڑکیں بند کر دی جاتی ہیں، شہریوں کو طویل انتظار کرنا پڑتا ہے، ایمبولینسز، مریض، طلبا، ملازمین اور عام مسافر ٹریفک میں پھنس جاتے ہیں۔ بعض مقامات پر تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے عوامی عہدہ خدمت کے بجائے خصوصی مراعات اور طاقت کے اظہار کا ذریعہ بن گیا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ بعض سیاست دان، بااثر افراد اور اشرافیہ کے لوگ برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں شہریت حاصل کرنے، جائیدادیں خریدنے، کاروبار کرنے اور وہاں کی سہولیات سے فائدہ اٹھانے میں تو فخر محسوس کرتے ہیں۔ وہ ان ممالک کے صاف ستھرے ماحول، مضبوط قانون، بہترین تعلیمی نظام، شفاف اداروں اور منظم معاشرتی زندگی کو پسند کرتے ہیں،اس کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے۔۔۔۔۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی ان معاشروں کی اچھی اخلاقی اور انتظامی روایات کو اپنانے کی بھی کوشش کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ کیا ہم نے یہ سیکھا کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے؟ کیا ہم نے یہ سیکھا کہ عوامی عہدہ اختیار سے زیادہ ذمہ داری ہے؟ کیا ہم نے یہ سیکھا کہ سرکاری وسائل ذاتی نمود و نمائش کے لیے نہیں بلکہ عوامی فلاح کے لیے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ کیا ہم نے یہ سیکھا کہ عوام کے وقت، سہولت اور عزت کا خیال رکھنا حکمرانی کا بنیادی اصول ہے؟ ترقی یافتہ قوموں کی کامیابی صرف بلند عمارتوں، کشادہ سڑکوں یا جدید ٹیکنالوجی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے قانون کی پاسداری، اداروں کی مضبوطی، احتساب، سادگی اور عوامی حقوق کا احترام بھی شامل ہے۔ وہاں کسی عہدے دار کی اہمیت اس کے لمبے قافلے، سائرنوں یا سڑکیں بند کروانے سے نہیں بلکہ اس کی کارکردگی، ذمہ داری اور عوامی خدمت سے پہچانی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ سکیورٹی ہر اہم شخصیت کا حق ہے اور بعض حالات میں خصوصی حفاظتی انتظامات ناگزیر ہوتے ہیں۔ تاہم سکیورٹی اور غیر ضروری شان و شوکت میں واضح فرق ہے۔ ایسا پروٹوکول جو عوام کی جان، وقت اور روزمرہ زندگی کو متاثر کرے، اس کا ازسرِنو جائزہ لیا جانا چاہیے۔ عوامی نمائندے اور سرکاری افسران جتنے زیادہ عوام کے قریب، سادہ مزاج اور جواب دہ ہوں گے، ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد بھی اتنا ہی مضبوط ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے حکمران، سیاست دان، وزراء، ارکانِ اسمبلی، اعلیٰ افسران اور بااثر طبقات بیرونِ ملک صرف جائیدادیں اور شہریت حاصل کرنے کو کامیابی نہ سمجھیں بلکہ وہاں کے نظم و ضبط، قانون کی بالادستی، سادگی، دیانت، عوامی خدمت اور قومی وسائل کے تحفظ سے بھی سبق سیکھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قومیں صرف دوسرے ممالک کی ظاہری ترقی کی نقل سے ترقی نہیں کرتیں بلکہ ان اقدار کو اپنانے سے آگے بڑھتی ہیں جو ترقی کی بنیاد بنتی ہیں۔ اگر ہمارے ہاں عہدے کو خدمت، اختیار کو امانت اور عوام کو اصل مالک سمجھ لیا جائے تو نہ صرف غیر ضروری پروٹوکول میں کمی آئے گی بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بھی کم ہوں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سادگی کمزوری نہیں بلکہ اعلیٰ کردار کی علامت ہے۔ عوام کے لیے راستہ کھلا رکھنا، ان کے وقت کی قدر کرنا، قومی وسائل کو امانت سمجھنا اور اپنے منصب کو خدمت کے لیے استعمال کرنا ہی حقیقی عظمت ہے۔۔۔۔۔۔اور اسلام اسی کا داعی ہے۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کے حکمرانوں، عوامی نمائندوں اور تمام ذمہ دار طبقات کو سادگی، دیانت، احساسِ ذمہ داری اور عوام کی خدمت کا جذبہ عطا فرمائے، اور ہمیں ایسی معاشرتی اقدار اپنانے کی توفیق دے جن سے پاکستان مضبوط، منظم اور خوشحال بن سکے، آمین ثم آمین یارب العالمین۔۔ خیراندیش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ظفراقبال چوھدری ۔۔۔۔۔۔۔۔ #Protocol #prin

About