@sunainah__: 💃

sunainahh
sunainahh
Open In TikTok:
Region: PK
Thursday 29 January 2026 16:21:12 GMT
53775
6585
0
312

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @sunainah__, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

:راتوں کو جب نیند روٹھ جائے تو پاس سوئے لوگوں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ آخر یہ کیسے اتنی آسانی سے سو جاتے ہیں۔ دل چاہتا ہے وہ پرانی راتیں لوٹ آئیں جب میں وقت پر سو جایا کرتا تھا، جب نیند کے لیے کسی جدوجہد کی ضرورت نہیں ہوتی تھی نہ ہی سوچوں کے بے کنار سمندر سے گزرنا پڑتا تھا۔ بس بستر پر جاتے ہی ایک گہری بے فکری نیند اپنی آغوش میں لے لیتی تھی اور دنیا سے کوئی سروکار نہ رہتا تھا۔ نرم تکیے پر سر رکھتے ہی سكون مل جاتا تھا اور نیند اس قدر عزیز تھی کہ اس سے بڑھ کر کچھ بھی پسندیدہ نہ تھا۔ ہر خوشی ہر تقریب ہر مصروفیت سے زیادہ قیمتی میرے لیے نیند ہی ہوا کرتی تھی۔ پھر ایک دن زندگی نے کروٹ لی اور سب کچھ بدل گیا۔ رنگ ماند پڑ گئے، ترتیب بکھر گئی معنی کھو گئے، اور رویوں میں اجنبیت سی آ گئی۔ یوں لگا جیسے میں نے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے اندر کی روشنی بجھا دی ہو۔ سب سے پہلے اپنا پن کھویا پھر سکون پھر اپنی ذات اپنی خوشیاں اور وہ سب رونقیں جو مجھ سے وابستہ تھیں۔ سچ تو یہ ہے کہ میں ہمیشہ رشتوں کو سنبھالنے اور اپنانے کی کوشش میں کہیں نہ کہیں ہار گیا، اور یہ بھی سمجھ آ گیا کہ کسی کو زبردستی اپنا نہیں بنایا جا سکتا۔ اب حال یہ ہے کہ نیند آنکھوں سے کوسوں دور ہو چکی ہے، اور بے چینی نے ٹھکانہ بنا لیا ہے۔ مگر کہیں دل کے کسی کونے میں یہ یقین بھی ہے کہ ایک دن یہ درد یہ اذیت یہ بے سکونی ختم ہو جائے گی۔ شاید اس دن جب میں اپنے اصل گھر لوٹ جاؤں گا، دو گز زمین کے نیچے سفید کفن میں لپٹا دنیا کی ساری تھکن اور دکھ یہیں چھوڑ کر۔ تب شاید کچھ لوگ سکون سے سو جائیں گے، اور کچھ کی آنکھوں سے نیند ہمیشہ کے لیے چھن جائے گ
:راتوں کو جب نیند روٹھ جائے تو پاس سوئے لوگوں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ آخر یہ کیسے اتنی آسانی سے سو جاتے ہیں۔ دل چاہتا ہے وہ پرانی راتیں لوٹ آئیں جب میں وقت پر سو جایا کرتا تھا، جب نیند کے لیے کسی جدوجہد کی ضرورت نہیں ہوتی تھی نہ ہی سوچوں کے بے کنار سمندر سے گزرنا پڑتا تھا۔ بس بستر پر جاتے ہی ایک گہری بے فکری نیند اپنی آغوش میں لے لیتی تھی اور دنیا سے کوئی سروکار نہ رہتا تھا۔ نرم تکیے پر سر رکھتے ہی سكون مل جاتا تھا اور نیند اس قدر عزیز تھی کہ اس سے بڑھ کر کچھ بھی پسندیدہ نہ تھا۔ ہر خوشی ہر تقریب ہر مصروفیت سے زیادہ قیمتی میرے لیے نیند ہی ہوا کرتی تھی۔ پھر ایک دن زندگی نے کروٹ لی اور سب کچھ بدل گیا۔ رنگ ماند پڑ گئے، ترتیب بکھر گئی معنی کھو گئے، اور رویوں میں اجنبیت سی آ گئی۔ یوں لگا جیسے میں نے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے اندر کی روشنی بجھا دی ہو۔ سب سے پہلے اپنا پن کھویا پھر سکون پھر اپنی ذات اپنی خوشیاں اور وہ سب رونقیں جو مجھ سے وابستہ تھیں۔ سچ تو یہ ہے کہ میں ہمیشہ رشتوں کو سنبھالنے اور اپنانے کی کوشش میں کہیں نہ کہیں ہار گیا، اور یہ بھی سمجھ آ گیا کہ کسی کو زبردستی اپنا نہیں بنایا جا سکتا۔ اب حال یہ ہے کہ نیند آنکھوں سے کوسوں دور ہو چکی ہے، اور بے چینی نے ٹھکانہ بنا لیا ہے۔ مگر کہیں دل کے کسی کونے میں یہ یقین بھی ہے کہ ایک دن یہ درد یہ اذیت یہ بے سکونی ختم ہو جائے گی۔ شاید اس دن جب میں اپنے اصل گھر لوٹ جاؤں گا، دو گز زمین کے نیچے سفید کفن میں لپٹا دنیا کی ساری تھکن اور دکھ یہیں چھوڑ کر۔ تب شاید کچھ لوگ سکون سے سو جائیں گے، اور کچھ کی آنکھوں سے نیند ہمیشہ کے لیے چھن جائے گ

About