@zarha124: #fyp #fypage #fyppppppppppppppppppppppp #fypシ゚viral #fypviraltiktok🖤シ゚☆♡viral

zarha124
zarha124
Open In TikTok:
Region: MY
Thursday 08 January 2026 07:32:13 GMT
424
19
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @zarha124, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::: نان ایشو کو ایشو بنانا کوئی فیس بکیوں سے سیکھے ! اب یہ دو دن سے  افغانستان کے روس سے عسکری معاہدے کو ایشو بنا کر بیٹھ گئے ہیں، اگر یہ کوئی ایشو ہوتا تو ہم جانے دیتے ؟ ہمارا تو موضوع ہی سیکیورٹی ایشوز ہیں۔ چلئے چند موٹی موٹی سی  باتیں سمجھ لیجئے ! سب سے پہلے یہ کہ دفاعی قسم کے معاہدات کی پہلی شرط یہ ہے کہ یہ دو ممالک کے بیچ ہوتے ہیں۔ ایک طرف ملک ہو اور دوسری طرف محض ایک قابض عسکری تنظیم ، اس طرح کے عسکری معاہدات نہیں ہوتے چلو فرض کیجئے کہ
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::: نان ایشو کو ایشو بنانا کوئی فیس بکیوں سے سیکھے ! اب یہ دو دن سے افغانستان کے روس سے عسکری معاہدے کو ایشو بنا کر بیٹھ گئے ہیں، اگر یہ کوئی ایشو ہوتا تو ہم جانے دیتے ؟ ہمارا تو موضوع ہی سیکیورٹی ایشوز ہیں۔ چلئے چند موٹی موٹی سی باتیں سمجھ لیجئے ! سب سے پہلے یہ کہ دفاعی قسم کے معاہدات کی پہلی شرط یہ ہے کہ یہ دو ممالک کے بیچ ہوتے ہیں۔ ایک طرف ملک ہو اور دوسری طرف محض ایک قابض عسکری تنظیم ، اس طرح کے عسکری معاہدات نہیں ہوتے چلو فرض کیجئے کہ "نصرت خداوندی" سے افغان اگلے پانچ سال میں ہی مذکورہ دو میں سے کوئی شرط پوری کر دیتے ہیں۔ اور فرض کیجئے پیوٹن نے جو ایس 400 اب تک ایران کو نہیں دیئے، وہ انہیں دینے کا فیصلہ کر لیتا ہے۔ تو خیرات میں تو دے گا نہیں، قیمت مانگے گا۔ جانتے ہیں قیمت کیا ہے رشین سسٹمز کی ؟ ایس 300 کی ایک بیٹری (سیٹ) پاکستانی کرنسی میں 41 ارب اور ایس 400 کی بیٹری 139 ارب روپے کی ہے۔ پاکستانی کرنسی میں اس لئے بتا رہے ہیں کہ جو سہراب گوٹھ میں اردو سیکھ کر گئے ہیں انہیں ڈالر کا ریٹ سمجھ ہی نہیں آنا۔ جب فرض ہی کرنا ہے تو چلو مزید فرض کرتے ہیں محض ایک بیٹری کے 139 ارب روپے پورے کر لیتے ہیں، اور پیوٹن کو بھی ایک ساتھ دس پاگل کتے کاٹ لیتے ہیں، سو وہ لواطت والی اس کمائی کے عوض ایک بیٹری بیچ ہی ڈالتا ہے تو اب سوال آجائے گا کہ اسے چلائے گا کون ؟ افغانیوں کا تو یہ حال ہے کہ سوویت یونین جب افغانستان سے نکلا تو کچھ سکڈ میزائل پیچھے چھوڑ گیا۔ وہ آج تک جوں کے توں پڑے ہیں۔ نہ احمد شاہ مسعود حکمت یار پر داغ سکا نہ ہی حکمت یار احمد شاہ مسعود پر، اور نہ ہی چتیالبان پاکستان پر۔ حالانکہ 60 سال پرانی ٹیکنالوجی ہے۔ کیوں ؟ کیونکہ استعمال نہیں جانتے۔ ماڈرن ملٹری ٹیکنالوجی کا استعمال کتنا حساس معاملہ ہوتا ہے اس کا اندازہ اسی سے لگا لیجئے کہ مئی 2025 والی پاک انڈیا جھڑپ کے فورا بعد سوشل میڈیا پر خبر بریک ہوئی "چائنا پاکستان کو جے 35 دے گا، پہلا بیج اگست تک پہنچ جائے گا" کیا ہم نے اس خبر کی تشہیر میں حصہ لیا تھا ؟ جے 35 کا ذکر تک آپ نے ہماری وال پر دیکھا ؟ ہم نے اس لئے اس خبر کی تشہیر میں حصہ نہیں لیا کہ ڈیل ہونے کی صورت میں بھی پہلا بیج پاکستان پہنچنے میں کم از کم ڈیڑھ سے دو سال لگنے تھے۔ کسی بھی نئے طیارے پر مکمل عبور والی ٹریننگ میں 2 سال لگتے ہیں۔ اور یہ ٹریننگ صرف پائلٹس کی نہیں بلکہ ان ایئرمینوں کی بھی ہوتی ہے جنہیں طیاروں کو مینٹین رکھنا ہوتا ہے۔ اور جب یہ مراحل طے ہونے پر طیارے آجاتے ہیں تو پھر بھی مسلسل جنگی مشقوں کی مدد سے پائلٹس کو "منزل" پختہ کرانی پڑتی ہے۔ یہی صورتحال ماڈرن ایئر ڈیفنس سسٹمز کی بھی ہے۔ یہ اتنے پیچیدہ ہوتے ہیں کہ تھرڈ کلاس پیٹریاٹ سسٹم کو بھی یوکرین میں امریکی خود اپریٹ کرنے پر مجبور ہیں۔ اتنا وقت ہی نہیں تھا کہ یوکرینی چوتیوں کو سکھایا جاتا۔ سو جانی ! کوئی ماڈرن سائنسی سسٹم چھوڑیئے آپ چتیالبان سے یہ نیچے تصویر والا پزل حل کروا لیں ہم مان جائیں گے کہ یہ موبائل فون سے اوپر کی کوئی مشین استعمال کرسکتے ہیں اب سوال یہ آجاتا ہے کہ معاہدے کی خبر تو پکی ہے۔ پھر وہ ہے کیا ؟ یہ کوئی چین اور روس کا معاہدہ نہیں جس کے مندرجات حساسیت کے سبب پبلک نہیں کئے گئے بلکہ یہ دیو اور چوہے کے بیچ ہونے والا معاہدہ ہے جسے چوہے نے ہی شرمندگی سے بچنے کے لئے خفیہ رکھوایا ہے۔ یہ ہم اس لئے کہہ رہے ہیں کہ تین روز قبل ہی رشین انٹیلی جنس چیف نے رپورٹ پیش کی ہے کہ افغانستان دہشت گردی کا اڈہ بنتا جا رہا ہے۔ وہاں دہشت گردوں کی نئی بھرتیاں ہو رہی ہیں۔ یہ رپورٹ کیوں پبلک کی گئی ؟ اس کے ذریعے روسیوں نے باقی دنیا کو یہی میسج دیا ہے کہ ہم ان چوتیوں کو کوئی خاص چیز نہیں دے رہے، بس انگیج رکھ رہے ہیں۔ ہم اوپر والے منہ سے گاجر ٹھونسیں گے، نیچے والے منہ میں کیا ٹھونسنا ہے، وہ پاکستانی بہتر جانتے ہیں۔ کیرٹ اینڈ سٹک سنا ہے ناں ؟ چلئے ایک آخری چیز فرض کرکے بات مکاتے ہیں فرض کیجئے سہراب گوٹھ والے افغانی دنبے بہت قابل نکل آتے ہیں، روس انہیں ایس 400، مگ 29، سخوئی 35، سخوئی 57، ایم آئی 35 گن شپ سمیت ہر طرح کا ہتھیار غیر معمولی تعداد و مقدار میں فروخت کردیتا ہے۔ تب بھی سو وھاٹ ؟ انڈیا کے پاس سب کچھ ہم سے چار پانچ گنا زیادہ ہے۔ 7 مئی یاد ہے ناں ؟ وہی 7 مئی جب ملاضعیف مودی کی مٹھ مار کر سوشل میڈیا پر ذلیل ہوا تھا !

About