@gdnews06: Vitaly deported to Russia after spending 9 months in Philippine Jail #phillipines #vitaly #streamer #viral#breakingnews

gdnews06
gdnews06
Open In TikTok:
Region: US
Friday 16 January 2026 03:59:57 GMT
5232
64
1
3

Music

Download

Comments

jntm7980
jntm7980 :
😳😳😳
2026-01-16 16:09:59
0
To see more videos from user @gdnews06, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

مجھ سے کسی نے ایک سوال کیا… اور شاید یہ صرف ایک انسان کا سوال نہیں تھا، بلکہ ہزاروں دلوں میں چھپا ہوا ایک سوال تھا۔ ایک ایسا سوال جو بہت سے لوگ اپنے ہونٹوں سے نہیں پوچھتے، مگر رات کی تنہائی میں اپنے دل سے ضرور پوچھتے ہیں۔ وہ سوال یہ تھا: لکن میں تو گناہ گار ہوں… کیا میری دعا قبول ہوگی؟
مجھ سے کسی نے ایک سوال کیا… اور شاید یہ صرف ایک انسان کا سوال نہیں تھا، بلکہ ہزاروں دلوں میں چھپا ہوا ایک سوال تھا۔ ایک ایسا سوال جو بہت سے لوگ اپنے ہونٹوں سے نہیں پوچھتے، مگر رات کی تنہائی میں اپنے دل سے ضرور پوچھتے ہیں۔ وہ سوال یہ تھا: لکن میں تو گناہ گار ہوں… کیا میری دعا قبول ہوگی؟" شاید تم اپنے گناہوں کو دیکھ کر یہ سوچتے ہو کہ میں کس منہ سے اللہ کے سامنے ہاتھ اٹھاؤں؟ میں بار بار گناہ کرتا ہوں، پھر توبہ کرتا ہوں، پھر کمزور پڑ جاتا ہوں… تو کیا اب بھی اللہ میری دعا سنے گا؟ لیکن ذرا سوچو… اگر گناہ گار اللہ سے دعا نہیں کرے گا تو پھر کس کے پاس جائے گا؟ کیا بیمار صرف اس لیے ڈاکٹر کے پاس جانا چھوڑ دیتا ہے کہ وہ بیمار ہے؟ نہیں! بیماری ہی تو اسے ڈاکٹر کے دروازے تک لے کر جاتی ہے۔ اسی طرح گناہ ہی وہ چیز ہے جس کے بعد انسان کو اپنے رب کے دروازے پر زیادہ جھک جانا چاہیے، نہ کہ اس کے دروازے سے دور بھاگ جانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے: وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ "اور جب میرے بندے تم سے میرے بارے میں پوچھیں تو بے شک میں قریب ہوں۔ میں پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔" (سورۃ البقرۃ 2:186) ذرا غور کرو… اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ "میں صرف نیک لوگوں کی دعا سنتا ہوں۔" بلکہ فرمایا: "میں پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔" اور اللہ تو خود ان لوگوں کو بھی پکار رہا ہے جنہوں نے اپنی جانوں پر بہت زیادتی کی: قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ "کہہ دو: اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔" (سورۃ الزمر 39:53) سوچو… یہ آیت کن لوگوں کے لیے ہے؟ ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی، گناہ کیے، حد سے گزر گئے۔ پھر بھی اللہ انہیں یہ نہیں کہتا کہ: "تم گناہ گار ہو، میرے پاس مت آنا!" بلکہ فرماتا ہے: "میری رحمت سے ناامید نہ ہونا۔" لہٰذا اگر تم گناہ گار ہو اور پھر بھی تمہارے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ: "یا اللہ! کیا تو مجھے معاف کرے گا؟ کیا میری دعا قبول ہوگی؟" تو سمجھو کہ تم ابھی بھی اسی دروازے کی طرف دیکھ رہے ہو جسے اللہ نے تمہارے لیے بند نہیں کیا۔ شیطان تمہیں گناہ کے بعد دو مرتبہ ہرانا چاہتا ہے۔ پہلی مرتبہ گناہ کروا کر… اور دوسری مرتبہ تمہیں یہ یقین دلا کر کہ اب تم اللہ کے پاس واپس جانے کے قابل نہیں رہے۔ پہلی لغزش کے بعد اگر تم گر گئے تو یہ انسانی کمزوری تھی، لیکن دوسری مرتبہ اگر تم نے اللہ کی رحمت سے امید ہی چھوڑ دی، تو شیطان تمہیں تمہارے رب سے دور لے جانا چاہتا ہے۔ اس لیے جب بھی گناہ ہو… اللہ سے بھاگو مت، اللہ کی طرف بھاگو۔ وضو کرو۔ دو رکعت پڑھو۔ ہاتھ اٹھاؤ۔ اور شاید تمہارے پاس خوبصورت الفاظ بھی نہ ہوں، بس اتنا کہہ دو: "یا اللہ! میں بہت گناہ گار ہوں، لیکن تو میرا رب ہے۔ میرے پاس تیرے سوا کوئی نہیں۔ مجھے میرے گناہوں کے حوالے نہ کر، مجھے معاف کر دے، مجھے بدل دے، اور مجھے اپنے قریب کر لے۔" یاد رکھو: تمہارا گناہ تمہیں اللہ کے دروازے سے دور کرنے کی وجہ نہیں ہونا چاہیے؛ بلکہ تمہارا گناہ ہی تمہیں اللہ کے دروازے پر زیادہ عاجزی سے گرا دینا چاہیے۔ کیونکہ ہم اللہ کے پاس اس لیے نہیں جاتے کہ ہم پاک ہیں… ہم اللہ کے پاس اس لیے جاتے ہیں کیونکہ ہم گناہ گار ہیں اور ہمیں اس کی رحمت کی ضرورت ہے۔ #fyp #goviral #followformore❤ #fyppage

About