@brett.farve5: Some F15A action Warthunder sim #f15 #fyp #warthunder #sim

Brett Farve
Brett Farve
Open In TikTok:
Region: US
Thursday 29 January 2026 08:23:15 GMT
1843
236
15
1

Music

Download

Comments

mayyoubewellman
SUN_TZU TikTok :
HE'S BAAAAAAAACK
2026-01-29 10:45:35
5
flyboiwt
𝙁𝙡𝙮𝙗𝙤𝙞𝙒𝙏™️ :
LETS GO FARVE🔥🔥
2026-01-29 19:16:12
2
literalyisaac
🐵literalyisaac🐵 :
It was already ruling 13.0 in sim but now it’s 12.7 which is insane 😭
2026-01-29 12:58:29
1
rexagares
Yagares :
Somehow this beast moved to 12.7
2026-01-29 09:03:09
2
j0nsai
Jonsai :
🔥🔥🔥
2026-01-29 21:00:59
1
wt_joystick_ace
wt_joystick_ace :
🔥🔥🔥🔥
2026-01-31 23:28:16
1
_japa_champs
Champsne :
🫡🛩️
2026-01-29 09:57:29
3
sid.theesloth
Luah :
I suck at sim😭
2026-01-29 13:21:21
1
To see more videos from user @brett.farve5, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

