@treasure.raiders: #treasure #gold

Treasure Raiders
Treasure Raiders
Open In TikTok:
Region: US
Saturday 24 January 2026 13:58:34 GMT
7387
126
4
8

Music

Download

Comments

al.eka64
al eka :
Вот бы фотки всей этой красоты после чистки((
2026-01-30 08:43:44
0
ramzan.sager.ak.4
Ramzan sager ak 47 :
🥰
2026-02-07 02:23:55
0
user281460581922
⚽ :
🥰
2026-02-08 17:47:12
0
rrboxing__team
rrboxing__team :
Мы тоже хотим найти
2026-01-27 16:44:51
0
To see more videos from user @treasure.raiders, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

نصیبوں کے ہاتھوں ہاری ہوئی بیٹیاں اُن قیدیوں کی طرح ہوتی ہیں جو کھلا دروازہ دیکھ کر بھی بھاگتی نہیں۔ اس لیے نہیں کہ اُنہیں آزادی پسند نہیں ہوتی، بلکہ اس لیے کہ وہ جانتی ہیں، ہر کھلا دروازہ کسی محفوظ منزل تک نہیں جاتا۔ بعض اوقات گھر چھوڑنے سے بڑا دکھ یہ ہوتا ہے کہ باہر کوئی ایسا گھر نہیں ہوتا جو انہیں اپنا کہہ کر قبول کر لے۔ وہ خاموش رہتی ہیں، برداشت کرتی ہیں، اپنے آنسو تکیوں میں چھپا دیتی ہیں، اپنی خواہشوں کو دل ہی دل میں دفن کر دیتی ہیں، کیونکہ انہیں بچپن سے یہی سکھایا جاتا ہے کہ بیٹی کو ہر حال میں نبھانا ہے۔ وہ ٹوٹتی ہیں، مگر آواز نہیں کرتیں۔ وہ روتی ہیں، مگر دوسروں کو پریشان نہ کرنے کے لیے مسکرا دیتی ہیں۔ ان کے نصیب کا سب سے بھاری بوجھ صرف دکھ نہیں ہوتا، بلکہ وہ احساس ہوتا ہے کہ اگر یہ در بھی چھوڑ دیا، تو شاید کہیں اور جگہ نہ ملے۔ یہی خوف انہیں ہر تکلیف، ہر بے قدری اور ہر خاموش ظلم کے ساتھ جینے پر مجبور کر دیتا ہے۔ مگر یاد رکھنا... اللہ نے بیٹی کو ذلت سہنے کے لیے نہیں بنایا، بلکہ عزت کے ساتھ جینے کے لیے پیدا کیا ہے۔ اسلام نے عورت کو عزت، وقار اور حقوق دیے ہیں۔ کوئی بھی گھر، کوئی بھی رشتہ یا کوئی بھی معاشرہ اسے اس کی انسانیت سے محروم کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ ہر بیٹی کے دل میں ایک ہی دعا ہوتی ہے...
نصیبوں کے ہاتھوں ہاری ہوئی بیٹیاں اُن قیدیوں کی طرح ہوتی ہیں جو کھلا دروازہ دیکھ کر بھی بھاگتی نہیں۔ اس لیے نہیں کہ اُنہیں آزادی پسند نہیں ہوتی، بلکہ اس لیے کہ وہ جانتی ہیں، ہر کھلا دروازہ کسی محفوظ منزل تک نہیں جاتا۔ بعض اوقات گھر چھوڑنے سے بڑا دکھ یہ ہوتا ہے کہ باہر کوئی ایسا گھر نہیں ہوتا جو انہیں اپنا کہہ کر قبول کر لے۔ وہ خاموش رہتی ہیں، برداشت کرتی ہیں، اپنے آنسو تکیوں میں چھپا دیتی ہیں، اپنی خواہشوں کو دل ہی دل میں دفن کر دیتی ہیں، کیونکہ انہیں بچپن سے یہی سکھایا جاتا ہے کہ بیٹی کو ہر حال میں نبھانا ہے۔ وہ ٹوٹتی ہیں، مگر آواز نہیں کرتیں۔ وہ روتی ہیں، مگر دوسروں کو پریشان نہ کرنے کے لیے مسکرا دیتی ہیں۔ ان کے نصیب کا سب سے بھاری بوجھ صرف دکھ نہیں ہوتا، بلکہ وہ احساس ہوتا ہے کہ اگر یہ در بھی چھوڑ دیا، تو شاید کہیں اور جگہ نہ ملے۔ یہی خوف انہیں ہر تکلیف، ہر بے قدری اور ہر خاموش ظلم کے ساتھ جینے پر مجبور کر دیتا ہے۔ مگر یاد رکھنا... اللہ نے بیٹی کو ذلت سہنے کے لیے نہیں بنایا، بلکہ عزت کے ساتھ جینے کے لیے پیدا کیا ہے۔ اسلام نے عورت کو عزت، وقار اور حقوق دیے ہیں۔ کوئی بھی گھر، کوئی بھی رشتہ یا کوئی بھی معاشرہ اسے اس کی انسانیت سے محروم کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ ہر بیٹی کے دل میں ایک ہی دعا ہوتی ہے... "یا اللہ! مجھے ایک ایسا گھر عطا فرما جہاں مجھے بار بار خود کو ثابت نہ کرنا پڑے، جہاں میری خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، جہاں میری عزت میرے وجود سے وابستہ ہو، نہ کہ میری مجبوری سے۔" اور اگر دنیا کے کسی کونے میں کوئی بیٹی خود کو تنہا محسوس کر رہی ہے، تو اسے یہ ضرور یاد رکھنا چاہیے کہ اس کا آخری سہارا صرف دیواریں نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ ٹوٹے ہوئے دلوں کی آہ بھی سنتا ہے، اور بے آواز آنسو بھی دیکھتا ہے۔ بیٹی کا مقدر صرف برداشت کرنا نہیں، بلکہ عزت، محبت، سکون اور تحفظ کے ساتھ جینا بھی ہے۔ اس لیے امید کا دامن کبھی نہ چھوڑیں۔ اللہ کے فیصلوں میں ایسی رحمتیں ہوتی ہیں جو انسان کی تمام محرومیوں کو خوشیوں میں بدل سکتی ہیں۔ کیونکہ... ہر اندھیری رات کے بعد صبح ضرور آتی ہے، اور اللہ کے دروازے سے مایوس ہو کر لوٹنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ #UrduQuotes #EmotionalWriting #Daughters #Sabr #lifereality

About