@earlychildhoodwithem: We turned chickpea water into fluffy foam, added some colour and set it up on our messy mats (because it was stinking hot ☀️). So much fun exploring textures, mixing colours, scooping and pouring, my 1 & 3 year old absolutely loved it! Simple, cheap and perfect for all ages. ✨ Save this to try later or share with your mummy friends ✨ #sensoryplay #messyplay #toddleractivities #babyplayideas #playbasedlearning

Early Childhood with Em
Early Childhood with Em
Open In TikTok:
Region: AU
Tuesday 20 January 2026 22:36:10 GMT
258
3
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @earlychildhoodwithem, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

Series (90/120) Come, let's prostrate in the state of ecstasy — they say Saghar doesn't even remember God. ساغر صدیقیؔ — وہ شاعر جس کی زندگی خود اس کے کلام سے زیادہ دردناک تھی۔ ۱۹۲۸ میں انبالہ میں پیدا ہونے والے محمد اختر نے شاعری کو اپنا مسلک بنا لیا، مگر تقدیر نے انہیں کبھی سکون نہ دیا۔ تقسیم کے بعد لاہور آئے، فلموں اور ادبی رسالوں کے ذریعے شہرت تو ملی، مگر معاشی تباہی، دوستوں کی بے وفائی، اور نشے کی لت نے انہیں سڑکوں پر لا کھڑا کیا۔ داتا دربار کے پاس، موم بتیوں کی روشنی میں مشاعرے کرتے، وہ خود ایک معمہ بن گئے — جسے سب جانتے تھے مگر کوئی نہ پہچانتا تھا۔ ۴۶ سال کی عمر میں لاہور کی ایک سڑک پر ان کی لاش ملی، اور موت کے بعد ان کی شاعری امر ہوگئی۔ انکی ایک غزل، جو کہ انکے سوانح حیات اس طرح بیان کرتی ہے، جیسے صدیقی صاحب نے اپنی زندگی بسر کی؛  صدیقی صاحب کہتے ہیں؛  ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں میرے نغمات کو انداز نوا یاد نہیں ہم نے جن کے لیے راہوں میں بچھایا تھا لہو ہم سے کہتے ہیں وہی عہد وفا یاد نہیں زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں میں نے پلکوں سے در یار پہ دستک دی ہے میں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیں کیسے بھر آئیں سر شام کسی کی آنکھیں کیسے تھرائی چراغوں کی ضیا یاد نہیں صرف دھندلائے ستاروں کی چمک دیکھی ہے کب ہوا کون ہوا کس سے خفا یاد نہیں آؤ اک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں لوگ کہتے ہیں کہ ساغرؔ کو خدا یاد نہیں Poet: Saghar Siddiqui #Ahmadfarooq #aesthetic #Love #Emotions #urdupoetry
Series (90/120) Come, let's prostrate in the state of ecstasy — they say Saghar doesn't even remember God. ساغر صدیقیؔ — وہ شاعر جس کی زندگی خود اس کے کلام سے زیادہ دردناک تھی۔ ۱۹۲۸ میں انبالہ میں پیدا ہونے والے محمد اختر نے شاعری کو اپنا مسلک بنا لیا، مگر تقدیر نے انہیں کبھی سکون نہ دیا۔ تقسیم کے بعد لاہور آئے، فلموں اور ادبی رسالوں کے ذریعے شہرت تو ملی، مگر معاشی تباہی، دوستوں کی بے وفائی، اور نشے کی لت نے انہیں سڑکوں پر لا کھڑا کیا۔ داتا دربار کے پاس، موم بتیوں کی روشنی میں مشاعرے کرتے، وہ خود ایک معمہ بن گئے — جسے سب جانتے تھے مگر کوئی نہ پہچانتا تھا۔ ۴۶ سال کی عمر میں لاہور کی ایک سڑک پر ان کی لاش ملی، اور موت کے بعد ان کی شاعری امر ہوگئی۔ انکی ایک غزل، جو کہ انکے سوانح حیات اس طرح بیان کرتی ہے، جیسے صدیقی صاحب نے اپنی زندگی بسر کی؛ صدیقی صاحب کہتے ہیں؛ ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں میرے نغمات کو انداز نوا یاد نہیں ہم نے جن کے لیے راہوں میں بچھایا تھا لہو ہم سے کہتے ہیں وہی عہد وفا یاد نہیں زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں میں نے پلکوں سے در یار پہ دستک دی ہے میں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیں کیسے بھر آئیں سر شام کسی کی آنکھیں کیسے تھرائی چراغوں کی ضیا یاد نہیں صرف دھندلائے ستاروں کی چمک دیکھی ہے کب ہوا کون ہوا کس سے خفا یاد نہیں آؤ اک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں لوگ کہتے ہیں کہ ساغرؔ کو خدا یاد نہیں Poet: Saghar Siddiqui #Ahmadfarooq #aesthetic #Love #Emotions #urdupoetry

About