قلعہ ڈیراور کے گرد قدیم تہذیب کے خاموش آثار صحرائے چولستان کے دل میں ایستادہ قلعہ ڈیراور صرف ایک عظیم فوجی قلعہ نہیں، بلکہ اپنے گرد و نواح میں بکھرے آثار کے باعث ایک مکمل گمشدہ تہذیب کی داستان سناتا ہے۔ اس کے اطراف موجود قدیم بستی، کنواں اور مندر کی باقیات اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ یہ علاقہ کبھی انسانی آبادی، تجارت اور مذہبی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز رہا۔ 🏘️ قدیم ڈیراور بستی کی باقیات قلعے کے اطراف پھیلی مٹی کی ابھری ہوئی سطحیں، ٹوٹی اینٹیں اور گرے ہوئے ڈھانچے ایک ایسی بستی کا پتہ دیتے ہیں جہاں کبھی زندگی اپنے عروج پر تھی۔ یہ مقام سپاہیوں، تاجروں، کاریگروں اور مسافروں کی گزرگاہ تھا۔ یہاں چھوٹے بازار، رہائشی مکانات اور قیام گاہیں موجود تھیں، مگر وقت کی گرد نے اس پوری آبادی کو خاموش کھنڈرات میں بدل دیا۔ ⛲ قدیم کھوہ — صحرا کی زندگی کا سہارا قلعے کی شمال مشرقی سمت واقع یہ قدیم کنواں اس خطے کی بقا کا بنیادی ذریعہ تھا۔ خشک اور بے آب صحرا میں یہی کھوہ قافلوں، فوجیوں اور مقامی آبادی کے لیے پانی مہیا کرتا تھا۔ اس کی گول ساخت، سرخ پکی اینٹوں اور چونے کی مضبوط تعمیر اس زمانے کے فنِ تعمیر اور آبی حکمتِ عملی کی بہترین مثال ہے۔ 🛕 قدیم مندر کی باقیات قلعہ ڈیراور کے قریب موجود مندر کی باقیات اس خطے کی مذہبی اور تہذیبی تنوع کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مقامی روایات اسے قدیم ہندو تہذیب سے جوڑتی ہیں اور بعض روایات میں اسے بھگوان شیو سے منسوب کیا جاتا ہے۔ آج یہ مندر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، مگر اس کی باقی ماندہ دیواریں ماضی کی تہذیبی عظمت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ 📍 محلِ وقوع یہ تمام آثار صحرائے چولستان میں واقع ہیں، جو Bahawalpur سے تقریباً سو کلومیٹر جنوب اور Ahmadpur East سے اڑتالیس کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہیں۔ 📜 تاریخی پس منظر قلعہ ڈیراور کی بنیاد نویں صدی عیسوی میں بھٹی راجپوت حکمران راول دیوراج نے رکھی۔ اس زمانے میں یہ علاقہ دریائے ہاکڑہ کے باعث زرخیز اور آباد تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے گرد پھیلی یہ باقیات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ڈیراور صرف دفاعی مرکز نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیبی شہر تھا۔ حوالہ نوٹ: یہ معلومات مقامی تاریخی روایات، چولستانی آثار اور دستیاب تحقیقی مواد کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہیں۔ ⚠️ وضاحتی نوٹ: Pakistan Heritage کا مقصد قلعہ ڈیراور اور اس کے گرد موجود آثار کی تاریخی و تہذیبی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ اس تحریر میں بیان کردہ مذہبی و ثقافتی حوالہ جات صرف تاریخی تناظر میں شامل کیے گئے ہیں تاکہ ماضی کی تہذیبوں کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔ #PakistanHeritageInfo #DerawarFort #CholistanDesert #AncientCivilization #PakistanHistor
قلعہ ڈیراور کے گرد قدیم تہذیب کے خاموش آثار صحرائے چولستان کے دل میں ایستادہ قلعہ ڈیراور صرف ایک عظیم فوجی قلعہ نہیں، بلکہ اپنے گرد و نواح میں بکھرے آثار کے باعث ایک مکمل گمشدہ تہذیب کی داستان سناتا ہے۔ اس کے اطراف موجود قدیم بستی، کنواں اور مندر کی باقیات اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ یہ علاقہ کبھی انسانی آبادی، تجارت اور مذہبی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز رہا۔ 🏘️ قدیم ڈیراور بستی کی باقیات قلعے کے اطراف پھیلی مٹی کی ابھری ہوئی سطحیں، ٹوٹی اینٹیں اور گرے ہوئے ڈھانچے ایک ایسی بستی کا پتہ دیتے ہیں جہاں کبھی زندگی اپنے عروج پر تھی۔ یہ مقام سپاہیوں، تاجروں، کاریگروں اور مسافروں کی گزرگاہ تھا۔ یہاں چھوٹے بازار، رہائشی مکانات اور قیام گاہیں موجود تھیں، مگر وقت کی گرد نے اس پوری آبادی کو خاموش کھنڈرات میں بدل دیا۔ ⛲ قدیم کھوہ — صحرا کی زندگی کا سہارا قلعے کی شمال مشرقی سمت واقع یہ قدیم کنواں اس خطے کی بقا کا بنیادی ذریعہ تھا۔ خشک اور بے آب صحرا میں یہی کھوہ قافلوں، فوجیوں اور مقامی آبادی کے لیے پانی مہیا کرتا تھا۔ اس کی گول ساخت، سرخ پکی اینٹوں اور چونے کی مضبوط تعمیر اس زمانے کے فنِ تعمیر اور آبی حکمتِ عملی کی بہترین مثال ہے۔ 🛕 قدیم مندر کی باقیات قلعہ ڈیراور کے قریب موجود مندر کی باقیات اس خطے کی مذہبی اور تہذیبی تنوع کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مقامی روایات اسے قدیم ہندو تہذیب سے جوڑتی ہیں اور بعض روایات میں اسے بھگوان شیو سے منسوب کیا جاتا ہے۔ آج یہ مندر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، مگر اس کی باقی ماندہ دیواریں ماضی کی تہذیبی عظمت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ 📍 محلِ وقوع یہ تمام آثار صحرائے چولستان میں واقع ہیں، جو Bahawalpur سے تقریباً سو کلومیٹر جنوب اور Ahmadpur East سے اڑتالیس کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہیں۔ 📜 تاریخی پس منظر قلعہ ڈیراور کی بنیاد نویں صدی عیسوی میں بھٹی راجپوت حکمران راول دیوراج نے رکھی۔ اس زمانے میں یہ علاقہ دریائے ہاکڑہ کے باعث زرخیز اور آباد تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے گرد پھیلی یہ باقیات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ڈیراور صرف دفاعی مرکز نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیبی شہر تھا۔ حوالہ نوٹ: یہ معلومات مقامی تاریخی روایات، چولستانی آثار اور دستیاب تحقیقی مواد کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہیں۔ ⚠️ وضاحتی نوٹ: Pakistan Heritage کا مقصد قلعہ ڈیراور اور اس کے گرد موجود آثار کی تاریخی و تہذیبی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ اس تحریر میں بیان کردہ مذہبی و ثقافتی حوالہ جات صرف تاریخی تناظر میں شامل کیے گئے ہیں تاکہ ماضی کی تہذیبوں کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔ #PakistanHeritageInfo #DerawarFort #CholistanDesert #AncientCivilization #PakistanHistor

About