@abu_raied.511: ماش . | #البتر #ريسبكت #دربحه #معنى_الفخامه🚷 #team_visuol🦅

⌇  𝐀𝐛𝐮 𝐑𝐚𝐢𝐞𝐝 🇸🇦 ⌇
⌇  𝐀𝐛𝐮 𝐑𝐚𝐢𝐞𝐝 🇸🇦 ⌇
Open In TikTok:
Region: SA
Friday 16 January 2026 01:56:17 GMT
8890
224
12
39

Music

Download

Comments

mashl_63
Leon :
يامجونننننن عطهم🔥
2026-01-16 10:42:14
0
nzx..039m
___________ :
لاهنت باخذ الفكره والصوت
2026-02-16 02:43:31
0
7fc.x
「 𝐌𝐑𝐃𝐀𝟕 🇸🇦 」 :
ابدعتتت يابو عتتببب🔥
2026-01-16 09:30:35
0
.7xy.i
ابو عبدالله . :
اسسطوريييي 🔥🔥
2026-01-16 03:05:03
0
v.7r._
𝐧𝐚𝐢𝐟 :
مبدعيي يولد العم ☠️🔥
2026-01-16 02:46:37
2
_khaled.king_
ᵐᵗ𝐄 𝐋 | 𝟕 𝐀 𝐍¹ʳᵗ :
مبدعيييي+معذبهًم ابو ولدرر🔥
2026-01-16 07:00:44
0
4jij0
𝙰𝚋𝚞 𝚜𝚊𝚍 :
قسم بالله ابداععععع
2026-01-16 02:23:10
1
.7xy.i
ابو عبدالله . :
مبببدععييي وتالله 🤩🔥🔥
2026-01-16 03:05:14
0
_t7z1
515 :
إذا هذا ماش كيف الفخم
2026-01-16 02:59:15
2
4jij0
𝙰𝚋𝚞 𝚜𝚊𝚍 :
ياولد تاريخي انت وش قعد تسوي من جنونننن؟🔥🔥🔥
2026-01-16 02:23:04
1
To see more videos from user @abu_raied.511, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

اگر بزم ِ انساں میں عورت نہ ہوتی خیالوں کی رنگین جنت نہ ہوتی ستاروں کے دل کش فسانے نہ ہوتے بہاروں کی نازک حقیقت نہ ہوتی جبینوں  پہ  نورِ مسرت  نہ ہوتا نگاہوں میں شانِ مروت نہ ہوتی گھٹاؤں کی آمد کو ساون ترستے فضاؤں میں بہکی بغاوت نہ ہوتی فقیروں کو عرفانِ ہستی نہ ملتا عطاء زاہدوں کو  عبادت نہ ہوتی مسافر  سدا   منزلوں  پر   بھٹکتے سفینوں کو ساحل کی قربت نہ ہوتی ہر اک پھول کا رنگ پھیکا سا ہوتا نسیمِ بہاراں  میں  نکہت  نہ ہوتی خدائی کا  انصاف  خاموش  رہتا سنا ہے کسی کی شفاعت نہ ہوتی ساغر صدیقی ---- یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ عپا سی f#ay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #BWP #fyp 
اگر بزم ِ انساں میں عورت نہ ہوتی خیالوں کی رنگین جنت نہ ہوتی ستاروں کے دل کش فسانے نہ ہوتے بہاروں کی نازک حقیقت نہ ہوتی جبینوں  پہ  نورِ مسرت  نہ ہوتا نگاہوں میں شانِ مروت نہ ہوتی گھٹاؤں کی آمد کو ساون ترستے فضاؤں میں بہکی بغاوت نہ ہوتی فقیروں کو عرفانِ ہستی نہ ملتا عطاء زاہدوں کو  عبادت نہ ہوتی مسافر  سدا   منزلوں  پر   بھٹکتے سفینوں کو ساحل کی قربت نہ ہوتی ہر اک پھول کا رنگ پھیکا سا ہوتا نسیمِ بہاراں  میں  نکہت  نہ ہوتی خدائی کا  انصاف  خاموش  رہتا سنا ہے کسی کی شفاعت نہ ہوتی ساغر صدیقی ---- یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ عپا سی f#ay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #BWP #fyp 

About