روحانی راستہ آسانی سے نہیں کھلتا۔ دل جب دکھ، قربانی اور آزمائش سے گزرتا ہے تو اسی جلنے سے اس میں نور پیدا ہوتا ہے۔ اصل سچائی شور اور بحث میں نہیں بلکہ خاموشی اور اندرونی غور و فکر میں ظاہر ہوتی ہے۔ جب انسان اپنی انا، غرور اور “میں” کو چھوڑ دیتا ہے تو تب ہی اسے خدا کی قربت محسوس ہوتی ہے۔ جو دل کبھی ٹوٹا ہی نہیں، جو آزمائش سے نہیں گزرا، وہ روحانی طور پر پختہ نہیں بنتا، کیونکہ ٹوٹنا ہی اصل میں بننے کا آغاز ہے۔