آزاد کشمیر میں برف باری کو سوشل میڈیا پر جس طرح حسن خوبصورتی اور قدرتی نعمت بنا کر پیش کیا جاتا ہے وہ دراصل زمینی حقائق سے کھلا مذاق ہے..یہ حسن صرف اُن چند لوگوں تک محدود ہوتا ہے جن کی دنیا موبائل کی اسکرین، ویڈیوز اور فوٹوگرافی تک ختم ہو جاتی ہے ان شوخ لوگوں کو اس برف کے پیچھے چھپی اذیت بھوک بے بسی اور محرومی نظر ہی نہیں آتی ...برف پڑتے ہی آزاد کشمیر کے دور دراز علاقوں میں زندگی مفلوج ہو جاتی ہے بجلی غائب سڑکیں بند راستے مسدود نہ مریض ہسپتال پہنچ سکتا ہےنہ کوئی فوت ہوے کی ميت آسانی سے گھر تک پہنچتی... مزدور روزی کما نہیں سکتا ہے اور نا اس بیچارے کے پاس اتنے پیسے ہوتے ہیں کہ وہ مہینہ دو مہینے بیٹھ کر ارام سے کھا سکے ...بازاروں میں آٹا دال چاول جیسی بنیادی چیزیں نایاب ہو جاتی ہیں ...اور جو ملتی ہیں وہ غریب آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی ہیں
گیس سلنڈر شارٹ ہو جاتے ہیں لکڑیاں ختم ہو جاتی ہیں.. اور سردی میں جلانے کو کچھ نہ ملے تو انسان اپنی سانسیں بھی جلتی ہوئی محسوس کرتا ہے کچے مکانات میں رہنے والوں کے لیے یہ برف موت کا پیغام بن جاتی ہے چھتیں ٹپکنے لگتی ہیں دیواروں سے پانی رِسنے لگتا ہے کمروں میں برف پگھل کر جمع ہو جاتی ہے، اور اوتھرو کی مشقت الگ جو ہر شخص جسمانی طور پر نہیں کر سکتا... پینے کے پانی کے لیے عورتیں، بچے اور بوڑھے برف میں پھسلتے ہوئے میلوں دور جانے پر مجبور ہوتے ہیں چشمے جم جاتے ہیں نلکے بند ہو جاتے ہیں اور پانی جیسی بنیادی ضرورت بھی عیاشی بن جاتی ہے یہ وہ مناظر ہیں جو کسی ڈرون شاٹ، کسی ریل یا کسی “خوبصورت منظر” میں نظر نہیں آتے ..کہا جاتا ہے کہ برف زیرِ زمین پانی پورا کرتی ہےچلیں یہ بات مان لیتے ہیں مگر اس ایک مبہم فائدے کے بدلے اس خطے کے لوگوں کو کیا ملا؟ نہ کوئی حکومتی منصوبہ نہ ہنگامی انتظام نہ بروقت امداد نہ متبادل توانائی نہ خوراک کا ذخیرہ... ہر سال وہی لاپرواہی وہی بے حسی اور وہی دعائیں کہ اللہ خیر کرے ..اگر اس برف میں واقعی کوئی فائدہ ہے تو شاید وہ صرف سوشل میڈیا تک محدود ہےزمین پر بس آزمائش ہی آزمائش ہے..