@sereel.mertilus3: 🤣🤣🤣🤣🤣🤣🤣🤣🤣🤣

🌹 Reine au Grand Cœur
🌹 Reine au Grand Cœur
Open In TikTok:
Region: US
Saturday 03 January 2026 16:00:40 GMT
519
7
2
2

Music

Download

Comments

sarahjean149
Sarahjean :
fèl back
2026-01-03 16:53:39
0
www.tiktok.comjohn72
Emmanuelfils :
Nou pap pran moun isit ankò non
2026-01-03 19:17:33
1
To see more videos from user @sereel.mertilus3, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پاکستان کے خلاف ہونے والی حالیہ پیش رفت کو اگر محض وقتی واقعات، سرحدی جھڑپوں یا سفارتی بیانات تک محدود کر کے دیکھا جائے تو یہ ایک سنگین فکری غلطی ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ ایک طویل، منظم اور کثیر الجہتی عالمی منصوبے کا حصہ ہے، جس کی بنیاد کئی دہائیاں پہلے رکھی جا چکی تھی۔ پاکستان کو کبھی ایک آزاد، خودمختار اور نظریاتی ریاست کے طور پر قبول نہیں کیا گیا، بلکہ ہمیشہ اسے ایک عارضی، دباؤ میں رہنے والی اور ضرورت پڑنے پر استعمال ہونے والی ریاست سمجھا گیا۔ یہی وہ بنیادی غلط فہمی تھی جس نے آج کی صورتحال کو جنم دیا۔ سب سے پہلے پاکستان کو بھارت کے ذریعے سبق سکھانے کی کوشش کی گئی۔ اس منصوبے کی ظاہری شکل یہ تھی کہ دونوں ممالک کا معاملہ ہے، جیسا کہ اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کہا کہ “یہ بھارت اور پاکستان کا آپس کا معاملہ ہے۔” مگر حقیقت میں یہ ایک بین الاقوامی طور پر سپورٹڈ اسٹریٹجک اقدام تھا، جس میں بھارت کو نہ صرف سفارتی چھوٹ دی گئی بلکہ انٹیلی جنس، میڈیا اور بیانیہ سازی کی مکمل پشت پناہی بھی فراہم کی گئی۔ اس اسکرپٹ کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ بھارت محدود عسکری کارروائی کرے گا، پاکستان روایتی دباؤ کے تحت تحمل دکھائے گا، عالمی میڈیا بھارت کے مؤقف کو غالب رکھے گا، اور یوں پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کیا جائے گا جو دفاعی پوزیشن میں ہے، خوف زدہ ہے، اور جسے مزید دبایا جا سکتا ہے۔ مگر یہاں کھیل الٹ گیا۔ پاکستان نے وہ راستہ اختیار کیا جو طے شدہ عالمی اسکرپٹ میں شامل ہی نہیں تھا۔ دفاع کے ساتھ ساتھ مؤثر ردِعمل، سفارتی اعتماد، عسکری توازن اور اندرونی یکجہتی—یہ سب وہ عناصر تھے جن کی توقع کسی کو نہیں تھی۔ بھارت کو یقین دلایا گیا تھا کہ پاکستان خاموش رہے گا، مگر جب پاکستان نے اللہ کی مدد سے نہ صرف جواب دیا بلکہ ایسا جواب دیا جس نے طاقت کا توازن واضح کر دیا، تو مودی سرکار بوکھلا اٹھی۔ اسی بوکھلاہٹ میں وہ بیانیہ تشکیل دیا گیا کہ پاکستان نے حملہ کیا ہے، حالانکہ زمینی اور تکنیکی شواہد اس دعوے کی نفی کرتے رہے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب عالمی طاقتوں کو یہ احساس ہوا کہ پاکستان اب محض ایک ردعمل دینے والی ریاست نہیں رہا بلکہ اپنی سرخ لکیروں سے بخوبی واقف ہے۔ یہی وہ موڑ تھا جہاں بھارت کے ذریعے پاکستان کو قابو کرنے کی کوشش ناکامی سے دوچار ہوئی۔ اس ناکامی کے بعد فوراً اگلا محاذ فعال کیا گیا—مغربی سرحد۔ افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا منصوبہ کوئی نیا نہیں تھا۔ یہ ایک پرانا، آزمودہ اور بارہا دہرایا گیا ماڈل تھا۔ افغانستان کو عدم استحکام کا شکار رکھنا، وہاں ایسی قوتوں کو پروان چڑھانا جو پاکستان کے لیے مسائل پیدا کریں، اور پھر ان عناصر کو سرحد پار دھکیلنا—یہ سب برسوں سے جاری ایک منصوبہ بندی کا حصہ تھا۔ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر مسلح گروہوں کی فنڈنگ، تربیت اور محفوظ پناہ گاہیں افغانستان میں موجود رہیں۔ یہ سب کچھ کسی خلا میں نہیں ہو رہا تھا۔ نائن الیون کے بعد جب امریکہ اور نیٹو افواج افغانستان میں داخل ہوئیں تو پاکستان کو ایک بار پھر فرنٹ لائن اسٹیٹ بنا دیا گیا۔ اربوں ڈالر کی امداد، وعدے، اور اسٹریٹجک شراکت داری کے دعوے کیے گئے، مگر اس کے بدلے پاکستان کو ایسی جنگ میں دھکیلا گیا جس کا اصل فائدہ کسی اور نے اٹھایا۔ ستر ہزار سے زائد پاکستانی جانوں کی قربانی، معیشت کو پہنچنے والا ناقابلِ تلافی نقصان، سماجی ڈھانچے کی بربادی، اور ریاستی اداروں پر بڑھتا ہوا عدم اعتماد یہ سب اسی فرنٹ لائن کردار کی قیمت تھی۔ مگر اس تمام تر نقصان کے باوجود پاکستان مکمل طور پر ٹوٹ نہ سکا، اور یہی بات ان قوتوں کو سب سے زیادہ ناگوار گزری۔ افغانستان سے انخلا کے وقت اربوں ڈالر مالیت کا جدید امریکی اسلحہ “غلطی سے” پیچھے چھوڑ دیا گیا۔ بظاہر یہ ایک لاجسٹک ناکامی تھی، مگر درحقیقت یہ اسی بڑے کھیل کا حصہ تھا۔ یہ اسلحہ بعد ازاں انہی عناصر کے ہاتھ لگا جو پاکستان کے خلاف سرگرم رہے۔ جدید رائفلیں، نائٹ وژن آلات، کمیونیکیشن سسٹمز یہ سب اتفاقاً نہیں چھوڑا گیا تھا۔ اسی دوران پاکستان کے اندرونی محاذ کو بھی کمزور کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ سیاسی اختلافات کو ہوا دی گئی، لسانی اور مسلکی تقسیم کو ابھارا گیا، اور میڈیا کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیا گیا۔ نوجوان نسل کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ ریاستی ادارے ان کے مسائل کی جڑ ہیں، کہ حب الوطنی ایک فرسودہ تصور ہے، اور کہ نظریۂ پاکستان محض ایک بوجھ ہے۔ یہ ایک مکمل نفسیاتی جنگ تھی، جس کا مقصد میدانِ جنگ میں فتح نہیں بلکہ ذہنوں کی شکست تھا۔ این جی اوز، انسانی حقوق کے نام پر چلنے والی تنظیمیں، اور بیرونی فنڈنگ سے چلنے والے میڈیا پلیٹ فارمز اس جنگ کا حصہ بنے۔ مقصد واضح تھا: پاکستان کو اندر سے کمزور کرنا تاکہ بیرونی دباؤ مؤثر ہو سکے۔#foryo
پاکستان کے خلاف ہونے والی حالیہ پیش رفت کو اگر محض وقتی واقعات، سرحدی جھڑپوں یا سفارتی بیانات تک محدود کر کے دیکھا جائے تو یہ ایک سنگین فکری غلطی ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ ایک طویل، منظم اور کثیر الجہتی عالمی منصوبے کا حصہ ہے، جس کی بنیاد کئی دہائیاں پہلے رکھی جا چکی تھی۔ پاکستان کو کبھی ایک آزاد، خودمختار اور نظریاتی ریاست کے طور پر قبول نہیں کیا گیا، بلکہ ہمیشہ اسے ایک عارضی، دباؤ میں رہنے والی اور ضرورت پڑنے پر استعمال ہونے والی ریاست سمجھا گیا۔ یہی وہ بنیادی غلط فہمی تھی جس نے آج کی صورتحال کو جنم دیا۔ سب سے پہلے پاکستان کو بھارت کے ذریعے سبق سکھانے کی کوشش کی گئی۔ اس منصوبے کی ظاہری شکل یہ تھی کہ دونوں ممالک کا معاملہ ہے، جیسا کہ اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کہا کہ “یہ بھارت اور پاکستان کا آپس کا معاملہ ہے۔” مگر حقیقت میں یہ ایک بین الاقوامی طور پر سپورٹڈ اسٹریٹجک اقدام تھا، جس میں بھارت کو نہ صرف سفارتی چھوٹ دی گئی بلکہ انٹیلی جنس، میڈیا اور بیانیہ سازی کی مکمل پشت پناہی بھی فراہم کی گئی۔ اس اسکرپٹ کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ بھارت محدود عسکری کارروائی کرے گا، پاکستان روایتی دباؤ کے تحت تحمل دکھائے گا، عالمی میڈیا بھارت کے مؤقف کو غالب رکھے گا، اور یوں پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کیا جائے گا جو دفاعی پوزیشن میں ہے، خوف زدہ ہے، اور جسے مزید دبایا جا سکتا ہے۔ مگر یہاں کھیل الٹ گیا۔ پاکستان نے وہ راستہ اختیار کیا جو طے شدہ عالمی اسکرپٹ میں شامل ہی نہیں تھا۔ دفاع کے ساتھ ساتھ مؤثر ردِعمل، سفارتی اعتماد، عسکری توازن اور اندرونی یکجہتی—یہ سب وہ عناصر تھے جن کی توقع کسی کو نہیں تھی۔ بھارت کو یقین دلایا گیا تھا کہ پاکستان خاموش رہے گا، مگر جب پاکستان نے اللہ کی مدد سے نہ صرف جواب دیا بلکہ ایسا جواب دیا جس نے طاقت کا توازن واضح کر دیا، تو مودی سرکار بوکھلا اٹھی۔ اسی بوکھلاہٹ میں وہ بیانیہ تشکیل دیا گیا کہ پاکستان نے حملہ کیا ہے، حالانکہ زمینی اور تکنیکی شواہد اس دعوے کی نفی کرتے رہے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب عالمی طاقتوں کو یہ احساس ہوا کہ پاکستان اب محض ایک ردعمل دینے والی ریاست نہیں رہا بلکہ اپنی سرخ لکیروں سے بخوبی واقف ہے۔ یہی وہ موڑ تھا جہاں بھارت کے ذریعے پاکستان کو قابو کرنے کی کوشش ناکامی سے دوچار ہوئی۔ اس ناکامی کے بعد فوراً اگلا محاذ فعال کیا گیا—مغربی سرحد۔ افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا منصوبہ کوئی نیا نہیں تھا۔ یہ ایک پرانا، آزمودہ اور بارہا دہرایا گیا ماڈل تھا۔ افغانستان کو عدم استحکام کا شکار رکھنا، وہاں ایسی قوتوں کو پروان چڑھانا جو پاکستان کے لیے مسائل پیدا کریں، اور پھر ان عناصر کو سرحد پار دھکیلنا—یہ سب برسوں سے جاری ایک منصوبہ بندی کا حصہ تھا۔ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر مسلح گروہوں کی فنڈنگ، تربیت اور محفوظ پناہ گاہیں افغانستان میں موجود رہیں۔ یہ سب کچھ کسی خلا میں نہیں ہو رہا تھا۔ نائن الیون کے بعد جب امریکہ اور نیٹو افواج افغانستان میں داخل ہوئیں تو پاکستان کو ایک بار پھر فرنٹ لائن اسٹیٹ بنا دیا گیا۔ اربوں ڈالر کی امداد، وعدے، اور اسٹریٹجک شراکت داری کے دعوے کیے گئے، مگر اس کے بدلے پاکستان کو ایسی جنگ میں دھکیلا گیا جس کا اصل فائدہ کسی اور نے اٹھایا۔ ستر ہزار سے زائد پاکستانی جانوں کی قربانی، معیشت کو پہنچنے والا ناقابلِ تلافی نقصان، سماجی ڈھانچے کی بربادی، اور ریاستی اداروں پر بڑھتا ہوا عدم اعتماد یہ سب اسی فرنٹ لائن کردار کی قیمت تھی۔ مگر اس تمام تر نقصان کے باوجود پاکستان مکمل طور پر ٹوٹ نہ سکا، اور یہی بات ان قوتوں کو سب سے زیادہ ناگوار گزری۔ افغانستان سے انخلا کے وقت اربوں ڈالر مالیت کا جدید امریکی اسلحہ “غلطی سے” پیچھے چھوڑ دیا گیا۔ بظاہر یہ ایک لاجسٹک ناکامی تھی، مگر درحقیقت یہ اسی بڑے کھیل کا حصہ تھا۔ یہ اسلحہ بعد ازاں انہی عناصر کے ہاتھ لگا جو پاکستان کے خلاف سرگرم رہے۔ جدید رائفلیں، نائٹ وژن آلات، کمیونیکیشن سسٹمز یہ سب اتفاقاً نہیں چھوڑا گیا تھا۔ اسی دوران پاکستان کے اندرونی محاذ کو بھی کمزور کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ سیاسی اختلافات کو ہوا دی گئی، لسانی اور مسلکی تقسیم کو ابھارا گیا، اور میڈیا کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیا گیا۔ نوجوان نسل کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ ریاستی ادارے ان کے مسائل کی جڑ ہیں، کہ حب الوطنی ایک فرسودہ تصور ہے، اور کہ نظریۂ پاکستان محض ایک بوجھ ہے۔ یہ ایک مکمل نفسیاتی جنگ تھی، جس کا مقصد میدانِ جنگ میں فتح نہیں بلکہ ذہنوں کی شکست تھا۔ این جی اوز، انسانی حقوق کے نام پر چلنے والی تنظیمیں، اور بیرونی فنڈنگ سے چلنے والے میڈیا پلیٹ فارمز اس جنگ کا حصہ بنے۔ مقصد واضح تھا: پاکستان کو اندر سے کمزور کرنا تاکہ بیرونی دباؤ مؤثر ہو سکے۔#foryo

About